عوام سے ملک بنتے ہیں یا اس ملک میں رہنے والے لوگ ہی ملک ہوتے ہیں عوام کے بغیر ملک نہیں جنگل یا امیزون ہوتا ہے ہمیشہ سے جد وجہد یا لڑائی نظام اور عوام کے درمیان رہی ہے نظام اگر عوام کے تابع ہو اور عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے بنایا جائے تو ریاست کی طاقت بنتی ہے چونکہ عوام ہمیشہ نظام پر بھاری ہوتے ہیں لڑائی کتنی ہی لمبی کیوں نہ ہو عوامی مفاد عامہ کے خلاف بننے والے نظام نے ہمیشہ عوام سے شکست کھائی ہے یہ جو انقلاب فرانس آیا تھا اور پھر دو سو سال پہلے امریکن آئین آیا یہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کی خاطر ہی تو آیا تھا پھر جس طرح برطانیہ کی جمہوریت کی بنیادیں پکی ہوئی ہیں یہ بھی آگ اور خون کی ندیاں عبور کرکے یہاں تک کا طویل سفر طے ہوا ہے یہ پوری آٹھ نو سال کی طویل جہد مسلسل ہے پھر جاکر ووٹ کو عزت ملی ہے اور جمہوری نظام میں عوامی رائے شامل ہوئی ہے پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر کو جانچنے کے لئے اگر پاکستان کی تاریخ پر طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو پاکستان پر کیا جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خاں، جنرل ضیا،جنرل مشرف ووٹ کی طاقت سے آئے تھے بالکل نہیں یہ آمرانہ نظام تھا جس سے نہ صرف ہمارا ملک دو لخت ہوا بلکہ اس کے اثرات نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ ہے جس کا براہ راست عوام اور ملک کو نقصان ہورہا ہے اس آمرانہ نظام کے گملے سے کئی کیاریاں پھوٹی ہیں جو بلواسطہ یا بلاواسطہ اس نظام کو طوالت دینے پر بضد ہیں موجودہ حالات میں آمرانہ جاگیردارانہ،سرمایہ دارانہ عاقبت نا اندیش عناصر نے اس آمرانہ جابرانہ نظام سے جان چھوڑانے کے بجائے اس نظام کو دھکا دینے کی ناکام کوشش جاری رکھی ہوئی ہے ڈھائی سال پہلے جس طرح عمران خان کی حکومت کو ایک جھٹکے سے ختم کیا گیا تھا اس کے بعد مقابلے میں استحکام پاکستان پارٹی لائونچ کی گئی پارٹی لیڈروں کو جیلوں میں ڈالا گیا ان کی وفاداریاں تبدیل کی گئی سیاسی ورکروں کو بے دردی سے مارا گیا پھر ماورائے آئین الیکشن التوا میں ڈالے گئے پھر 9 مئی ہوا پھر چادر اور چار دیواری پائمال ہوئی کسی کی جان و مال محفوظ نہیں رہی پھر عورت کارڈ، یہودی کارڈ،عدت کارڈ ‘توشہ خانہ کارڈ زنانہ مردانہ جھوٹے سیاسی انتقامی کیسسز پھر ذاتی حملے جیل میں عمران خان کی بجلی بند حقہ پانی ایکسرسائز تک کو بند کیا گیا الیکشن میں اس کی پارٹی سے انتخابی نشان چھین لیا گیا پھر الیکشن کروائے گئے پھر الیکشن میں عوام سے نظام کو منہ کی کھانی پڑی نظام کے خلاف پاکستانی عوام نے ووٹ دئیے عمران کی جیت ہوئی حالانکہ الیکشن کمپیئن نہیں کرنے دی گی پھر نتائج روکے رکھے دھاندلی کے سارے ریکارڈ توڑے گئے نتائج تبدیل کیے گئے ہارے ہوئے لوگوں کو ملک پر مسلط کیا گیا آج بغض عمران اپنی جگہ اس کی غلطیاں اپنی جگہ کیا فارم 47 والوں سے ملک چل رہا ہے؟
کیا 8 فروری کے الیکشن میں عوام کے ووٹ چوری نہیں ہوئے؟
کیا ان لوگوں کو اقتدار پر نہیں بٹھایا گیا جن کو عوام نے الیکشن میں رد کردیا تھا؟کیا سپریم کورٹ کا بیڑہ غرق نہیں کہا گیا؟
کیا آج کی حکومت نے پارلیمنٹ کو ایک ربڑ سٹیمپ نہیں بنا دیا ؟
ملک کی معیشت، داخلی امور دہشت گردی صوبوں میں افراتفری اور بدامنی کی ذمہ داری کس ہر ڈالی جائے ؟
میں برطانیہ میں برطانوی جمہوریت سے مستفید ہو رہا ہوں اور ووٹ کے آزادانہ استعمال اور پھر ووٹ نتائج کے معترف ہوں یقینا برطانیہ میں رہنے والے بھی اسی نظام سے فائدہ آٹھا رہے ہیں خدا راہ گملوں کے نظام کی سپورٹ نہ کریں عوام کے ساتھ کھڑے رہیں عوام اور نظام کی جنگ میں عوام ہمیشہ جیتی ہے بات اب ایک عمران خان کی نہیں رہی یہ جدوجہد نظام کی تبدیلی جمہوریت، آزادی اظہار رائے انسانی حقوق اور عوامی رائے کے احترام کی ہے ملازمین کا کام نوکری کرنا ہے سیاست دانوں کا کام ملکی امور چلانا ہے فوج سرحدوں کی محافظ ہے اس لئے نظام اور عوام کی جنگ میں عوام کے ساتھ کھڑے ہوجائیں کرم ایجنسی سے لے کر گوادر کشمیر کے پہاڑوں پھر خلیجی ممالک سے کر یوکے یورپ اور امریکہ تک آباد پاکستانی پاکستان کے موجودہ نظام کے خلاف سراپا احتجاج ہیں لندن کی 10 ڈوننگ سٹریٹ، برسلز، آسٹریلیا‘ نیوزی لینڈ ‘ نیویارک اور کیلیفورنیا تک پاکستانی پاکستان کے موجودہ حالات اور نظام کے خلاف احتجاج کررہے ہیں یہ سب پاکستان کے عدالتی،عسکری سیاسی حکومتی سیاست پر عدم اعتماد ہے جس سے ملک کا نقصان ہے پاکستانی تو پاک افواج کے حق میں نعرے لگاتے تھے کارگل محاذ پر ہم نے دیکھا پاک فوج کے حق میں دنیا بھر کے سفارت خانوں کے باہر مظاہرے کئے گے۔ عمران خان سے بات کئے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا چونکہ اس کے ساتھ عوام ہے عوامی مینڈیٹ ہے عوامی تائید اور سپورٹ ہے یہ ملک کے لئے فائدے کی بات ہے عمران خان اس وقت تک relevant ہے جب تک اس کا متبادل نہیں آتا فلحال جتنا بھی زور لگایا گیا وہ کارگر ثابت نہیں ہوا۔ 24 نومبر کوتو کنٹینرز لگا کر آپ ملک بند کرسکتے ہیں یہ تو کچھ نہیں میڈیا بلیک آئوٹ کرواسکتے ہیں لیکن یہ تو آغاز ہے دس بیس دن کے بعد پھر کال آئے گی کب تک آپ ملک بند کرتے رہیں گے اگر عمران خان نہ ہوگا تو یہ جو شعور کا جن بوتل سے باہر آگیا وہ دوبارہ بند کرنا ناممکن ہے ریاست کو آگے چلنے دینے کے لئے ملک و قوم کو بند گلی کوچوں سے نکالنا پڑتا ہے ہائبرڈ پلس نظام فائر وال مقدمات جبر جور زبردستی سارے حربے استعمال کرنے سے لوگوں کا خوف بھی ختم ہوگیا ڈنڈے کو قانون کے تحت رکھا جائے تو عوام کی تائید حاصل ہوتی ہے یہ نفرتیں ختم کریں آپ چلے جائیں گے ہم بھی چلے جائیں گے اداروں اور ملک کی عزت بے توقیر نہ کریں یہاں سدا بادشاہی اللہ کی ہے اور رہے گی۔