Search
Close this search box.
پیر ,06 جولائی ,2026ء

بابری مسجد کے بعد اب شاہی جامع مسجد اتر پردیش

(گزشتہ سے پیوستہ)
مسلمان مساجد میں جگہ کی تنگی یا مساجد کی عدم موجودگی کے باعث نماز جمعہ کھلے میدانوں میں بھی ادا کرتے تھے،تو یوگی نے نہ صرف ہندوتوا شر پسندوں سے ان پر حملے کروائے بلکہ اس کے سدباب کیلئے ریاستی میشنری کا بھرپور استعمال بھی کیا ہے۔دراصل رواں برس بھارتی پارلیمانی انتخابات میں ریاست اتر پردیش میں بی جے پی کی شکست کا بدلہ اب مسلمانوں سے لیا جارہا ہے،کیونکہ ریاست سے بڑی تعداد میں مسلمان نہ صرف خود منتخب ہوئے بلکہ ان کی حمایت سے سماج وادی پارٹی اور کانگریس نے بی جے پی کو پچھاڑ دیا ہے۔جس کا بی جے پی کو بہت قلعق ہے۔مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ 2019 ء میں بابری مسجد سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے ، جس میں ایودھیا میں متنازعہ اراضی کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کی اجازت دی گئی تھی، نے ہندوتوا گروپوں کو بھارت بھر میں مساجد کو نشانہ بنانے کا حوصلہ بخشا ہے،جس سے06 دسمبر 1992 ء میں ایڈوانی،منوہر جوشی اور اوما بھارتی کی سربراہی میں پورے بھارت سے لائے گئے پرچارکوں کی مدد سے شہید کیا گیا تھا، اور پھر طرفہ تماشہ یہ کہ فسطائی مودی سمیت پوری بی جے پی نے بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو اپنے حق میں ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کیا ،حالانکہ پوری دنیا میں رنجن گوگوئی نامی بھارتی سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس کی خوب لعنت ملامت کی اور وہ فیصلہ اس کی جگ ہنسائی کا باعث بن گیا،جو آج بھی اس کا پیچھا کررہا ہے۔اسی فیصلے میں اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا گیا کہ کھدائی کے دوران بابری مسجد کے نیچے سے مندر کے کوئی اثار نہیں ملے،مگر جہاں افضل گورو کی پھانسی کو بھارتی عوام کے ضمیر کو مطمئن کرنے کیلئے ناگزیر قرار دینے والی بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بھارت کیلئے ذلت و رسوائی ہے،وہیں بابری مسجد کا فیصلہ بھی بھارت کے دامن پر ایک ایسا دھبہ ہے،جس سے کسی صورت دھویا نہیں جاسکتا۔بابری مسجد کی تعمیر کیلئے بھی ایودھیا میں ہی 05 ایکڑ زمین دینے کے احکامات فیصلے میں درج ہیں،لیکن بھارتی مسلمانوں نے آج کے دن تک اس فیصلے کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی بابری مسجد کی تعمیر شروع کی،جس کا مقصد اپنا احتجاج اور ناراضگی کا بھر پور اظہار کرنا ہے۔کیونکہ دنیا بھر کے انصاف پسند حلقوں نے بابری مسجد کے فیصلے کو انصاف کا قتل قرار دیا ہے۔بابری مسجد کے بعد بنارس وارنسی کی گیان واپی مسجد پر بھی ہندوئوں نے یہ کہہ کر عدالت میں مقدمہ دائر کیا کہ وہ مندر کو توڑ کر تعمیر کی گئی اور اس میں وضو کی جگہ شیولنگ بھی موجود ہے۔حالانکہ ضلعی عدالت نے 1937 ء میں دین محمد بنام اسٹیٹ آف سیکریٹری معاملے میں ثبوتوں کی بنیاد پر یہ فیصلہ دیا تھا کہ گیان واپی کا پورا احاطہ مسلم وقف کی ملکیت ہے۔مگر مودی اور بی جے پی ہے کہ وہ پورے بھارت سے مساجد کا صفایا اور مسلمانوں کی نسل کشی کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
گوبھارت میں مسلمانوں کی زندگی پہلے سے ہی تنگ کی جاچکی تھی لیکن 2014 ء میں مودی کے بر سراقتدار آنے کے بعد سے بی جے پی نے بھارت کی مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف خونریز تشدد کو ہوا دی ہے۔سنگھ پریوار کے غنڈوں کو بھارت میں اپنے ہندوتوا ایجنڈے کے نفاذ کیلئے کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔یہ بات بھی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ بی جے پی بھارت کو ایک ہندو ریاست میں تبدیل کرنے پر تلی ہے، جس کے بعد اقلیتوں کو دوسرے درجے کے شہری کے طور پررہنے پر مجبور کیا جائے گا۔اس کی بڑی وجہ BJP کی جانب سے پورے بھارت میں مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے شعلوں کو ہوا دینا ہے کیونکہ پورے بھارت میں مودی حکومت کی سرپرستی میں ہندوتوا نظریئے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مودی کی طرف سے ہندوتوا نظریہ کی کھلی حمایت مذہبی دہشت گردی کی جدید ترین شکل ہے۔بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر ظلم وتشدد ہندوتوا نظریے کا عملی مظہر ہے اوربھارت میں بی جے پی اور دیگر دائیں بازو کی ہندو تواتنظیموں کی تاریخ تشدد اور تعصب سے بھری پڑی ہے۔ ہندوتوا غنڈے بھارت بھر میں مذہبی اقلیتوں پر ہندو ثقافت مسلط کرنے کیلئے تشدد کا استعمال کر رہے ہیں،جس کیلئے بھارتی حکومت اور اس کی عدلیہ اپنے ہندو توا قوم پرست ایجنڈے کیلئے ہمدرد گروہوں کو بچا رہی ہے۔ لہذابھارت میں ہندوتوا دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے دنیا کو آگے آنا چاہیے۔ورنہ بھارت میں مسلمانوں کے وجود کا خاتمہ یقینی ہے،جس کا اظہار نسل کشی سے متعلق تنظیم جینو سائیڈ واچ کے سربراہ پروفیسر گیگوری سٹنٹن واشگاف الفاظ میں کرچکے ہیں،کہ اگر مودی اور بی جے پی کو نہ روکا گیا تو بھارتی اور کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی دروازے پر دستک دے چکی ہے۔بھارت میں ہندتوا دہشت گردی نہ صرف سر چڑھ کر بول رہی ہے بلکہ ہندتوا دہشت گردی کا یہ جن اب مکمل طور پر بوتل سے باہر آچکا ہے۔
سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کا کہنا ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کی سربراہی میں قائم اتر پردیش کی بی جے پی حکومت نے سنبھل میں جان بوجھ کر تشدد کو ہوا دی ہے۔ اکھلیش یادو نے خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام لگایا کہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی نے پولیس انتظامیہ اور حکومت کیساتھ مل کر سنبھل تشدد کرایا تاکہ ریاست میں ضمنی انتخابات میں ہونے والی بدعنوانی سے لوگوں کی توجہ ہٹائی جا سکے۔اکھلیش یادو کا مزید کہنا تھا کہ جب ایکبار سروے ہو چکا تھا تو دوبارہ اور وہ بھی اتنی صبح ایک اور سروے کرانے کی کیا ضرورت تھی۔ ان کے بقول میں اس معاملے کے قانونی پہلو پر گفتگو کرنا نہیں چاہتا۔ لیکن یہ قدم جان بوجھ کر اٹھایا گیا تاکہ لوگوں کے جذبات بھڑکیں ۔ اس معاملے میں دوسرے فریق کو نہیں سنا گیا۔آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے سنبھل متاثرین کے کنبوں کے درد اور جاری فرقہ وارانہ کشیدگی کو اجاگر کرتے ہوئے اردو کے پرجوش اشعار کیساتھ اپنے دکھ کا اظہار کیا۔وہیں کانگریس نے بھی سنبھل اتر پردیش میں مسلم مخالف تشدد بھڑکانے پر بی جے پی کو اڑے ہاتھوں لیا ہے۔ کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے کہا ہے کہ بی جے پی کی قیادت والی اتر پردیش حکومت ریاست میں مسلم مخالف تشدد بھڑکا رہی ہے، جس میں سنبھل میں مغل دور کی ایک شاہی جامع مسجد سروے کے دوران کم از کم پانچ مسلمانوں کو شہیدکیا گیا ہے۔بھارتی مسلمانوں کیلئے صورتحال ابھی نہیں تو کبھی نہیں کے مقام پر پہنچ چکی ہے۔اب فیصلہ انہوں نے کرنا ہے کہ وہ اسی طرح مرتے رہیں گے،یا لڑکر مسلمانوں کی تابناک تاریخ دوہرانا چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں