Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

دہشت گردی کا خاتمہ کیسے؟

پاکستان ایک بھرپور دہشت گردی کی لپیٹ میں آچکاہے۔ حال ہی میں بنوں میں خوارجیوں نے 12فوجی جوانوں کوشہید کردیاہے ۔ اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ خوارجیوں کے علاوہ وہ طاقتیں جو پاکستان میں امن وچین نہیں دیکھناچاہتی ہیں اور پاکستان کی مجموعی ترقی کے خلاف ہیں‘ متحرک اور فعال ہوکر یہ سب کچھ کررہی ہیں۔ ان کے ساتھ وہ طاقتیں بھی شامل ہیں جوروز اول سے پاکستان کی دشمن ہیں اور ہر قدم پر پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرناچاہتی ہیں۔ اسی سوچ کے پس منظر میں پاکستان میں دہشت گردانہ حملے کئے جارہے ہیں‘ تاکہ خوف اور اتفراتفری کی صورت میںپاکستان ترقی کی راہ پرگامزن نہ ہوسکے ۔ تاہم ان عناصر کی یہ سوچ سراسر غلط ہے اور حقائق کے خلاف ہے۔ پاکستان کی فوج اور عوام دونوں ملکر ان خوارجیوں کامقابلہ کررہے ہیں اور ہرگزرتے دن کے ساتھ ان کی مذموم کارروائیوں کوناکام بنارہے ہیں اور وطن کی راہ میں شہید بھی ہورہے ہیں۔
تاہم ناقابل تردید حقیقت یہ ہے کہ کچھ بیرونی طاقتیں ان دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہی ہیں تاکہ پاکستان میں امن قائم نہ ہوسکے اور جومعاشی ترقی ہورہی ہے وہ نہ صرف رک جائے بلکہ اقتصادی ترقی کی دیگرراہیں بھی محدود ہوجائیں۔ تاہم پاکستان کے باخبر ادارے اس حقیقت سے واقف ہیں کہ کونسی بیرونی اور اندرونی عناصر باہم ملکرپاکستان کے لئے سماجی اور معاشی مسائل پیداکررہے ہیں۔ جن کی بیخ کنی ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ افواج پاکستان کے جوان ان ‘ دہشت گردوں اور شرپسند عناصر کے خلاف سینہ سپرہوکر مقابلہ کررہے ہیں۔ دراصل پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں وہ عناصر پیش پیش ہیں جن کو بیرونی مالی امداد مل رہی ہے‘ نیز انہیں ایک مخصوص انداز میں ریاست پاکستان کے خلاف ’’ منظم‘‘ پروپیگنڈا کیاجارہاہے تاکہ پاکستان ترقی نہ کرسکے ۔ پاکستان کی عسکری قیادت کے علاوہ پاکستان کے پڑھے لکھے افراد اس حقیقت کاادراک رکھتے ہیں کہ وہ کون سے عناصر ہیں جو بیرونی اشاروں اور سہاروں کے ذریعے پاکستان کے اندر افراتفری پیداکرناچاہتے ہیں۔ جوعناصر پاکستان میں سیاسی عدم استحکام سے بھرپورفائدہ اٹھاکر ریاست پاکستان کے خلاف مذموم کارروائیاں کررہے ہیں۔ان کی اب ہر سطح پر بیخ کنی ہورہی ہے۔ دوسری طرف اگر پاکستان کے سیاستدان آپس کے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے ختم کرلیں تو پاکستان میں نہ صرف سیاسی‘ استحکام پیداہوسکتاہے جو بعد میں سماجی استحکام کی صورت میں عوام میں خوشگوار اقتصادی ترقی کا باعث بن سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ’’بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے‘‘ ۔ دراصل پاکستانی سیاستدانوں کو اس بات کا ادراک ہی نہیں ہے کہ ان کی طرز سیاست کے ساتھ ساتھ ان کے سیاسی لب ولہجہ سے ملک میں استحکام نہیں پیدا ہورہاہے محض اخباری بیانات دیکر نہ تو ملک کی معیشت سنبھل سکتی ہے اور نہ ہی اقتصادی ترقی کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ ہرچند کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال کیا ہوا ہے۔ لیکن کیونکہ حکومت کرنے والوں کی نیت ٹھیک نہیں ہے۔ آپس میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ انہیں اس بات کاادراک نہیں ہے کہ ان کے اس طرز عمل سے مملکت خداداد پاکستان کو کتنا نقصان پہنچ رہاہے اور عوام میں غربت اور بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ اس وقت تک پاکستان وہ اقتصادی ترقی نہیں کرسکا ہے جو ہمارے ہمسائے پڑوسی ملک نے کی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ آپس کے اختلافات ہیں۔ جس کی وجہ سے بیشتر اچھی پالیسیاں بھی ناکام ہورہی ہیں۔ اس وقت پاکستان میں سیاسی عدم استحکام بدرجہ اتم موجود ہے جو ملک کی ترقی اور بیرونی سرمائے کی پاکستان میں آمد میں رکاوٹ کا سبب بن رہی ہیں۔
دوسری طرف موجودہ حکومت کا یہ خیال ہے کہ وہ ان نامساعد حالات پر قابو پاسکتی ہے لیکن کسی طرح‘؟اس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے اور نہ ہی ابھی تک ان کی کاوشوں سے سیاسی استحکام پیدا ہوا ہے۔ موجودہ حکومت کا یہ خیال ہے کہ وہ عمران خان کو جیل میں رکھ کر بہ آسانی حکومت کرسکتی ہے‘ ایک ناقص خیال ہے۔ عمران خان پاکستان کی سیاست میں ایک حقیقت ہے اور اس حقیقت کی موجودگی سے انکار کرنا یاصرف نگاہ کرنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ بلکہ حالات کا تقاضا ہے کہ فی الفور حکومت وقت اور پی ٹی آئی کے درمیان ڈائیلاگ شروع ہوناچاہیے تاکہ مملکت کاکاروبار آگے کی طرف بڑھے۔ سیاسی عدم استحکام سے ملک میں نہ تو پائیدار امن قائم ہوسکتاہے اور نہ ہی ملک میں معاشی ترقی کے امکانات پیداہوسکتے ہیں۔ سیاستدانوں کے درمیان باہمی اختلافات کو ہوا دینا نہیں ہوناچاہیے بلکہ باہمی اختلافات کو کم کرکے ملک اور عوام کی ترقی کی طرف یکسوئی سے دھیان دیناچاہیے اگر ملک میں تسلسل کے ساتھ اقتصادی ترقی ہوگی تو اس صورت میں عوام کو بھی اس کے فوائد میسر آسکیں گے ‘بے روزگاری بتدریج کم ہوسکے گی اور عوام میں محنت کرنے کا جذبہ پیدا ہوسکے گا۔ اس وقت پاکستان میں اقتصادی ترقی کی رفتار انتہائی سست ہے‘ موجودہ حکومت نے جس قسم کی پالیسیوں کا اجرا کیا ہے ان سے فی الحال عوام کے مختلف طبقوں میں کسی قسم کی ترقی کی صورت پیدا نہیں ہوسکی ہے جس کی امید کی جارہی تھی۔ موجودہ حکومت ابھی تک ایسی پالیسیاں عوام کے سامنے نہیں لاسکی ہے جس کی بنیاد پر یہ کہاجاسکے کہ عوام میں کسی حد تک غربت اور بے روزگاری ختم ہورہی ہے ۔ نیز حکومت وقت ابھی تک مہنگائی کو کم نہیں کرسکی ہے اور نہ ہی روزگار کے نئے ذرائع پیدا کرسکی ہے۔ عوام میں معاشی عدم استحکام کی وجہ سے پریشانی اور مایوسی لاحق ہورہی ہے۔ چنانچہ حکومت کو فی الفور ایسی پالیسیوں کااعلان کرناچاہیے جس کے تحت روزگار کے نئے ذرائع پیدا ہوسکیں۔ نیز نئے کارخانے بھی لگ سکیں جس میں مزدوروں کی کھپت ہوسکے۔ اس وقت ملک میں صنعت سازی کا پہیہ رکا ہوا ہے اس کو چلانے کیلئے سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے تاکہ بے روزگاری کا خاتمہ ہوسکے نیز نئی سرمایہ کاری کو حوصلہ مل سکے۔ پاکستان صرف اور صرف صنعت سازی کے ذریعے ترقی کرسکتاہے بلکہ اس کے ذریعے روزگار کے نئے ذرائع بھی پیداہوسکتے ہیں۔ اس وقت حکومت کو ایک بڑے ویژن کی ضرورت ہے جو ذاتی مفادات سے ہٹ کر ملک اور عوام کی فلاح وبہبود کے لئے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ عوام میں نیا حوصلہ پیدا ہوسکے اور وہ حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ ملک کی ترقی کیلئے قدم بڑھاسکیں اور یہ سب کچھ حکومت اپنی عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے کرسکتی ہے۔ ذرا سوچیئے!

یہ بھی پڑھیں