(گزشتہ سے پیوستہ)
دو روزہ کامیاب ترین اجلاس نہ صرف پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا مظہر ہے بلکہ ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے بھی اہم مواقعے فراہم کرتا ہے۔ اجلاس کے دوران پاکستان کو عالمی سطح پر اپنی پالیسیوں کو اجاگر کرنے اور عالمی اقتصادی نظام میں اپنے کردارکو مزید مضبوط کرنے کا موقع ملا ہے۔دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پاکستان میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون کونسل (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ملک کے خود مختار گروپ میں شریک ہونے کے حق کا احترام کرتے ہیں۔شنگھائی تعاون تنظیم سینٹرل ایشیائی ممالک کو ایک بہت بڑا فورم فراہم کرتی ہے کہ وہ آپس میں بیٹھ کر نہ صرف خطے کے مسائل حل کریں ساتھ میں معیشت، توانائی، ڈیفنس اور سیکیورٹی جیسے معاملات میں بھی پیش رفت کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھا کر خطے کے تمام رکن ممالک معاشی ترقی، دفاعی صلاحیت اور سیکیورٹی جیسے مسائل کو باہمی تعاون سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مستقبل میں پاکستان کو SCO کے ذریعے مزید تعاون اور اقتصادی ترقی کے مواقعے حاصل ہوں گے۔ تنظیم کے پلیٹ فارم پر پاکستان اپنے جغرافیائی محل وقوع کو بہتر طریقے سے استعمال کرسکتا ہے اور عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرسکتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں کئی ممالک شریک تھے اور موجودہ حالات میں اس اجلاس کی میزبانی سے پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ضرور فائدہ ہو گا۔ بھارت اور چین کے درمیان بھی سرحدی تنازعات ہیں، اسی طرح بھارت اور پاکستان کے درمیان بھی سرحدی تنازعات رہے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان کے ساتھ پاکستان کے سرحدی تنازعات ہیں۔ جس طرح یورپ میں ریجنل گروپس ہیں اور دوسری جانب امریکا میں ریجنل گروپس، جو باہمی تعاون کے ذریعے اپنے مسائل حل کرتے ہیں۔ ایس سی او کا بنیادی مقصد دہشت گردی، انتہا پسندی اور علاقائی امن کو فروغ دینا ہے۔ دونوں ممالک ان مسائل پر بات چیت کر سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے سیکیورٹی خدشات کو سن سکتے ہیں، جو کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتا ہے۔ سیاسی استحکام سے ہی غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کے لیے کوششیں مزید تیز ہونی چاہئیں اور اپوزیشن کی جماعتوں کو چاہیے کہ ملک کے بہترین مفاد میں مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کیا جائے۔ آئے روز کے احتجاج و مظاہروں سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد خراب ہوسکتا ہے جس سے ملک کو معاشی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ میری تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل ہے کہ ملک کے بہترین مفاد میں ایک ہوکر معاشی و اقتصادی ترقی کے لیے مل بیٹھیں اور باہمی سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر ملک کی خاطر مسائل کو مذاکرات سے حل کریں تاکہ سیاسی استحکام پیدا ہو اور سرمایہ کاری میں مزید اضافہ ہوسکے، اگر منفی سیاست اور ضد جاری رکھی گئی تو قوم آپ کو مسترد کردے گی۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی مہمانداری کے ذریعے پاکستان کے قد کاٹھ میں اضافہ ہوا ہے، سفارتی سطح پر اس کی اہمیت اُجاگر ہوئی ہے، اقتصادی ترقی کے روشن امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ ضرورت اِس امرکی ہے ہم ایسے مواقعے سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ روس کا بہت بڑا وفد یہاں آیا ہے، ہمیں روس کے ساتھ نئے باب کا آغاز کرنا چاہیے، چین کی موجودگی میں روس کے ساتھ معاملات کرنے میں ہمیں آسانی ہوگی۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہم یکسوئی کے ساتھ معاملات دیکھیں اور ان میں اپنے مفادات کے مطابق مواقعے تلاش کرکے انھیں روبہ عمل لائیں۔