Search
Close this search box.
اتوار ,05 جولائی ,2026ء

ڈاکٹر قدیر کا مقبرہ ،فیلڈ مارشل سے اپیل

کسی بھی قوم کی عظمت صرف اس کے مضبوط دفاع، ترقی یافتہ معیشت یا جدید ٹیکنالوجی سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس بات سے بھی کہ وہ اپنے محسنوں، معماروں اور قومی ہیروز کو کس قدر عزت، احترام اور دائمی مقام دیتی ہے۔ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتیں، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ جو قوم اپنے محسنوں کی قدر نہیں کرتی، تاریخ بھی رفتہ رفتہ اس کی عظمت کو فراموش کر دیتی ہے۔پاکستان کی ستر سے زائد سالہ تاریخ میں چند ایسی شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے اپنی صلاحیت، اخلاص اور قربانی سے قوم کی تقدیر بدل دی۔ ان درخشاں ناموں میں سب سے نمایاں نام محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خانؒ کا ہے، جنہوں نے اپنی غیر معمولی ذہانت، بے مثال عزم، سائنسی مہارت اور حب الوطنی کے جذبے سے پاکستان کو ایسی دفاعی قوت عطا کی جس نے جنوبی ایشیاء میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا۔یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ اگر ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے رفقائے کار کی شبانہ روز محنت نہ ہوتی تو شاید آج پاکستان کا دفاعی منظرنامہ بالکل مختلف ہوتا۔ انہوں نے صرف ایک سائنسی منصوبہ مکمل نہیں کیا بلکہ پوری قوم کو خود اعتمادی، وقار اور بقا کا احساس عطا کیا۔ ان کی خدمات نے پاکستان کو ایسی دفاعی صلاحیت فراہم کی جس نے دشمن کو جارحیت سے پہلے کئی بار سوچنے پر مجبور کیا۔گزشتہ برس بھارت کی جارحیت کا جس قوت، حکمتِ عملی، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی اتحاد کے ساتھ جواب دیا گیا، اس نے پوری دنیا پر واضح کر دیا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط، باصلاحیت اور پراعتماد ہاتھوں میں ہے۔ اس کامیابی میں افواجِ پاکستان کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی قیادت، عسکری تدبر اور پیشہ ورانہ مہارت قابلِ تحسین ہے۔ تاہم یہ بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ اس مضبوط دفاعی ڈھانچے کی بنیادی اینٹ رکھنے والوں میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان ؒکا نام ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔آج جب پوری قوم اپنے دفاع پر فخر محسوس کرتی ہے تو اس موقع پر یہ سوال بھی ہمارے سامنے آتا ہے کہ کیا ہم نے اپنے اس عظیم محسن کو وہ قومی مقام دیا ہے جس کے وہ حقیقی طور پر مستحق ہیں؟دنیا کی بڑی اور مہذب قومیں اپنے سائنس دانوں، مفکرین، سپاہیوں اور قومی معماروں کی یادگاریں تعمیر کرتی ہیں۔ وہ صرف ان کی قبروں کو محفوظ نہیں کرتیں بلکہ انہیں قومی شعور، تاریخی شناخت اور نئی نسل کی تربیت کا مرکز بنا دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نوجوان اپنے ماضی سے جڑے رہتے ہیں اور اپنے قومی ہیروز سے مسلسل رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے اس عظیم قومی محسن کے ساتھ یہی طرزِ عمل اختیار کریں۔میں حکومت پاکستان، متعلقہ اداروں اور بالخصوص فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر سے نہایت ادب، اخلاص اور احترام کے ساتھ اپیل کرتا ہوں کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ؒ کی آخری آرام گاہ کو ایک باوقار قومی یادگار کا درجہ دیا جائے، اور وہاں ایک عظیم الشان مگر سادہ، پروقار اور اسلامی طرزِ تعمیر پر مبنی مقبرہ تعمیر کیا جائے، جو آنے والی نسلوں کے لئے علم، تحقیق، ایثار، حب الوطنی اور قومی خدمت کی دائمی علامت بن سکے۔اس قومی یادگار کے ساتھ ایک جدید تحقیقی مرکز، سائنسی عجائب گھر، قومی لائبریری اور تعلیمی کمپلیکس بھی قائم کیا جا سکتا ہے، جہاں نوجوان نسل ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی، ان کی سائنسی خدمات، قومی جدوجہد اور پاکستان کے دفاعی سفر سے آگاہ ہو۔ یہ مقام صرف ایک مقبرہ نہ رہے بلکہ قومی شعور، حب الوطنی، تحقیق اور سائنسی ترقی کا مرکز بن جائے، جہاں سکولوں، کالجوں اور جامعات کے طلبہ باقاعدگی سے آئیں اور اپنے اس عظیم محسن کی زندگی سے سبق حاصل کریں۔ یہی زندہ قوموں کا شیوہ ہے کہ وہ اپنے ہیروز کو صرف کتابوں میں نہیں بلکہ قومی زندگی کا حصہ بنا دیتی ہیں۔
یہ یادگار دنیا کو بھی یہ پیغام دے گی کہ پاکستان اپنے سائنس دانوں، محسنوں اور قومی معماروں کی قدر کرنا جانتا ہے۔ اس سے نوجوان نسل میں تحقیق، سائنس، ٹیکنالوجی، محنت، دیانت اور وطن سے وفاداری کا جذبہ مزید مضبوط ہوگا۔ قومیں اسی طرح اپنے مستقبل کی بنیاد رکھتی ہیں۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان صرف ایک ایٹمی سائنس دان نہیں تھے؛ وہ پاکستان کے دفاعی اعتماد کے معمار، قومی خودمختاری کی علامت اور حب الوطنی کی روشن مثال تھے۔ ان کا احترام درحقیقت پاکستان کے دفاع، اس کی آزادی اور اس کے وقار کا احترام ہے۔ ان کی یادگار صرف ماضی کی نشانی نہیں ہوگی بلکہ مستقبل کی نسلوں کے لئے یہ پیغام ہوگی کہ علم، کردار، اخلاص اور وطن سے محبت ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، اور ایسے انسان کبھی تاریخ سے مٹتے نہیں۔مجھے یقین ہے کہ اگر یہ قومی اقدام کیا گیا تو پوری قوم اسے قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھے گی اور یہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا سرمایہ ثابت ہوگا جس سے حب الوطنی، سائنسی فکر اور قومی وحدت کو نئی طاقت ملے گی۔اللہ تعالی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ؒکی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی خدمات کو صدق جاریہ بنائے، اور پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام، عزت، ترقی اور ناقابلِ تسخیر قوت عطا فرمائے۔

یہ بھی پڑھیں