Search
Close this search box.
هفته ,13 جون ,2026ء

مقام شہادت اور یحییٰ سنوارؒ

(گزشتہ سے پیوستہ)
شیخ یحییٰؒ وقت آخر بھی انہی یہودیوں کے خلاف ایک یادگار اور تاریخ ساز جنگ لڑ کر بارگاہ خداوندی میں ایک نرالی شان سے پیش ہوئے، نماز عشق ادا کی ہے لہو سے باوضو ہو کر وہ پہنچے بارگاہ حق میں کتنے سرخرو ہو کروہ ایک صوفے پر کسی شہنشاہ کی طرح براجمان تھا ۔کمرے کی دیواریں میزائلوں نے اڑا دی تھیں ، ان کا دایاں ہاتھ بری طرح گھائل تھا اور بہتے لہو کو روکنے کے لیے انہوں نے ایک لوہے کی تار اپنے ایک ہاتھ اور دانتوں کی مدد سے اپنے بازو کے گرد کس کر لپیٹ لی تھی۔پھرآپ نے زخمی حالت میں اپنے چہرے کو عرب رومال سے کس کے باندھ لیا، تاکہ دشمن اسے پہچان نہ پائے اور زندہ گرفتار نہ کر سکے ۔دوبدو لڑائی اور میزائل سے عمارت کو تباہ کرنے کے بعد دشمن نے ایک ڈرون اڑایا کہ عمارت کے اندرونی حصے کا جائزہ لے سکے ، اس اکسٹھ سال کے بوڑھے کمانڈر کی اس قدر دہشت تھی کہ دشمن کے فوجیوں کو اس کی لاش کی تلاش کے لیے اس عمارت کے اندر جانے کی جرات نہیں تھی ، اس کی شان اور تمکنت دشمن کو للکار رہی تھی ۔وہ اس بڑھاپے میں کہیں چھپنے کی بجائے اپنے ساتھیوں کو فرنٹ سے لیڈ کرتا ہوا آخر میں تنہا زندہ بچا تھا ۔دشمن کے ڈرون نے اس کی تصویریں لیں، کمزور پڑتے ہاتھوں میں سکت ختم ہوتی جا رہی تھی ،اس بوڑھے مجاہد نے اپنی مزاحمت کو برقرار رکھا اور اس ڈرون کو اپنی زندگی کی ایک آخری چھڑی ماری ۔وہ لکڑی کی آخری چھڑی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی ۔ اس بوڑھے مجاہد کو ایک اور میزائل مارا گیا ،اور اکسٹھ سالہ یحییٰ سنوار ؒ اپنی ’’محبوبہ‘‘ شہادت سے بغل گیر ہو گئے ،دنیا کی اول اور بہترین جہادی تحریک کا سربراہ میدان جنگ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا ۔ اس جہاد میں اگرچہ 50 ہزار کے لگ بھگ فلسطینی مسلمان شہید ہو گئے ،ایک لاکھ کے قریب شدید زخمی ہو گئے، غزہ شہر اور مضافات کے علاقوں کو کھنڈر بنا دیا گیا مگر اس سب کچھ کے باوجود شیخ یحییٰ سنوارؒ اس جنگ کو ہر لحاظ سے جیت کر اسلامی تاریخ کے ماتھے کا حسین جھومر بن گئے، اور ان کے صیہونی دشمن خود اپنے یہودیوں کی نظر میں بھی ذلیل و رسوا ہو گئے چنانچہ نیتن یاہو جہاں کہیں جاتا ہے خود اسرائیل کے یہودی اس پر لعنتوں کی برسات اور انڈوں کی بوچھاڑ شروع کر دیتے ہیں۔شیخ کی شہادت کے دوسرے دن اس گھر کے مالک نے گھر کی اور اس صوفے کی جس پر شیخ آخری وقت بیٹھے تھے۔ تصویر لگا کر تا قیامت یاد رکھنے والی عشق و محبت سے لبریز عبارت لکھی ہے ۔ ’’اے شیخ آپ نے ہمارے اس گھر میں آخری معرکہ لڑ کر ہمارے گھر کو دنیا بھر کے تمام گھروں سے زیادہ پاکیزہ مقدس اور یادگار بنا دیا ہے‘‘ سبحان اللہ۔ ہم نے صحابہ ؓکی جنگیں نہیں دیکھیں ۔ہم نے ان کے قصے سنے ہیںمگر ہم نے قبلہ اول کی حفاظت پر مامور ایک بہترین مجاہد کے آخری لمحے دیکھ کر اندازہ لگا لیا ہے کہ یحییٰ سنوارؒ بلا شبہ ان مجاہدین کا جانشین تھا ،جنہوں نے خیبر میں اپنے دشمنوں کو خاک چٹائی تھی ۔ آخر میں شیخ یحییٰ سنوارؒ کی وہ وصیت کہ جس سے شیخ کی بلند ہمتی پہاڑوں سے زیادہ مضبوط ثابت قدمی ظاہر ہوتی ہے ۔’’میں یحییٰ ہوں، پناہ گزیں کا بیٹا، جس نے اجنبیت کو ایک عارضی وطن بنالیا ۔ میں یہ الفاظ لکھ رہا ہوں اور اس وقت میری زندگی کا ہر لمحہ میری نگاہوں کے سامنے ہے،میں خان یونس کے کیمپ میں 1962 ء میں پیدا ہوا۔ میں وہ شخص ہوں جس نے اپنی زندگی کو آگ اور راکھ کے بیچ گزارا اور بہت پہلے یہ جان لیا کہ غاصبوں کے سائے میں زندگی گزارنے کا مطلب ایک ہمیشہ کی جیل میں رہنا ہے۔ میں نے کم سنی کے دور میں ہی یہ جان لیا تھا کہ اس سرزمین پر زندگی گزارنا عام بات نہیں ہے۔ جو یہاں پیدا ہوگا اسے اپنے دل کے اندر ناقابل شکست ہتھیار اٹھانا ہوگا اور یہ سمجھنا ہوگا کہ آزادی کا راستہ لمبا ہے۔ میں نے سب سے پہلے 1988ء میں جیل میں قدم رکھا اور مجھے عمر قید کی سزا سنائی گئی، لیکن میں نے ڈر کو قریب پھٹکنے نہیں دیا۔
جیل میں رہتے ہوئے میں نے سیکھا کہ صبر محض ایک اخلاقی خوبی نہیں ہے بلکہ وہ ایک ہتھیار ہے، کڑوا ہتھیار، جیسے کوئی سمندر کو قطرہ قطرہ کرکے پی لے۔میری تمہارے لیے وصیت ہے کہ جیلوں سے خوف نہ کھا، جیل تو آزادی کی منزل تک لے جانی والی ہماری طویل راہ کا ایک ٹکڑا ہے۔جیل نے مجھے سکھایا کہ آزادی محض ایک حق نہیں جو چھین لیا گیا، وہ تو ایک خیال ہے جو تکلیف کی کوکھ سے جنم لیتا ہے اور صبر سے اس کی دھار تیز کی جاتی ہے۔ جب 2011ء میں احرار کی وفاداری نامی سودے کے تحت میں جیل سے نکلا تو میں پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔ جب میں نکلا تو میری شخصیت مضبوط ہوچکی تھی اور اس بات پر میرا یقین بڑھ چکا تھا کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں وہ محض ایک وقتی کشمکش نہیں ہے بلکہ یہ ہماری قسمت ہے جس کی لاج ہم اپنے خون کے آخری قطرے تک اٹھاتے رہیں گیں۔میری وصیت ہے کہ تم سدا شہدا کے خون کے لیے وفادار رہنا۔ وہ گزر گئے اور ہمارے لئے یہ کانٹوں بھری راہ چھوڑ گئے۔ انہوں نے اپنے لہو سے ہمارے لیے آزادی کا راستہ ہم وار کردیا۔
معرکہ فلسطین کشمکش کی کتاب میںمیں نے کوئی ذاتی ورثہ نہیں چھوڑا، بلکہ اجتماعی وراثت چھوڑ رہا ہوں۔ ہر اس فلسطینی کے لیے جس نے آزادی کاخواب دیکھا، ہر اس ماں کے لیے جس نے اپنے شہید بچے کو اپنے کندھوں پر اٹھایا، ہر اس باپ کے لیے جس نے اپنی بچی کو مکار دشمن کی گولی کھاکر تڑپتے دیکھا اور غم کی شدت سے رو پڑا۔میری آخری وصیت ہے کہ ہمیشہ یاد رکھنا کہ مزاحمت فضول کام نہیں ہے، یہ محض ایک گولی نہیں ہے جو چلادی جائے، بلکہ یہ تو ایک زندگی ہے جسے عزت و عظمت کے ساتھ ہم جی رہے ہیں۔ جیل اور حصار نے مجھے سکھایا ہے کہ یہ معرکہ طویل ہے، راستہ دشوار ہے، لیکن میں نے یہ بھی سیکھا کہ جو قومیں ہار ماننے سے انکار کردیتی ہیں وہ اپنے ہاتھوں سے معجزے تخلیق کرتی ہیں۔دنیا سے توقع مت رکھنا کہ وہ تمہارے ساتھ انصاف کرے گی۔ میں نے اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ دنیا کس طرح ہمارے الم کو خاموش دیکھتی رہی۔ انصاف کا انتظار مت کرو، بلکہ تم خود انصاف بن جا۔ اپنے دلوں میں فلسطین کا خواب سجاکر رکھو۔ ہر زخم کو ہتھیار بنادو اور ہر آنسو کو امید کے چشمے میں بدل لو۔ یہ میری وصیت ہے: اپنے ہتھیار حوالے مت کرنا، پتھر نہ ڈالنا، اپنے شہیدوں کو نہ بھول جانا اور اس خواب پر کوئی سودا نہ کرنا جو تمہارا حق ہے۔ہم یہاں باقی رہیں گے، اپنی سرزمین میں، اپنے دلوں میں اور اپنے بچوں کے مستقبل میں۔میں تمھیں وصیت کرتا ہوں کہ فلسطین کا خیال رکھنا، اس زمین کا جس سے میں نے موت کی حد تک عشق کیا ہے، اس خواب کا جس کو میں اپنے کندھوں پر اٹھائے رہا، اس پہاڑ کی طرح جو جھکتا نہیں ہے۔اگر میں گرجاں تو تم لوگ میرے ساتھ مت گرجانا، بلکہ میرے ہاتھ سے پرچم اٹھالینا جو کسی دن زمین پر نہیں رہا، میرے خون سے ایک پل تعمیر کرنا جو اس طاقت ور نسل کی راہگزر بنے جو ہماری راکھ سے پیدا ہوگی۔ جب طوفان دوبارہ برپا ہو اور میں تمہارے درمیان نہ رہوں تو سمجھ لینا کہ میں آزادی کی موجوں کا پہلا قطرہ تھا اور میں اس لیے زندہ رہا تاکہ تمہیں سفر کی تکمیل کرتے دیکھوں۔ان کے حلق کا کانٹا بنے رہو، ایسا طوفان بن جا جو پلٹنا نہ جانتا ہو اور اس وقت تک پرسکون نہ ہو جب تک دنیا یہ نہ جان لے کہ ہم حق والے ہیں۔ ہم خبروں میں درج کی جانے والی گنتیاں نہیں ہیں۔
کہیں پہ یاسین ؒکہیں پہ ہنیہؒ کہیں پہ یحییٰ ؒشہید ہیں ہم
بساط باطل الٹ کے چھوڑیں گے خالد ابن ولید ؓہیں ہم

یہ بھی پڑھیں