اس وقت اسرائیل غزہ کے ساتھ مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں کی نسل کشی کرنے پر آمادہ ہے۔اب تک ایک محتاط اندازے کے مطابق46ہزار فلسطینیوں کو اسرائیل نے شہید کیاہے اور اس وقت جب یہ کالم لکھا جارہاہے ‘اسرائیل کی جارحیت جاری وساری ہے‘ اس ضمن میں دنیا بھر کے امن پسند لوگ اقوام متحدہ کے علاوہ مغربی ممالک سے پرزور اپیل کررہے ہیں کہ اسرائیل کی جارحیت کو فی الفور روکناچاہیے ‘ اس جارحیت کو روکنے کیلئے مغربی ممالک امریکہ سمیت ایک اہم کردار ادا کرسکتے ہیں‘ لیکن ایسا محسوس ہورہاہے کہ یہ ممالک بھی فلسطینیوں کی نسل کشی پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں تاہم انہیں شاید اس بات کا ادراک نہیں ہے کہ غزہ اور مغربی کنارے پر فلسطینیوں کے ساتھ جوکچھ ہورہاہے‘ اس کی آگ ان عرب ممالک کو اپنی لپیٹ میں بھی لے سکتی ہے جو دور سے تماشا دیکھ رہے ہیں‘ اس وقت اسرائیل7 اکتوبر کے ہونے والے حملے کا بدلہ فلسطینیوں کے خلاف وحشیانہ جارحیت کے ذریعے لے رہاہے۔ دنیا کے تمام امن پسند ممالک اسرائیل پر جنگ بند کرنے کے سلسلے میں دبائو ڈال رہے ہیں لیکن تادم تحریر اسرائیلی جارحیت مسلسل جاری ہے۔ جس میں اب تک 46ہزار فلسطینی بچے‘ بوڑھے‘ جوان اور خواتین شہید ہوچکے ہیں۔ ایسا محسوس ہورہاہے کہ مسلم امہ نے اسرائیلی جارحیت کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اور وہ ایک طرف ہوکر اپنے ہی بھائیوں کا قتل عام دیکھ رہے ہیں۔
اس وقت جب یہ کالم لکھاجارہاہے کہ اسرائیل کی جارحیت جاری ہے‘ بلکہ وہ لبنان کی طرف بڑھ رہاہے جس سے یہ ظاہرہورہاہے کہ وہ حزب اللہ کے جنگجوئوں کی تلاش میں مشرق وسطیٰ کو ایک بار پھر آگ کے شعلوں میں بھسم کرناچاہتاہے۔ اسرائیل کی اس ننگی جارحیت میںمغربی ممالک کی تائید بھی شامل ہے۔ غزہ میں اسرائیل نے جوکچھ بھی کیاہے اس کا تعلق نسل کشی سے ہے‘ یہ ظالمانہ طریقہ کاردوسری جنگ عظیم میں ہٹلر نے اختیار کیاتھا‘ ہزاروں بے گناہ انسانوں کو جس میں یہودی بھی شامل تھے ‘ گیس چیمبرز کے ذریعے ہلاک کیاتھا‘ اب ہٹلر کا یہی انسانیت سوز ظلم اسرائیلی یہودی فلسطینیوں کے خلاف کررہے ہیں‘ جیساکہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے کہ 46000ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ جبکہ دنیا کے پرامن ممالک اسرائیل پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ وہ فوراً جنگ بندی کرکے حماس اور دیگر فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کرے تاکہ بات چیت کے ذریعے قیام امن کے امکانات کو تقویت مل سکے۔ ورنہ جنگ جاری رہنے کی صورت میں یہ جنگ مشرق وسطیٰ میں مزید تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
جیسا کہ میں نے اپنے کئی کالموں میں لکھاہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین امن دوریاستوں کے قیام میں ممکن ہے۔ اقوام متحدہ کے علاوہ بعض مغربی ممالک بھی دوریاستوں کے تخیل میں مشرق وسطیٰ کے پائیدار امن کاحل تصور کررہے ہیں۔
تاہم اسرائیل کا انتہا پسند وزیراعظم ناتھن ہائو چند انتہا پسند یہودیوں کے ایما پر غز ہ سمیت مغربی کنارے پر فلسطینیوں کی نسل کشی کررہاہے۔ امریکہ بحیثیت ایک سپرپاور کے اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت کورکواسکتاہے‘ لیکن تاد م تحریر ابھی تک امریکہ بہادر کی جانب سے ایسی کوئی کارروائی نہیں ہوئی ہے کہ یہ جنگ رک جائے۔ حماس فلسطینیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کی مزاحمت کررہاہے‘ لیکن حماس کے پاس سامان حرب زیادہ نہیں ہے‘ اس لئے اسرائیل اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غزہ اور مغربی کنارے پر خوفناک بمباری کرکے ان علاقوں پر قبضہ کرناچاہتاہے۔
تاہم اسرائیل کو یہ نہیں بھولناچاہیے کہ وہ اس جارحیت کی وجہ سے خود غیر محفوظ ہوگیاہے۔ فلسطینی اپنی زمین اور حقوق کے لئے ہرقیمت پر اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ کریں گے۔ اب حزب اللہ بھی اسرائل کی جارحیت کے خلاف سینہ سپر ہوگیاہے۔جس کوروکنے کے لئے اسرائیل لبنان پر بھی حملہ کررہاہے‘ اس طرح اب مشرق وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کے شعلوں کی لپٹ میں آچکاہے۔ اگر مغربی ممالک سمیت بعض عرب ممالک نے اس پھیلتی ہوئی جنگ کو نہیں روکا یا رکوانے کی کوشش نہیں کی تو اس صورت میں حماس کے علاوہ بعض عرب ممالک بھی اس جنگ میں شامل ہوسکتے ہیں۔ جو تیسری عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔
اس لئے مغربی ممالک کو چاہیے کہ اسرائیل کی عربوں کے خلاف بڑھتی ہوئی جارحیت کو رکوانے کی کوشش کریں‘ ورنہ آئندہ چند دنوں میں صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے۔دراصل اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان پائیدار امن دوریاستوں کے قیام بھی مضمر ہے۔ جس پر تقریباً دنیا کے تمام پرامن ممالک کا اتفاق کررہے ہیں۔ یہاں تک امریکہ بھی اس تخیل کی حمایت کرتاہے۔ چنانچہ سب سے پہلے اسرائیل پہ دبائو ڈال کر اس جنگ کو روکوانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ بعد میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بات چیت کی راہ ہموار ہوسکے۔ ذرا سوچیئے!