Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

ذہنی مریض

اللہ نے وطن اورگھرکی محبت انسان ہی نہیں درندوں اورپرندوں کے دل میں بھی پیدافرمائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درندے اپنی غار اورپرندے اپنے گھونسلے کے ایک ایک تنکے کی حفاظت کرتے ہیں اورہر جاندار شام کواپنے ٹھکانے کی طرف پلٹتاہے۔کوئی جانداراپنے گھراوروطن کوچھوڑنے کے لئے تیارنہیں ہوتالیکن جب کسی کواس قدرستا یاجائے کہ اسے اپنی جان کے لالے پڑ جائیں تو وہ ہرچیزچھوڑنے کے لئے تیارہوجاتا ہے۔ بس یہی ایک عمل ہے کہ دیارِغیرمیں جب وطن کی یادبہت ستاتی ہے تواپنی اس فرقت کاغم دورکرنے کے لئے کوئی ایسا کندھاتلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جہاں سررکھ کراپنے دل کابوجھ ہلکاکرسکیں۔
اسی سلسلے میںکچھ دوستوں نے’’ایکس سپیس‘‘ پروطن کویادکرنے کاایک بہت ہی خوبصورت اہتمام کرتے ہوئے فیصلہ کیاکہ سوشل میڈیاکاٹرینڈ بدلتے ہوئے ارضِ وطن کے متعلق مستندتاریخی شواہدکے ساتھ نوجوان نسل کوان حقائق سے ضرورآگاہ کیاجائے تاکہ علم ہوسکے کہ دوقومی نظریہ کیاہے،پاکستان کس لئے معرضِ وجود میں آیا،اگر پاکستان نہ بنتاتو،قیامِ پاکستان کے وقت اغیارکی سازشیں،مشاہیران پاکستان کاکردار،قیامِ پاکستان کے وقت اس صدی کی ہجرت اورلازوال قربانیوں کے پیچھے پنہاں بے مثال دکھ اوردرد اوراپنے رب سے کئے گئے اوفوبالعہدکی عہدشکنی پرآج مبتلا مصائب پربے لاگ گفتگوکرنے کے لئے اگست کاپورا مہینہ وقف کر دیا گیااوراس منفردپروگرام کے انعقادکے لئے ڈاکٹرفریداختر کی اس منفردتجویزپرایک دن مجھے اچانک برادرم شاکرقریشی نے نے اسپیس پرلیکچرز دینے کے لئے اصرارکرناشروع کردیا ۔میں نے نہ صرف ان کومبارکباددی بلکہ خودکوبھی اس کے لئے آمادہ کرنے کی کوشش شروع کردی۔
جب پروگرام کاسلسلہ شروع ہواتودلچسپی کایہ عالم ہوگیاکہ ہمدردوبیدارذہن اورپڑھے لکھے دوستوں کے سوال وجواب سے کئی نئے عنوانات جنم لیتے گئے اوریہ سلسلہ تاحال جاری وساری ہے۔اس پروگرام میں نصف درجن سے زائدممالک میں بسنے والے کثیر دوستوں کی رات گئے تک شرکت اس بات کی گواہی دینے لگی کہ:
نہیں ہے ناامید اقبالؒ اپنی کشت ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
کینیڈاسے دردِ دل رکھنے والے نعیم صاحب، نجیب بٹ ،امریکاسے مرزا صاحب، سعودی عرب اوریواے ای سے احسن یعقوب اورمضبوط دلائل کے ساتھ نویداحدنے اس میں بھرپورحصہ لیتے ہوئے اشتیاق کاایسا منظر باندھاکہ اسپیس کے بارے میں کئی اہل علم اورمختلف اداروں نے مجھ سے یہ سلسلہ جاری رکھنے کی فرمائش کردی اورابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے الحمداللہ۔
تاریخ اس کی گواہ ہے کہ دوقومی نظریہ کی بنیاد پر ارضِ پاکستان کے حصول کے لئے مشاہیرانِ پاکستان نے جودرست فیصلہ کیا، آج وقت ان کے صحیح اوربروقت فیصلے کی نہ صرف گواہی دے رہاہے بلکہ پاکستان میں بسنے والے تمام افرادان کے گراں قدر احسانات کے ممنون بھی ہیں۔جب ہندوستان میں انگریزکورخصت کرنے کاوقت آیاتو مسلمانوں نے کیونکہ ہندوستان میں کئی سوسال حکومت کی تھی،انگریزکی غلامی توایک سازش کے تحت قبول کرنی پڑی لیکن انگریزاور ہندو کی مشترکہ دوستی اورمسلم دشمنی کوہمارے اکابرین نے وقت سے پہلے بھانپ لیااوریہی وجہ ہے کہ مشاہیرانِ پاکستان نے ایک الگ وطن کامطالبہ دوقومی نظریہ کی بنیادپراس لئے رکھاکہ انگریزکے جانے کے بعد ہمیں اس ہندوقوم سے واسطہ پڑنے والاتھاجن کے خودساختہ مذہب نے انسانوں کے درمیان بھی تقسیم پیدا کررکھی تھی اورانہوں نے اللہ کے بندوں کوکم ازکم چارمختلف قوموں میں اس طرح بانٹ رکھاتھاجس سے ہرروزانسانیت کی تذلیل ہوتی ہے۔
بھارت میں ذات پات پر مبنی نظام سے ہم سبھی واقف ہیں۔یہ نظام ہندوسماج میں طبقاتی تضاد کو ظاہر کرتاہے۔ذات پات کایہ رواج آریااپنے ساتھ لے کرآئے،جووقت کے ساتھ مختلف شکلوں میں تشکیل پاتارہا۔یہ نظام نام نہاداونچی ذاتوں (برہمن،کھشتری اورویش)کے ارکان کے حق کومزیدمضبوط کرتاہے جبکہ نچلی ذاتوں (شودر،دلت)کے ساتھ تذلیل پرمبنی سلوک کوجائزقراردیتے ہوئے ان کے لئے نیچ اورکم اہمیت کے حامل پیشوں کو مخصوص کرتاہے۔
جدیددورمیں بھی اس نظام کی تعریف کے مطابق ہندوئوں کوچارمختلف طبقات میں تقسیم کیاگیا ہے جن میں سب سے اونچادرجہ برہمنوں کودیاگیا ہے۔ تنزلی کے اعتبارسے کھشتری (جنگجواورحکمران) دوسرے، ویش (کسان اور تجارت)تیسرے جب کہ شودر (مزدور) چوتھے درجے پرہیں۔یہ تعریفیں ہندوؤں کی مقدس کتابوں خاص طور پر ’’منوسمرتی‘‘سے لی گئی ہیں۔شودریااچھوت اوراب نیانام’’دلت‘‘جوسب سے نچلی ذات ہے اوران کے ساتھ نہایت غیرانسانی سلوک روارکھاجاتاہے۔آج یہ20 کروڑکی آبادی کے ساتھ ایسی اقلیت کی نمائندگی کرتے ہیں جسے مختلف طریقوں سے تعصب کاسامنااوران کی سماجی ترقی کی راہ میں مشکلات کھڑی کی جاتی ہیں۔ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی جہاں اپنی ملکی تاریخ کومسخ کرنے کے درپے ہے وہیں ملک میں اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ہرروزان نیچ ذات(دلت)کے افرادکوتشدد کا نشانہ بنایاجاتاہے۔
دلت کوغلیظ ترین کاموں میں الجھاکرانہیں ہرطرح سے کمزوررکھنے کی ملکی پالیسی تاکہ یہ کبھی طاقتوربن کرنہ ابھرسکیں۔ قانونا ًپابندی کے باوجوددلتوں کوانسانوں کے فضلہ کونالوں، سیوریج یاسیپٹک ٹینکوں سے ہاتھوںسے صاف کرنے پرمجبورکیاجاتاہے جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگوں کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ان کی بستیاں شہرسے الگ تھلگ ہیں۔حقوق انسانی کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق جولوگ غلاظت اٹھانے کاکام کرنے سے منع کرتے ہیں انہیں اعلیٰ ذات کے لوگوں کی طرف سے دھمکی اورزیادتی کا بھی سامناکرناپڑتاہے۔
مزیدبرآں ان نچلی ذات کے لوگوں کی کسی سیاسی جماعت میں نمائندگی نہیں،اس لئے ان کے مسائل کی کہیں بھی شنوائی نہیں۔ان کے ساتھ کھانا، شادیاں کرنامذہبی طورپرغلط مانا جاتاہے۔اس اقلیت کواعلیٰ تعلیم کا کوئی حق حاصل نہیں ہے،اس وجہ سے ان کو اعلیٰ عہدوں تک رسائی نہیں ملتی۔اگر کبھی کوئی ایسی جرات بھی کرے توہندوانتہاپسنداس پرظلم وستم کی انتہا کردیتے ہیں۔ظلم کی انتہا تویہ ہے کہ آج بھی ہندوستان میں کئی مقامات پراگرکسی شودرکے کان میں ہندوں کی مقدس کتاب کے اشلوک(الفاظ)سنائی دیں تواس کے کانوں میں پگھلاہواسیسہ ڈال دیاجاتاہے اوران کی عورتوں کی عصمت دری یہ کہہ کرجائزقراردی جاتی ہے کہ یہ ’’ناری‘‘ عورت خوش نصیب ہے کہ ایک برہمن کے جسم کوچھونے کاموقع مل گیا ۔ آج بھی ہندوستان کے کئی علاقوں میں شودرکو پاؤں میں جوتااورجسم پرنیاکپڑاپہننے کی اجازت نہیں۔
ہندوانتہاپسندوں کی درندگی سے تنگ یہ لوگ یاتودیگرممالک میں ہجرت کرنے پرمجبورہیں یاپھر اپنے بچائو کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرنے کوترجیح دیتے ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست گجرات کے قصبے اوناکے نواحی گاوں سمادھیالہ میں ذات پات کی بنیادپرتفریق اورتشددسے تنگ ومجبورتقریباً 300دلت خاندان اپنے مذہب کوخیربادکہہ کربدھ مذہب میں داخل ہو گئے ہیں۔
2020ء میں بھارتی ریاست اترپردیش میں ایک دلت عورت کے ریپ اور قتل نے بھارتی معاشرے میں ذات پات کی تقسیم کی حدوں کو مزیدنمایاں کردیاہے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق مودی کی بی جے پی کے تحت اترپردیش بھارت کی’’ریپ ریاست‘‘بن چکی ہے۔ہندو انتہاپسند تنظیمیں اس نچلی ذات کے لوگوں اورباقی اقلیتوں سے غیرانسانی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں، بھارت کی سرکاری پالیسیاں اوراقدامات مسلمانوں، عیسائیوں،بدھ متوں اوردلتوں کوبربریت کانشانہ بنارہے ہیں۔ان اقلیتوں سے منظم طورپر امتیازی سلوک برتاجا رہاہے اوراس ظلم وستم کااختیاریہ ذات پات کانظام ہی سونپتاہے۔اس ذات پات کے نظام نے بھارتی سماج کو ایک معاشرتی ونفسیاتی بیماربنادیاہے جہاں کسی کارآمد سوچ کے جنم لینے کے امکان دن بدن کم ہوتے جا رہے ہیں۔ایک معاشرے کے پھلنے پھولنے کی امید کم ہوتی جارہی ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں