Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

پاکستان کا نظام اور عوام

عوام سے ملک بنتے ہیں یا اس ملک میں رہنے والے لوگ ہی ملک ہوتے ہیں عوام کے بغیر ملک نہیں جنگل یا امیزون ہوتا ہے ہمیشہ سے جد وجہد یا لڑائی نظام اور عوام کے درمیان رہی ہے نظام اگر عوام کے تابع ہو اور عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے بنایا جائے تو ریاست کی طاقت بنتی ہے چونکہ عوام ہمیشہ نظام پر بھاری ہوتے ہیں لڑائی کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو عوامی مفاد عامہ کے خلاف بننے والے نظام نے ہمیشہ عوام سے شکست کھائی ہے یہ جو انقلاب فرانس آیا تھا اور پھر دو سو سال پہلے امریکن آئین آیا یہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کی خاطر ہی تو آیا تھا پھر جس طرح برطانیہ کی جمہوریت کی بنیادیں پکی ہوئی ہیں یہ بھی آگ اور خون کی ندیاں عبور کرکے یہاں تک کا طویل سفر طے ہوا ہے یہ پوری آٹھ نو سال کی طویل جہد مسلسل ہے پھر جاکر ووٹ کو عزت ملی ہے اور جمہوری نظام میں عوامی رائے شامل ہوئی ہے پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر کو جانچنے کے لئے اگر پاکستان کی تاریخ پر طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو پاکستان پر کیا جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خاں، جنرل ضیا،جنرل مشرف ووٹ کی طاقت سے آئے تھے بالکل نہیں یہ آمرانہ نظام تھا جس سے نہ صرف ہمارا ملک دو لخت ہوا بلکہ اس کے اثرات نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ ہے جس کا براہ راست عوام اور ملک کو نقصان ہورہا ہے اس آمرانہ نظام کے گملے سے کئی کیاریاں پھوٹی ہیں جو بلواسطہ یا بلاواسطہ اس نظام کو طوالت دینے پر بضد ہیں موجودہ حالات میں آمرانہ جاگیردارانہ،سرمایہ دارانہ عاقبت نا اندیش عناصر نے اس آمرانہ جابرانہ نظام سے جان چھوڑانے کے بجائے اس نظام کو دھکا دینے کی ناکام کوشش جاری رکھی ہوئی ہے ڈھائی سال پہلے جس طرح عمران خان کی حکومت کو ایک جھٹکے سے ختم کیا گیا تھا اس کے بعد مقابلے میں استحکام پاکستان پارٹی لائونچ کی گئی پارٹی لیڈروں کو جیلوں میں ڈالا گیا ان کی وفاداریاں تبدیل کی گئی سیاسی ورکروں کو بے دردی سے مارا گیا پھر ماورائے آئین الیکشن التوا میں ڈالے گئے پھر 9 مئی ہوا پھر چادر اور چار دیواری پائمال ہوئی کسی کی جان و مال محفوظ نہیں رہی پھر عورت کارڈ، یہودی کارڈ،عدت کارڈ ‘توشہ خانہ کارڈ زنانہ مردانہ جھوٹے سیاسی انتقامی کیسسز پھر ذاتی حملے جیل میں عمران خان کی بجلی بند حقہ پانی ایکسرسائز تک کو بند کیا گیا الیکشن میں اس کی پارٹی سے انتخابی نشان چھین لیا گیا پھر الیکشن کروائے گئے پھر الیکشن میں عوام سے نظام کو منہ کی کھانی پڑی نظام کے خلاف پاکستانی عوام نے ووٹ دئیے عمران کی جیت ہوئی حالانکہ الیکشن کمپیئن نہیں کرنے دی گی پھر نتائج روکے رکھے دھاندلی کے سارے ریکارڈ توڑے گئے نتائج تبدیل کیے گئے ہارے ہوئے لوگوں کو ملک پر مسلط کیا گیا آج بغض عمران اپنی جگہ اس کی غلطیاں اپنی جگہ کیا فارم 47 والوں سے ملک چل رہا ہے؟
کیا 8 فروری کے الیکشن میں عوام کے ووٹ چوری نہیں ہوئے؟
کیا ان لوگوں کو اقتدار پر نہیں بٹھایا گیا جن کو عوام نے الیکشن میں رد کردیا تھا؟کیا سپریم کورٹ کا بیڑہ غرق نہیں کہا گیا؟
کیا آج کی حکومت نے پارلیمنٹ کو ایک ربڑ سٹیمپ نہیں بنا دیا ؟
ملک کی معیشت، داخلی امور دہشت گردی صوبوں میں افراتفری اور بدامنی کی ذمہ داری کس ہر ڈالی جائے ؟
میں برطانیہ میں برطانوی جمہوریت سے مستفید ہو رہا ہوں اور ووٹ کے آزادانہ استعمال اور پھر ووٹ نتائج کے معترف ہوں یقینا برطانیہ میں رہنے والے بھی اسی نظام سے فائدہ آٹھا رہے ہیں خدا راہ گملوں کے نظام کی سپورٹ نہ کریں عوام کے ساتھ کھڑے رہیں عوام اور نظام کی جنگ میں عوام ہمیشہ جیتی ہے بات اب ایک عمران خان کی نہیں رہی یہ جدوجہد نظام کی تبدیلی جمہوریت، آزادی اظہار رائے انسانی حقوق اور عوامی رائے کے احترام کی ہے ملازمین کا کام نوکری کرنا ہے سیاست دانوں کا کام ملکی امور چلانا ہے فوج سرحدوں کی محافظ ہے اس لئے نظام اور عوام کی جنگ میں عوام کے ساتھ کھڑے ہوجائیں کرم ایجنسی سے لے کر گوادر کشمیر کے پہاڑوں پھر خلیجی ممالک سے کر یوکے یورپ اور امریکہ تک آباد پاکستانی پاکستان کے موجودہ نظام کے خلاف سراپا احتجاج ہیں لندن کی 10 ڈوننگ سٹریٹ، برسلز، آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ ‘ نیویارک اور کیلیفورنیا تک پاکستانی پاکستان کے موجودہ حالات اور نظام کے خلاف احتجاج کررہے ہیں یہ سب پاکستان کے عدالتی،عسکری سیاسی حکومتی سیاست پر عدم اعتماد ہے جس سے ملک کا نقصان ہے پاکستانی تو پاک افواج کے حق میں نعرے لگاتے تھے کارگل محاذ پر ہم نے دیکھا پاک فوج کے حق میں دنیا بھر کے سفارت خانوں کے باہر مظاہرے کئے گے۔ عمران خان سے بات کئے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا چونکہ اس کے ساتھ عوام ہے عوامی مینڈیٹ ہے عوامی تائید اور سپورٹ ہے یہ ملک کے لئے فائدے کی بات ہے عمران خان اس وقت تک relevant ہے جب تک اس کا متبادل نہیں آتا فلحال جتنا بھی زور لگایا گیا وہ کارگر ثابت نہیں ہوا۔ 24 نومبر کوتو کنٹینرز لگا کر آپ ملک بند کرسکتے ہیں یہ تو کچھ نہیں میڈیا بلیک آئوٹ کرواسکتے ہیں لیکن یہ تو آغاز ہے دس بیس دن کے بعد پھر کال آئے گی کب تک آپ ملک بند کرتے رہیں گے اگر عمران خان نہ ہوگا تو یہ جو شعور کا جن بوتل سے باہر آگیا وہ دوبارہ بند کرنا ناممکن ہے ریاست کو آگے چلنے دینے کے لئے ملک و قوم کو بند گلی کوچوں سے نکالنا پڑتا ہے ہائبرڈ پلس نظام فائر وال مقدمات جبر جور زبردستی سارے حربے استعمال کرنے سے لوگوں کا خوف بھی ختم ہوگیا ڈنڈے کو قانون کے تحت رکھا جائے تو عوام کی تائید حاصل ہوتی ہے یہ نفرتیں ختم کریں آپ چلے جائیں گے ہم بھی چلے جائیں گے اداروں اور ملک کی عزت بے توقیر نہ کریں یہاں سدا بادشاہی اللہ کی ہے اور رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں