Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ماضی کی گواہی،1947ء کے سانحے کی عکاسی

(گزشتہ سے پیوستہ)
ہماری گاڑی اتوار کی صبح دہلی کے لئے روانہ ہوئی۔پاکستان کی سرحد عبورکرنے کے بعد جابجا ایسے مناظربکھرے پڑے تھے جو لاہورکی لٹی پٹی ٹرین سے کہیں زیادہ ہولنا ک اوردہلادینے والے تھے۔ گدھ ہرگائوں کے قریب سے گزرنے والی ریلوے کی پٹری پر اکٹھے ہورہے تھے،کتے انسانی لاشوں کوبھنبھوڑرہے تھے اورفیروزپورکے مکانات سے ابھی تک شعلے اٹھ رہے تھے۔ جب ہماری ریل بٹھنڈاپہنچی تومجھے ریل سے ذرا فاصلے پرانسانی لاشوں کاایک ڈھیرنظرآیا۔میرے دیکھتے ہی دیکھتے پولیس کے دو سپاہی وہاں مزیدلاشوں سے لدی بیل گاڑی لائے جولاشوں کے ڈھیرپر ڈال دی گئی۔ اس ڈھیرپرایک زندہ انسان کراہ رہاتھا۔سپاہیوں نے اسے دیکھالیکن وہ اپنی لائی ہوئی لاشیں ڈھیر پرپھینک کرسسکتے اورکراہتے انسان کو وہیں چھوڑ کر چلتے بنے‘‘۔ مزید لکھتاہے:’’فیروزپورسے ہجرت کرتے ہوئے ایک لٹاپِٹاقافلہ جب ایک جگہ سستانے کے لئے رکاتواچانک سکھوں نے حملہ کردیا۔ ایک عورت کی گود میں پانچ چھ ماہ کابچہ تھا ۔ ایک وحشی درندے نے وہ بچہ ماں کی گود سے چھین کرہوامیں اچھالااورپھراس کی کرپان ننھے معصوم کے سینے میں ترازوہوگئی اوراس کا پاکیزہ خون اس وحشی درندے کے کراہت آمیز چہرے پرٹپ ٹپ گرنے لگا ۔بچے کے تڑپتے جسم کوماں کے سامنے لہراکردرندے نے کہالو!یہ ہے تمہاراپاکستان۔ جب ماں نے اپنے جگرگوشے کونوکِ سناپہ سجے دیکھا تو اس کادل بھی دھڑکنابھول گیااوراس نے بھی وہی دم دے دیا‘‘۔ڈیلی میل کایہ نمائندہ خصوصی آگے چل کرلکھتا ہے۔ ’’ٹھنڈا سٹیشن پرہم نے جو آخری نظارہ دیکھاوہ انتہائی کریہہ، گھنائوناا ور انسانیت سوزتھا۔ جونہی ہماری ٹرین چلی،ہم نے دیکھا کہ چارسکھ چھ مسلمان لڑکیوں کوانتہائی بے دردی سے زدوکوب کرتے ہوئے ان کی سرعام عصمت دری کررہے ہیں۔دو لڑکیوں کوتوانہوں نے ہماری آنکھوں کے سامنے ذبح بھی کرڈالا۔ (بحوالہ: خون مسلم ارزاں ہے۔ازڈاکٹر سعیداحمد ملک)’’امرتسرکی صورتِ حال بھی باقی جگہوں سے کچھ مختلف نہ تھی۔ہرطرف قتل وغارت،آتش زنی اورلوٹ مارکابازارگرم تھا۔15 اگست کی صبح نو بجے کے قریب تقریباً5سوبلوائیوں نے ہندو،سکھ پولیس اورفوج کے ساتھ مل کرکوچہ رنگریزاں پرحملہ کردیا اوراس کے تمام مسلمان باسیوں کوتہِ تیغ کردیا۔ دوسرے دن جب ایک مجسٹریٹ کے ساتھ اس محلے کامعائنہ کیا گیاتوگلی کوچوں میں لاشوں کے سوا کچھ نہ تھا۔مکانوں کے اندرجھانکاتووہ بھی لاشوں سے اٹے پڑے تھے۔ایک مسجد کے اندر نظر ڈالی تووہا ں بھی متعددلاشیں نظرآئیں مگروہ سب نوجوان لڑکیوں کی لاشیں تھیں۔امتِ مسلمہ کی ناموس کی 46 برہنہ لاشیں۔ان کے گلے کٹے ہوئے تھے۔ ان کی حالت بتارہی تھی کہ ذبح کرنے سے پہلے ان کی عصمت دری کی گئی تھی۔دیہات سے آنے والے لوگوں نے بتایاکہ کپورتھلہ اورپٹیالہ کے ریاستی فوجی موٹرگاڑیاں لے کرآتے اورہماری نوجوان لڑکیوں کوزبردستی اٹھا کرلے جاتے۔ کچھ عورتیں جان بچاکردروازہ مہان سنگھ سے شریف پورہ کی طرف آرہی تھیں۔انہیں بلوائیوں اور ہندو سکھ فوجیوں نے دن دیہاڑے سڑک پر سے اٹھا لیا۔ کوئی نہیں جانتاکہ امتِ مسلمہ کی ان بیٹیوں کاکیا بنا‘‘۔’’اسی طرح 3ستمبر1947ء تک دہلی کے نواحی دیہات میں بھی فساد ات شروع ہوچکے تھے اورجلدہی دہلی شہربھی ان کی لپیٹ میں آگیایعنی اب دہلی میں بھی مسلمانوں کاقتل عام شروع ہوچکا تھا۔گلی گلی،محلے محلے مسلمانوں کی لاشیں بکھری ہوئی نظر آتیں۔ 5ستمبرکوقرول باغ میں امتحانی ہال کے باہران تمام مسلمان بچوں کوقتل کردیا گیا جو میٹرک کا امتحان دینے آئے تھے۔ہرطرف مسلمان قتل کئے جا رہے تھے، سامان لوٹاجا رہا تھااورمکان جلائے جارہے تھے۔ سبزی منڈی کے علاقے میں پٹیل کے اشارے پر گورکھا فوج نے 3 ہزار مسلمانوں کوانتہائی بیدردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتاردیا۔ایک عینی شاہدنے بتایا 9 ستمبر تک دہلی کے واٹرورکس اور فیروز شاہ کوٹلہ کے درمیان کم ازکم 10ہزار لاشوں کاڈھیرلگ چکاتھا جوٹرکوں میں بھربھرکر وہاں لائی گئیں تھیں ۔ شام کوسات بجے ان تمام لاشوں کوپٹرول ڈال کرجلا دیا گیا۔اس جلتے ہوئے انسانی جسموں کے الاکی روشنی دور تک دیکھی جاسکتی تھی۔چاراور چودہ ستمبرکے درمیان بیس سے پچیس ہزارتک مسلمان مارے جا چکے تھے۔1947ء کے قتل وغارت گری کی داستان بہت لمبی ہے۔ایک اندازے کے مطابق کم ازکم دس لاکھ مسلمانوں کوصفحہ ہستی سے مٹا دیاگیا۔ 1941ء کی مردم شماری کے مطابق پٹیالہ، کپورتھلہ، فریدکوٹ، جنڈاور نابھہ کی ریاستوں میں8لاکھ33 ہزارمسلمان آباد تھے۔ ان میں سے اکثرکواگست ستمبر1947ء میں نیست ونابود کر دیاگیا۔صرف پٹیالہ سے ڈھائی لاکھ مسلمان غائب ہوگئے جن کاکوئی نام ونشان نہیں۔کپورتھلہ میں شائدہی کوئی مسلمان زندہ بچاہو۔یادرہے کہ ریاست کپورتھلہ میں مسلمان اکثریت میں تھے اور1941ء کی مردم شماری کے مطابق ان کی تعداد 2لاکھ 13ہزار 7سو 54 تھی۔ 15ستمبر1947ء کوایک لاکھ مسلمان مہاجرین کاایک قافلہ اریسہ سے روانہ ہوا۔اتنی بڑی تعداد کوختم کرنا آسان نہ تھا۔لہٰذاپہلے انہیں بھالوں، کرپانوں اوربندوقوں سے ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہزاروں مسلمان مارے گئے لیکن پھربھی ہزاروں زندہ بچ گئے۔ چنانچہ ہندوسکھ فوجیوں کے ٹرک بھیجے گئے جو منظم طریقوں سے ڈیڑھ گھنٹے تک مسلمانوں کا قتلِ عام کرتے رہے۔ایک لاکھ کے قافلے میں سے صرف چندہزاربچ کرپاکستان پہنچ سکے۔96 ہزار مسلمان قتل کردیئے گئے۔( خونِ مسلم ارزاں ہے۔ از ڈاکٹر سعید احمد ملک )دوستو!تحریک پاکستان صرف انہی چند واقعات کانام نہیں۔یہ توان ہزاروں میں سے چند ایک ہیں جوکتابوں میں درج ہیں۔ان کے علاوہ ہزاروں اوربھی ہیں جوسنے اورسنائے تو گئے لیکن کسی رسالے یاکتاب کاحصہ نہ بن سکے اوران کے علاوہ ہزاروں وہ ہیں جومرنے والے اپنے سینوں میں اپنے ساتھ ہی لے گئے۔ پہلاسوال جوذہن میں ابھرتاہے وہ یہ ہے کہ ہمارے آبااجدادنے کس مقصدکے لئے قربانیاں دیں؟کیایہ سب کچھ کسی سیکولر معاشرے کے قیام کے لئے تھا؟یاکیا یہ سب کچھ کسی معاشی تحفظ اورترقی کے لئے تھا؟اوراگر ایسا تھاتو کیامجوزہ پاکستان میں ہندوستان کی نسبت زیادہ دودھ اورشہدکی نہریں بہہ رہی تھیں؟ کیاپاکستان کامطلب کیا؟لاالہ الا اللہ! کے نعرے کے سوا کسی اورنعرے پراس قدرتعداد میں مسلمانانِ ہند لبیک کہہ سکتے تھے؟کیامال،معیشت، سیکولرازم، نیشنل ازم وغیرہ کے نام پرکروڑوں لوگوں کاکوئی گروہ،اوروہ بھی پسماندہ ترین،اتنی قربانیاں اوراتناجوش وخروش دے اوردِکھاسکتاہے؟ نہیں! ہرگزنہیں!اتنی قربانیاں کوئی گروہ صرف اپنے وطن اوراپنے مذہب کی حرمت اورتحفظ کی خاطرہی دے سکتاہے!اب سوال یہ ہے کہ کیاہم وہ مقصدحاصل کرسکے ہیں؟کیایہ وہی پاکستان ہے اورویسا ہی پاکستان ہے جس کاخواب ہمارے آباؤاجدادنے دیکھاتھا؟اگرنہیں توکیا یہ ان شہیدوں کے خون سے غداری نہیں؟اورکیا اس غداری پر ہمیں معاف کردیا جائے گا؟
نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور
موت کیا شے ہے، فقط عالم معنی کاسفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیساسے نہ مانگ
قدروقیمت میں ہے خوں جن کاحرم سے بڑھ کر

یہ بھی پڑھیں