Search
Close this search box.
جمعرات ,25 جون ,2026ء

جوہری خطے میں ڈرونز: جنگی ٹیکنالوجی کی نئی حقیقت

ٹرمپ کے دوبارہ صدرمنتخب ہونے کے بعدان کی کابینہ کی اہم نامزدگیوں کے پیشِ نظریہ بات آسانی سے سمجھ آرہی ہے کہ وہ اس مرتبہ پھرچین پرتجارتی پابندیوں کے علاوہ اس کی بڑھتی ہوئی معاشی ترقی پر قدغن لگانے کے لئے جاری امریکی پالیسیوں کو بڑھاوا دیں گے اورخطے میں چین کے محاصرے کے لئے ’’کواڈ‘‘جیسے اتحادپرتیزی سے کام شروع کریں گے۔ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اقدامات کوروکنے کے لئے مودی اپنی جغرافیائی حیثیت کابھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے کرائے کے سپاہی کے طورپرکردار اداکرنے کے لئے تیار بیٹھا ہے اور ان دنوں اپنے جنگی جنون میں مبتلادنیا بھر سے اسلحے کے ڈھیرلگاکرپڑوسیوں کومرعوب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
یہی وجہ ہے کہ انڈیاان دنوں عسکری ڈرونزکی تعدادمیں اضافہ کررہاہے اوریقینا ان حالات میں پاکستان ایک خاموش تماشائی بن کرنہیں رہ سکتا۔ اب دونوں ممالک کی جانب سے نہ صرف کئی غیرملکی ڈرونزخریدے گئے ہیں بلکہ خودبھی اس ٹیکنالوجی کو تیارکیاجارہاہے جوبِناپائلٹ کے دشمن پرنگرانی، جاسوسی یااہداف کونشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ایشیاکی تین پڑوسی اورجوہری طاقتوں پاکستان، انڈیااورچین کی طرف سے اپنی جنگی صلاحیت بڑھانے کیلئے بِنا پائلٹ ڈرونزکے استعمال میں تیزی یقیناان دیکھی قیامت کی آمدکی نشاندہی کرتی ہے۔ کیونکہ افواج میں وسیع پیمانے پرڈرونزکی شمولیت نے جنوبی ایشیاء میں جنگ کاطریقہِ کاربدل دیاہے اور آئندہ کسی بھی تنازع یاجھڑپ کی صورت میں ڈرون کااستعمال کہیں زیادہ ہوگا۔ان تینوں ملکوں میں بڑے پیمانے پرڈرون کی موجودگی اورایک دوسرے کے خلاف جاسوسی اورنگرانی میں ان کابڑھتاہوااستعمال مستقبل قریب میں ٹکراؤ اور کشیدگی کاسبب بن سکتاہے۔
آخریہ خطرناک حد تک جنگی صلاحیتیں کیا ہیں، ان کے مضمرات دنیاکے امن کوکس طرح نگل کر اندھیروں میں تبدیل کرسکتے ہیں ،آئیے اس تحریرمیں ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ روایتی حریف سمجھے جانے والے پڑوسی ممالک انڈیااورپاکستان کے پاس کیا ڈرون صلاحیتیں ہیں اورحالیہ عرصے میں دونوں نے کِن ان مینڈایریئل وہیکلز(یواے ویز) کا اضافہ کیا ہے۔ دراصل عسکری مقاصد کے لئے استعمال ہونے والے ڈرونزانتہائی اونچائی پردیرتک پرواز کرنے اورریڈارمیں آئے بغیرزمین پرفوج کی سرگرمیوں،ان کی تعیناتیوں، اہم تنصیبات،نئی تعمیرات اورفوجی ٹھکانوں وغیرہ کی مثرنگرانی اورمخصوص ہدف کوتباہ کرنے میں زبردست مہارت رکھتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ایک فوجی ڈرون تین بنیادی کام کر سکتا ہے:
٭نگرانی کرنااورحریف کی سرگرمیوں پرنظررکھنا۔
٭جاسوسی کرنا،یعنی یہ دیکھناکہ دوسری طرف اسلحہ یافوجی کہاں تعینات ہیں۔
٭ہدف کی نشاندہی اوراسے تباہ کرنا۔
کئی ڈرونزیہ تینوں کام کرتے ہیں مگربعض کی صلاحیت محدودہوتی ہے۔اگرہم ڈرونزکے لحاظ سے انڈیااورپاکستان کی عسکری صلاحیتوں کاموازنہ کریں تویہ معلوم ہوتاہے کہ دونوں حریف ممالک نے ماضی قریب کے دوران اس میں اضافہ کیاہے۔انڈیااور پاکستان دونوں ہی ڈرونزکی تعدادمیں اضافہ کررہے ہیں۔ایک اطلاع کے مطابق آئندہ دو،چاربرس میں انڈیاکے پاس تقریبا5ہزار ڈرونزہوں گے جبکہ پاکستان کے پاس تعدادمیں توانڈیاسے کم ہیں لیکن پاکستان کے پاس موجود ڈرونزانڈیاسے کہیں بہتراورمختلف صلاحیتیں رکھنے والے ہیں اوریہ10سے11 مختلف ساخت کے ہیں۔
اگرہم انڈیاکی مثال لیں تومودی نے رواں سال اکتوبرمیں امریکی دورے کے دوران امریکا سے ساڑھے تین ارب ڈالر مالیت کے31 ’’ریڈیٹر‘‘ ڈرون خریدنے کامعاہدہ کیا ہے جوکہ بلندی پرکام کرتے ہیں جسے’’ہائی الٹیٹیود لانگ انڈیورینس‘‘ڈرون کہتے ہیں انڈین دفاعی امورکے ماہرکے مطابق انڈیاکے پاس اس طرح کے ڈرونزکاکوئی مقامی طورپر تیارکردہ متبادل نہیں ہے اورنہ ہی اسے بنانے کے لئے کسی دوسرے ملک کے ساتھ کوئی شراکت داری ہے۔جہاں تک اس کی نگرانی کی صلاحیتوں کاتعلق ہے،یہ ڈرون اب تک کاسب سے بہترڈرون ہے۔نگرانی کے علاوہ اس میں ہدف کونشانہ بنانے کی صلاحیت ہے۔ انڈیانے ان کے ساتھ500 ملین ڈالرکے ان ڈرونزکے ذریعے ہدف کوتباہ کرنے میں استعمال ہونے والے بم اورلیزرگائیڈڈمیزائل بھی خریدے جائیں گے۔امریکاکے یہ پریڈیٹرڈرونز انتہائی مہنگے ہیں۔انڈین کرنسی میں ایک ڈرون کی قیمت تقریباً 950کروڑ روپے ہے۔31میں سے15 ڈرون انڈین بحریہ میں شامل کیے جائیں گے اورباقی16 بری فوج اورفضائیہ میں برابرتقسیم ہوں گے۔جموں ایئربیس پر2021ء کے ڈرون حملے کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں، جموں کے بعدہم نے بہت سے ڈرون شکن ڈرونزتیارکیے ہیں جومجھے یقین ہے کہ انڈین فضائیہ نے تعینات کردئیے ہیں۔
پریڈیٹرڈرونزدنیاکے سب سے کامیاب اور خطرناک ڈرون تصور کئے جاتے ہیں۔ان کا استعمال افغانستان،عراق،شام،صومالیہ اور کئی دیگرملکوں کے ٹھکانوں اوراہداف کوتباہ کرنے میں کیاگیاتھا۔انڈیااس سے پہلے اسرائیل کے ’’ہیرون‘‘ خریدچکاہے اور اسرائیل ایروسپیس ایجنسی سے لائسنس کے تحت وہ اب یہ ڈرون خودانڈیامیں بنارہاہے۔ مئی 2020ء میں لداخ میں چین کے ساتھ سرحدی ٹکراؤکے بعدڈرون اوریواے ویزکی اہمیت انڈیامیں بہت بڑھ گئی ہے۔اس وقت انڈیا میں بحریہ پرزیادہ توجہ دی جارہی ہے کیونکہ بحرہندمیں چینی بحریہ اورانڈین بحریہ کے جہازسرگرم ہیں اور انڈیا کی توجہ اس خطے پرکافی زیادہ ہے۔امریکابھی انڈیا سے یہی چاہتاہے کہ وہ اس خطے میں چینی بحریہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھے۔اب دیکھنایہ ہے کہ ان حالات میں انڈیا اور پاکستان کی افواج میں ڈرون کی شمولیت اوراس کے اثرات کیاہوں گے!
آئیے!ان حالات میں انڈیااورپاکستان کی افواج میں ڈرون کی شمولیت اوراس کے اثرات کاجائزہ لیتے ہیں!
انڈیاکے ڈرون پروگرام کاایک اہم پہلو ’’سوارم ڈرونز‘‘کی شمولیت ہے۔یہ ان آرمڈ ایریئل وہیکل ہے اوریہ بڑی تعداد میں اکھٹے اڑتے ہیں۔یہ پیچیدہ مشن پرکام کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔ انہیں انڈیاکی دفاعی حکمت عملی،خاص کرپاکستان کی طرف سے کسی خطرے کوناکام بنانے کااہم حصہ تصورکیا جاتا ہے۔اسے انڈیاکی فرم نیوسپیس ریسرچ اینڈ ٹیکناوجیز نے تیارکیاہے۔یہ ڈرون دشمن کے دفاعی نظام کوناکارہ بناکرجوہری بم لانچ کرنے والے پلیٹ فارموں کوتباہ کرنے سمیت بہت سارے ڈرون سے ایک ساتھ حملہ کر کے کئی اہداف کوبربادکرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ڈرون یابغیرپائلٹ کے چھوٹے جہازجنہیں ’’یواے وی‘‘کہاجاتاہے،نسبتاًسستے ہوتے ہیں،ان کا استعمال کرناآسان ہوتاہے اور ان میں ایسی صلاحیتیں ہیں جوروایتی جنگی حکمت عملی کوپوری طرح الٹادیتی ہیں۔ اگرچہ خمیم ایئربیس پرحملے کے لئے استعمال کیے گئے ڈرون ڈیزائن کے اعتبارسے بنیادی قسم کے تھے لیکن وہ جنگ کے ایک ایسے مستقبل کی علامت تھے جس میں ایک سے زیادہ ڈرون ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اورہم آہنگی میں ہدف پرحملہ کرتے ہیں اور لمحہ بہ لمحہ انسانی مداخلت کے بغیرخودمختاراندازاورغیرمعمولی تیزی رفتاری سے کام کرتے ہیں۔
دفاعی زبان میں اس طرح کے ڈرونزیا ’’یواے وی‘‘کو ’’سوارم ڈرون‘‘کہاجاتاہے جس میں ڈرونزکاایک گروہ،جس میں10یا100یا1000 سے زیادہ ڈورنزایک ساتھ پرواز کرتے ہوئے ہدف کونشانہ بناتے ہیں۔اس میں ہرڈرون آزادانہ طور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ گروہ کے باقی ڈرونزکے ساتھ اس طرح سے ہم آہنگ ہوتاہے کہ ہرلمحے انسانی آپریٹرکی مداخلت کے بغیریہ اپناکام مثرطریقے سے انجام دیتاہے ۔انڈین فضائیہ کے لئے سوارم ڈرون تیارکرنے والی کمپنی کے بانی کے مطابق’’سوارم ڈرون‘‘ ہی جنگ کامستقبل ہیں اورانڈیابھی اس میں حصے داری لینے کی کوشش کررہاہے۔(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں