لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ ملک کی مجموعی صورتحال خراب سے خراب تر ہو رہی ہے۔ کوئی ایک شعبہ بھی ایسا نہیں کہ جس کی مثال دی جاسکے کہ وہ ترقی کر رہا ہے عالمی سطح پر ہمارے پاسپورٹ کی قدر مسلسل کم ہو رہی ہے۔ اب تو ہمارا شمار افریقہ کے ان ممالک کے برابر بھی نہیں جو کسی زمانے میں قحط کے مارے تھے جنہیں ہمارا ملک بھی شائد ترس کھاکر امداد دے چکا ہو۔ اب تو ان ممالک کی ریٹنگ بھی ہم سے کہیں بہتر ہے۔ اگر یہی حالت رہی تو ممکن ہے تو خدانخواستہ ہمارا شمار دنیا کے پست ترین ملک کے طور پر ہو جائے۔ ایسا کیوں ہے؟ بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے اگر ہم عدل و انصاف کو پیمانہ بنائیں تو وجوہات جاننے میں آسانی ہوگی۔ دنیا آگے کی طرف سفر کر رہی ہے اور ہمارا سفر ترقی معکوس کی طرف۔1947 ء سے اب تک آپ تجزیہ کرلیں۔ ابتدائی چند سالوں میں ہم نے ہر شعبے میں ترقی کی۔ لوگوں میں آگے بڑھنے کا جذبہ تھا ‘ خلوص تھا ملک کے ساتھ وفاداری نبھانے کا ولولہ تھا مگر پھر مادہ پرستی غالب آگئی۔ صرف اپنی قومی فضائی کمپنی کو لے لیں۔ ایک وقت تھا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے لئے بھی پی آئی اے کی حیثیت ایک اکیڈمی کی تھی۔ مگر اب صورتحال سب کے سامنے ہے۔ کہنے کی ضرورت نہیں ۔ قومی اثاثے بیچے جارہے ہیں۔ اتنے بڑے ادارے کی بولی دس ارب روپے لگتی ہے اور اس رقم کی حیثیت قومی خزانے میں مونگ پھلی کے ایک دانے کے برابر ہے۔
بات ہو رہی تھی عدل و انصاف اور قانون کی حکمرانی کی۔ جس معاشرے میں اللہ کے نظام کو پس پشت ڈال دیا جائے۔ جہاں اللہ کے بنائے ہوئے اصول اور قوانین کو پائوں تلے روند دیا جائے۔ جہاں امیر و غریب میں اتنا فرق ڈال دیا جائے کہ اشرافیہ کا عام شہری کے ساتھ ہاتھ ملانا حیرت کی بات سمجھی جائے‘ جہاں حکمران طبقہ اور اشرافیہ قانون سے بالاتر تصور ہوں‘ جہاں اشرافیہ کے لئے سپریم کورٹ کے دروازے آدھی رات کو کھل جائیں اور ایک غریب شخص جیلوں میں دس دس سال تک سڑتا رہے اور ایک پیشی کی نوبت بھی نہ آئے۔ جہاں انصاف بکتا ہو‘ جہاں امیر کا جرم معاف کر دیا جائے اور غریب کا مقدر زنداں ہو۔ جہاں مجرم کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہو‘ جہاں مظلوموں کی آواز کو د بایا جاتا ہو‘ جہاں ہر طر ف لاقانونیت ہو‘ عدالتی نظام کی عمارت منہدم ہوچکی ہو‘ ججز دبائوں کے تحت کام کریں‘ ججز کو آزادانہ فیصلوں سے روکا جاتا ہو‘ عدالتیں کسی کی کنیز اور کسی کی لونڈی بن چکی ہوں تو آپ خود فیصلہ کریں اس معاشرے کی صورتحال کیا ہوگی؟ انسان تو ایک وحشی درندہ ہے اگر اسے خوف خدا یا قانون کی لگام نہ ڈالی جائے تو وہ معاشرے کو چیر پھاڑ کر رکھ دے گا۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ یہ جانور ہیں بلکہ اس سے بھی بدتر‘‘
پاکستانی معاشرے کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں ہر طرف آپ کو انسان نما بھیڑیئے دکھائی دیں گے چونکہ لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔ خدا کا خوف ہے اور نہ ہی قانون کا ڈر ہے۔ جرم کرو اور چند روزجیل میں رہنے کے بعد آزاد ہو جائو اور پھر سے جرائم کی دنیا آباد کرو۔ مجرموں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ معاشرے کے شرفاء کا طبقہ (شریف طبقے سے مراد واقعاً شرافت دار لوگ نہ کہ حکمران طبقہً) سہمے سہمے اور ڈرے ڈرے رہتے ہیں کسی کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی مال اور جان محفوظ ہے۔ قتل و غارت گری کا دور دورہ ہے۔ ہمارے معاشرے میں انسانی جان کی وقعت ہے اور نہ ہی قدرو قیمت ۔ روزانہ اخبارات قتل اور مار دھاڑ کی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں۔ معاشرے کے لاوارث‘ لاچار‘ غریب لوگوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں مگر لوگ اس قدر بے حس ہوچکے ہیں کہ وہ ان بے چاروں کی فریادوں کو سنتے ہیں مگر سنی ان سنی کر دیتے ہیں۔ کوئی کسی کی مدد کرنے کو تیار نہیں۔ کسی کا مال محفوظ نہیں‘ دن دیہاڑے ڈاکے پڑ رہے ہیں۔ پولیس ایکشن لیتی ہے اور نہ ہی حکمران۔ ہر ایک اپنی موج مستی میں مست ہے۔ آپ روزانہ اخبار کاایک صفحہ سٹی پیج پڑھ لیس کریں۔ آپ کو اندازہ ہو جائے گاکہ ایک شہر میں روزانہ کی بنیاد پر کتنے جرائم ہو رہے ہیں۔ گاڑیاں چوری ہو رہی ہیں۔ موٹرسائیکل چھینے جارہے ہیں۔ ایک دن میں نجانے کتنے قتل ہو رہے ہیں ۔ کتنی عورتیں ہیں جو بے حیا مردوں کی ہوس کا شکار ہو رہی ہیں۔ راہ چلتے عورتوں کے پرس چھینے جارہے ہیں۔ گن پوائنٹ پر لوگوں کے موبائل چھینے جارہے ہیں اور جیبیں خالی کی جارہی ہیں۔ کیا یہ باتیں‘ یہ جرائم‘ یہ لاقانونیت خفیہ ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ ہم سب اس سے آگاہ ہیں۔ کیا میں نے آپ کو نئی خبر بتائی ہے؟ ہرگز نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ پولیس کا ادارہ اس سے بے خبر ہے؟ نہیں وہ بھی باخبر ہیں۔ انہیں معاشرے میں ہونے والے ایک ایک واقعہ سے آگاہی ہے مگر ایکشن کیوںنہیں لیا جاتا؟ ایکشن بھی لیا جاتا ہے اور گرفتاریاں بھی ہوتی ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر معاشرے سے جرائم کا خاتمہ کیوں نہیں ہو رہا؟ یہی اصل مسئلہ ہے۔ اگر پولیس کا محکمہ بھی الرٹ ہے۔ مجرموں کا پیچھا ہوتا ہے‘ گرفتاریاں عمل میں لائی جاتی ہیں اگر ایسا ہے اور یقینا ایسا ہے تو پھر جرائم کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے تھی۔ مگر ہم دیکھتے ہیں۔ جرائم میں روزانہ کے حساب سے اضافہ ہو رہا ہے۔ لاقانونیت بڑھ رہی ہے پولیس مجرموں کو گرفتار کرتی ہے ان کی گرفتاری کے بعد پہلے ہی مک مکا کرلیا جاتا ہے ۔
ہمارا معاشرہ کبھی بھی درست نہیں ہوسکتا‘ جرائم کی شرح بالکل کم نہیں ہوسکتی‘ قتل و غارت گری اسی طرح جاری و ساری رہے گی‘ ڈاکے چوریاں بھی اسی تناسب سے ہوتی رہیں گی اگر قانون پر عملدرآمد کو یقینی نہ بنایا گیا۔ ہم دیگر ممالک کو دیکھتے ہیں جہاں جرائم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ حتی کہ عرب ریاستوں میں لوگ پرامن اور بے خوف زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کی فقط ایک ہی وجہ ہے۔ عدالتوں کا جلد انصاف فراہم کرنا اور ان فیصلوں پر فوری عملدرآمد کرنا۔ جب تک مجرم کو سزا کا خوف نہیں ہوگا یہی کچھ ہوتا رہے گا ۔ جن پریشانیوں اور مصیبتوں میں آج ہم گھرے ہوئے ہیں۔