Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

اسلام میں علم حاصل کرنے کیلئے استاد یا شیخ کی ضرورت

اسلام نے علم کو عظیم قدر کے طور پر پیش کیا ہے اور اسے انسان کے ایمان اور کردار کی بنیاد قرار دیا ہے۔ تاہم، علم دین کو حاصل کرنے کے لیے استاد یا شیخ کی رہنمائی کو ضروری قرار دیا ہے۔ قرآن میں متعدد بار ارشاد ہوا کہ اہل علم سے علم کے حصول کیلئے رجوع کرو۔ محض مطالعہ سے قرآنی دینی علم اور اس کا حقیقی فہم و عرفان حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح آج کے دور میں انٹرنیٹ کے ذریعے قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنے کی کوشش گمراہی کا سبب ہے۔ اسلامی تعلیمات میں واضح طور پر علم کے حصول کیلئے استاد کی شرط رکھی گئی۔ بغیر استاد کے علم کابزعم خود تحصیل خطرناک اور گمراہ کن ہے۔استاد کو روحانی باب اور مرشد کا مقام حاصل ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے علم اور اہلِ علم کی فضیلت بیان کی ۔
’’اللہ ان لوگوں کے درجات بلند کرے گا جو ایمان لائے اور جنہیں علم عطا کیا گیا۔‘‘
(سورۃ المجادلہ: 11)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔
(ابن ماجہ: 224)
ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص بغیر علم کے فتویٰ دیتا ہے، وہ خود بھی گمراہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔(سنن ترمذی: 2680)
’’امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: جس کا کوئی استاد نہ ہو، اس کا استاد شیطان ہوتا ہے۔‘‘ یہ قول اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ استاد یا شیخ کی رہنمائی کے بغیر علم حاصل کرنے کی کوشش انسان کو گمراہی میں مبتلا کر سکتی ہے۔
امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: ’’علم دین ایک نور ہے، اور یہ نور جاہلوں کے دلوں میں نہیں ڈالا جاتا۔ علم حاصل کرنے کے لیے استاد کی صحبت لازمی ہے۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں علم کا سلسلہ ہمیشہ استاد اور شاگرد کے تعلق پر قائم رہا ہے۔
آخر زمانے کی نشانیاں اور خود ساختہ نام نہاد جعلی علماء کا فتنہ : رسول اللہ ﷺ نے قیامت سے قبل ایسے حالات کی پیش گوئی کی ہے جب علم کے بغیر لوگ دین پر بات کریں گے۔
آخر زمانے میں ایسا وقت آئیگا جس میں دھوکہ عام ہوگا۔ جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا، اور سچے کو جھوٹا، خیانت کرنے والے کو امانت دار سمجھا جائے گا، اور امانت دار کو خیانت کرنے والا۔ اور رویبِضہ لوگوں کی باتیں عام ہوں گی۔ صحابہ نے پوچھا: رویبِضہ کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: فضول اور جاہل لوگ جو بغیر علم کے دین پر گفتگو کریں گے۔(سنن ابن ماجہ: 4036)
یہ حدیث آج کے دور پر صادق آتی ہے، جہاں لوگ صرف خود مطالعہ یا گوگل کی معلومات کی بنیاد پر عالم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، جو امت میں گمراہی اور انتشار کا سبب بن رہا ہے۔بغیر علم سند اور استاد کے علمی لیکچر اور بحثیں کرتے ہیں۔
علم دین اور دیگر علوم کا موازنہ: اگر کوئی شخص محض خود مطالعہ کرکے ڈاکٹر، وکیل، یا انجینئر بننے کا دعویٰ کرے، تو یہ دعویٰ معاشرے میں ناقابل قبول ہوگا۔ ان پیشوں کے لیے باضابطہ تعلیم، تجربہ، اور ماہر اساتذہ کی رہنمائی ضروری سمجھی جاتی ہے۔
اسی طرح:-1 دین کے علم کو سمجھنے کے لیے استاد کی رہنمائی ضروری ہے۔-2 خود ساختہ طور پر قرآن و حدیث کی تشریح کرنے والا نہ صرف خود گمراہ ہوگا بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔
خود مطالعہ کے خطرات اور استاد کی رہنمائی کے فوائد: -1 غلط تشریحات: استاد کے بغیر قرآن و حدیث کے اصول و قواعد کو سمجھے بغیر تشریح کرنا خطرناک اور گمراہ کن ہے۔-2علم کا تسلسل: اسلامی علوم کا سلسلہ اسناد پر مبنی ہے، جو استاد کے ذریعے شاگرد تک منتقل ہوتا ہے۔ -3 اخلاقی تربیت: استاد نہ صرف علم دیتا ہے بلکہ شاگرد کے کردار اور اعمال کی اصلاح بھی کرتا ہے۔
بغیر علم کے دین پر بات کرنا: دھوکہ اور گمراہی‘رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:میری امت میں ایسے زمانے آئیں گے جب لوگ بغیر علم کے فتوی دیں گے۔ وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (سنن دارمی: 205)
یہ حدیث ہمیں خبردار کرتی ہے کہ دین کے معاملات پر بات کرنے کے لیے علم کی سند اور استاد کی رہنمائی لازم ہے۔جس سے تعلیم و تربیت کے ساتھ طالب علم کی کردارسازی ہوتی ہے۔ عالم بننے کے بعد بھی مطالعہ کا دور جارہی رہتا ہے۔ علما نے واضح کیا کہ دین کا علم باضابطہ تعلیم، عملی تربیت، سند اور استاد کے بغیر ناقص اور گمراہی ہے۔
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے علم کے لیے سند کی اہمیت پر زور دیا اور فرمایا:علم دین بغیر استاد کے حاصل کرنا ایسا ہے جیسے سمندر میں بغیر ناخدا کے کشتی چلانا۔لہٰذا، علم دین کو محفوظ رکھنے اور امت کو گمراہی سے بچانے کے لیے استاد کی رہنمائی کو ہمیشہ ترجیح دی جائے۔
علماء انبیا کے وارث ہیں(ابودائود: 3641)
بذات خود مطالعہ اور بغیر استاد کے قرآن و حدیث کی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش خطرناک گمراہی ہے۔ قرآن و حدیث کے علوم کو سمجھنے کے لیے عربی زبان، اصول تفسیر ، اصولِ فقہ، اصولِ حدیث، کا علم ہونا لازم ہے، جو کہ استاد کی رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:علم کی بنیاد سوالات اور علما کی صحبت میں ہے۔یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی علم کو براہِ راست رسول اللہ ﷺ سے حاصل کیا اور کسی خود ساختہ تشریح کی طرف نہیں گئے اور نہ ہی ہر صحابی نے خطبے دیئے۔ بلکہ صرف ان چند صحابہ نے دعوت اور ارشاد کا منصب سنبھالا جنہوں نے اپنے آپ کو علم دین کیلئے مختص کیا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’علم خزانہ ہے، اور استاد اس کی کنجی ہے۔ لہٰذا علم کے دروازے تک پہنچنے کیلئے استاد کا ہونا ضروری ہے۔
امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے کئی بڑے علمائے وقت سے تحصیل علم کیا اور استاد کو تحصیل علم کیلئے بنیاد قرار دیا۔
امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا: ’’اگر علم حاصل کرنا ہو تو علمائے حق کے پاس جا کر ان سے سیکھو، کیونکہ ان کے بغیر علم گمراہی کا سبب بن سکتا ہے۔اسی طرح امام ابن سیرین نے ہدایت فرمائی کہ تم خیال رکھو کہ کہ تم دین کس سے سیکھتے ہو۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ:اپنی کتاب البخاری میں علم کی سند اور استاد کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے۔ ان کے نزدیک علم بغیر سند اور استاد کے ناقابل قبول ہے۔
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ دین کا علم صرف اہل علم کی شاگردی اور صحبت و تربیت سے حاصل کیا جا سکتا ہے، جو امت کی رہنمائی اور ہدایت کا واحد معتبر ذریعہ ہیں۔ علماء کو اس وجہ سے وارثان انبیا ء قرار دیا گیا۔ اس طرح حذیفہ بن یمان کی حدیث میں بغیر علمی سند کے دین پر لیکچر دینے والے آخرزمانے میں بطور فتنہ ظاہر ہونگے۔ علماء حق ناپید ہونگے۔

یہ بھی پڑھیں