گزشتہ دنوں سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ صیہونی ریاست اسرائیل ایران پر بھرپور حملہ کرنے والا ہے۔ ہرچند کہ ایران نے ان متوقع حملوں کا موثر جواب دینے کیلئے تیار ہے۔ لیکن اسرائیل کسی نہ کسی طرح مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ میں دھکیلناچاہتا ہے۔ تاہم ایران ایک سمجھدار قوم کی حیثیت سے اسرائیل کے اس پھندے میں نہیں پھنسنا چاہتاہے۔ ایران اسلامی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کسی بھی صورت میں اسرائیل پرحملہ نہیں کرناچاہتاہے۔ لیکن وہ ہرصورت میں اپنا دفاع کرناچاہتاہے اوروہ اس کا حق بھی رکھتاہے۔ یہی اسلام کا لافانی درس بھی تھا۔
دراصل اسرائیل غزہ کو برباد کرنے کے بعد اب مغربی کنارے پر بھی فلسطینیوں کیلئے مشکلات پیداکرناچاہتاہے بلکہ اس نے وہاں حملہ کرکے بہت سے فلسطینیوں کو شہید بھی کردیاہے۔ اسرائیل کے اس جارحانہ عزائم سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے مزید علاقوں پہ ناجائز قبضہ کرناچاہتاہے بلکہ بہت حد تک کربھی لیاہے یہی وجہ ہے کہ حماس اسرائیل کی اس توسیع پسندی کے خلاف مسلح جدوجہد کررہے ہیں اور اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے دنیا کو یہ باور کراناچاہتے ہیں کہ اسرائیل کی فلسطینی علاقوں پرناجائز قبضے کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔ اگر اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف جنگ کوپرامن ممالک نے روکنے کی کوشش نہیں کی تو مشرق وسطیٰ میں صورتحال مزید خراب ہوسکتی ہے اور جنگ کا دائرہ پھیل سکتاہے۔
ویسے بھی بعض باخبر تجزیہ نگاروں کا کہناہے کہ اسرائیل لبنان پراس لئے حملہ کررہاہے کہ غزہ میں اس کی جارحیت کے خلاف جدوجہد کارخ موڑ دیاجائے تاہم یہ بات یادرکھنی چاہیے کہ اسرائیل لبنان پر حملہ کرکے غزہ سمیت مغربی کنارے پر فلسطینیوں کی متحدہ جدوجہد کو روک نہیں سکتاہے لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ خود امریکہ نہیں چاہتاہے کہ اسرائیل من مانی کرتے ہوئے فلسطینیوں کا قتل عام کرے اور ان کی زمینوں پر قبضہ کرلے تاہم اسرائیل کو اس حقیقت کو فراموش نہیں کرناچاہیے کہ فلسطینی اور ان کے حمایتی ا سکی جارحیت کو روکنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ اگر اسرائیل یہ سمجھ رہاہے کہ اس کی فلسطینیوں پر جارحیت کو روکنے والا کوئی نہیں ہے‘ یہ ایک غلط سوچ ہے۔ فلسطینی ہر طرح سے اپنی سرزمین پراسرائیلی قبضے کو روکنے کی ہرممکن کوشش کریں گے بلکہ کررہے ہیں جبکہ ایران فلسطینیوں کی مدد کرکے اسرائیل کی جارحیت کو روک رہاہے۔ دوسری طرف اسرائیل غزہ اور مغربی علاقوں پرحملہ سے توجہ ہٹانے کے لئے لبنان پر حملہ کررہاہے جس کو موثر طور پر روکنے کے لئے حزب اللہ اور فلسطینی متحد ہوگئے ہیں اور اس کی جارحیت کو روکنے کیلئے تیار ہیں۔
تاہم مشرق وسطیٰ میں اس وقت صورتحال انتہائی خراب ہے۔ اسرائیل مسلسل غزہ‘ مغربی کنارے اور لبنان پر حملہ کرکے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مشرق وسطیٰ کو ایک نئی جنگ میں الجھانا چاہتاہے۔ اسرائیل کی یہ سوچ جہاں امن کے خلاف ہے وہیں‘ اگر اس سوچ پر عملی جامہ پہنایاگیا تو پھر مشرق وسطیٰ کی آگ کو کون بجھائے گا؟ اسرائیل فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کو روکنے کے لئے ان کے خلاف ننگی جارحیت کا مسلسل ارتکاب کررہاہے جس کی موثر مزاحمت فلسطینی کررہے ہیں۔ بلکہ کرتے رہیں گے۔ ہرچند کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان پائیدار امن دوریاستوں کے قیام میں مضمر ہے‘ عالمی طاقتیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن قائم وہجائے جس کے بعد وہاں تعمیر نو کا سلسلہ شروع ہوسکے۔ لیکن ایسا ہونہیں پارہاہے۔ اس ضمن میں امریکہ کا اہم رول ہے جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے کہ اگر اسرائیل نے ماضی کی طرح لبنان پر اپنی جارحیت کے سلسلے کو بڑھادیا تو پھر اس خطے میں امن کے امکانات معدوم ہوجائیں گے۔ بعد میں ایران اپنے سیاسی ومعاشی مفادات کے پیش نظر اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کے لئے آگے بڑھ سکتاہے۔ اگر ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک اس میں شامل ہوسکتے ہیں جو بعد میں ایک بڑی جنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لئے مغربی ممالک کو چاہیے کہ وہ اسرائیل پر دبائو ڈالکر اس کی جارحیت کو روکے تاکہ مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی جنگ سے بچایاجاسکے۔ ذر ا سوچیئے