Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

قرآن کی صداقت پر سائنس کی شہادت

قرآن کریم میں سائنسی حقائق ا انشاف قران کے الہامی کتاب ہونے کا ثبوت ہیں۔ موجودہ دور علم انشافات ا دور ہے۔ اور قران علم حقیقتوں کی تصدیق ہو رہ ہے۔ قرآن، جو تقریبا 1400 سال قبل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جبرئیل آمین کے ذریعہ وح سے نازل ہوا، فطرت کے کئی حقائق کی نشاندہی کرتا ہے۔ چودہ سو سال قبل اس وقت کے محدود علمی ماحول کے پیشِ نظر یہ معلومات انسانی فہم سے باہر تھیں۔ تاہم، قرآن کی متعدد آیات جدید سائنس میں سامنے آنے والی دریافتوں کے عین مطابق ہیں، جس نے علمائے کرام، اور سائنسدانوں کو اس حقیقت پر غور و فکر کی دعوت دی ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے، کیسے ایسی معلومات بغیر الہامی مدد کے بیان کر سکتے تھے۔ یہاں ہم قرآن کی کچھ آیات کو پیش کر رہے ہیں جو سائنسی حقائق کی نشاندہی کرتی ہیں اور قرآن کے معجزانہ پہلو کو ظاہر کرتی ہیں۔قرآن میں زمین و آسمان کے جڑے ہونے اور پھر جدا ہونے کا ذکر ہے:جو آج کی دنیا میں بگ بئنگ کی صورت مین جانی جاتی ہے۔
کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے، تو ہم نے انہیں جدا کیا اور ہم نے ہر زندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا؟ تو کیا وہ ایمان نہیں لاتے؟(سورۃ الانبیا، 21:30) یہ آیت جدید بگ بینگ تھیوری کے عین مطابق ہے، جو بیان کرتی ہے کہ کائنات کا آغاز ایک نقطے سے ہوا اور پھر یہ پھیل گئی۔ کائنات کی اس ابتدا کا مفہوم صرف بیسویں صدی میں سامنے آیا، جبکہ قرآن میں اس کا ذکر بہت پہلے موجود ہے۔قرآن میں کائنات کے پھیلا کا ذکر بھی ملتا ہے، ایک ایسا نظریہ جو بیسویں صدی میں ایڈون ہبل کی دریافت سے پہلے معلوم نہ تھا:اور آسمان کو ہم نے اپنی قوت سے بنایا اور ہم ہی اسے وسعت دینے والے ہیں۔(سورۃ الذاریات، 51:47) جدید سائنس کے مطابق کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ قرآن میں اس کا ذکر، دور حاضر کی جدید سائنسی معلومات کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔قرآن میں انسانی جنین کی تخلیق کے مراحل کا تفصیل سے ذکر ہے۔ ڈاکٹر کیتھ مور، جو ایک ممتاز ایمبریولوجسٹ ہیں، نے ان مراحل کی تصدیق کی ہے:اور ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا، پھر ہم نے اسے ایک قطرہ بنا کر محفوظ جگہ میں رکھا، پھر ہم نے اس قطرہ کو جمے ہوئے خون کی شکل میں بنایا، پھر ہم نے اس لوتھڑے کو گوشت کے ٹکڑے میں تبدیل کیا، پھر ہم نے اس ٹکڑے کو ہڈیاں بنایا، پھر ہم نے ہڈیوں کو گوشت سے ڈھانپ دیا اور پھر ہم نے اسے دوسری صورت میں بنا دیا۔ پس بابرکت ہے اللہ، بہترین خالق۔(سورۃ المومنون، 23:12-14)
یہ مراحل جدید علمِ جنینیات کے مطابق ہیں، اور یہ تفصیلات انسان کو صرف خوردبین کی مدد سے معلوم ہوئیں، جو اس وقت دستیاب نہیں تھیں۔ اس امر کی گواہی ہے کہ یہ معلومات انسانی ذہن سے بالاتر الہام کا حصہ ہیں۔قرآن میں پہاڑوں کو میخوں سے تشبیہ دی گئی ہے جو زمین کو استحکام بخشتے ہیں:کیا ہم نے زمین کو بچھونا اور پہاڑوں کو میخیں نہیں بنایا؟(سورۃ النب، 78:6-7) جدید ارضیات بتاتی ہے کہ پہاڑ زمین کی پرتوں کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ بات بھی حضرت محمد ﷺکے زمانے میں معلوم نہ تھی، جو قرآن کے الہامی ہونے کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔قرآن میں میٹھے اور کھاری پانی کے درمیان ایک رکاوٹ کا ذکر ہے،اس نے دو دریا بہا دیے ہیں کہ وہ آپس میں ملتے ہیں، ان کے درمیان ایک پردہ ہے، جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔(سورۃ الرحمن، 55:19-20) جہاں دریا سمندر سے ملتا ہے، جیسے کہ دہانوں میں، وہاں نمکین اور تازہ پانی میں فرق ہوتا ہے اور ان کے درمیان قدرتی رکاوٹ بنتی ہے۔ یہ علم اوقیانوسیات کے مطابق ہے اور 7ویں صدی میں ناقابل فہم تھا، جس سے قرآن کی صداقت مزید عیاں ہوتی ہے۔قرآن میں لوہے کو نازل کردہ شے کہا گیا ہے:اور ہم نے لوہا نازل کیا جس میں بہت سختی اور لوگوں کے لیے فائدے ہیں(سورۃ الحدید، 57:25)
جدید سائنس کہتی ہے کہ لوہا ستاروں میں بنتا ہے اور سپرنووا کے ذریعے زمین تک پہنچتا ہے۔ یہ بات انسان کو حالیہ دور میں معلوم ہوئی ہے، اور قرآن میں اس کا ذکر ایک بڑی نشانی ہے۔قرآن میں آسمان کو حفاظتی پردہ قرار دیا گیا ہے:اور ہم نے آسمان کو محفوظ چھت بنایا، مگر وہ اس کی نشانیوں سے اعراض کرتے ہیں۔(سورۃ الانبیا، 21:32) زمین کا ماحول سورج کی ضرر رساں شعاعوں کو روکنے اور شہاب ثاقب کو سطح زمین تک پہنچنے سے روکنے کا کردار ادا کرتا ہے۔ اس حفاظتی فعل کا اس وقت علم نہ تھا، جو قرآن کی الہامی حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے۔قرآن میں موجود سائنسی حقائق، جو آج کی جدید سائنس کے دور میں دریافت ہورہے ہیں، اس بات کا ثبوت ہیں کہ قرآن الہامی کتاب ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جو کہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے، ان سائنسی معلومات سے اس دور میں آگاہ نہیں ہو سکتے تھے۔ قرآن کے ذریعے ہمیں اللہ تعالی کی نشانیوں پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے نفسوں میں بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے کہ بے شک یہ حق ہے۔(سورۃ فصلت، 41:53)
ان آیات کی روشنی میں قرآن کو محض ایک انسانی کلام قرار دینا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ اس میں ایسے علم کی نشانیاں موجود ہیں جو انسان کی پہنچ سے باہر تھیں۔ یہ آیات ہمیں قدرت کے کمالات پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہیں، تاکہ ہم خالق کی عظمت اور وحدانیت کو سمجھ سکیں۔قرآن کے معجزانہ پہلوں کی تفصیل سے ہمیں یہ باور کرایا جارہا ہے کہ یہ کتاب محض ایک انسانی تصنیف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔اور الہامی کتاب ہے۔ آج کی سائنسی دریافت قرآن کی صداقت شہادت پیش کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں