غیر قانونی طورپر بھار ت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں بھارتی فوجیوں کے وحشیانہ اور غیر انسانی ہتھکنڈوں کی وجہ سے ہزاروں کشمیری عمر بھر کیلئے معذور ہو چکے ہیں جبکہ مقبوضہ مقبوضہ علاقے میں پر امن مظاہرین پرمہلک پیلٹ گنزکے استعمال سے 200سے زائد افراد بصارت سے محروم ہو چکے ہیں۔ خصوصی افرادکے عالمی دن کے موقع پر کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوجی پر امن مظاہرین پرفائرنگ ، پیلٹ گنز ، آنسو گیس اور پاوا شیلوں کے وحشیانہ استعمال کے ذریعے کشمیریوں کو عمر بھر کیلئے معذور اور اپا ہج بنارہے ہیں ۔ اسکے علاوہ وحشیانہ ظلم و تشدد، بجلی کے جھٹکے، ٹانگوں کے پٹھوں کو لکڑی کے رولر سے کچلنا ، گرم چیزوں سے جلانا اور تفتیشی مراکز میں الٹا لٹکانا بھی شامل ہیںجبکہ محکوم کشمیریوں کے خلاف کھلونانما بموں اور بارودی سرنگوں کا بھی استعمال کیا جارہا ہے، جس سے ہزاروں مظلوم کشمیری شہید اور عمر بھر کیلئے معذور ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فورسز کی طرف سے نہتے کشمیریوں کے خلاف مہلک پیلٹ گنز کے وحشیانہ استعمال سے مقبوضہ علاقے میں معذور ہونے والے افراد کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور اس وقت تین ہزار سے زائد کشمیری اپنی ایک یا دونوں آنکھوں کی بصارت کھونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ رپورٹ میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں کو ایک منظم طریقے سے معذوربنانے کے بھارتی حکومت کے غیر انسانی اقدام کا فوری نوٹس لے۔
ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہاہے کہ بھارتی فوجی اور پولیس اہلکار مقبوضہ علاقے میں بے گناہ کشمیری نوجوانوں، خواتین اور بچوں کو گرفتار کر کے انہیں وحشیانہ نتشدد کا نشانہ بنا کر جسمانی طور پر معذور بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے بھارتی مظالم کے حوالے سے چشم کشا رپورٹیں جاری کی ہیں تاہم اسکے باوجود مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
معاملہ صرف کشمیر تک ہی محدود نہیں بلکہ بھارت میں بھی اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے ۔ بھارت میں مودی حکومت کی طرف سے ہندوبالادستی کے ہندوتوا نظریے کافروغ مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا باعث ہے۔ ہندوتوا حکومت کی طرف سے انتقامی کارروائیوں کے خوف سے شناخت ظاہر نہ کرنے والے سیاسی ماہرین اور شہری حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ ہندوتوا نظریہ کو مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف تشدد کا جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق بی جے پی اور دیگر ہندوتوا تنظیموں کی تاریخ پر تشدد اور تعصب پر مبنی نفرت انگیز واقعات سے وابستہ ہے ۔برسر اقتدار آنے کے بعد سے، بی جے پی نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کوہوا دی ہے جبکہ مودی حکومت نے سنگھ پریوار کے کارکنوں کو اپنے ہندوتوا ایجنڈے کو نافذ کرنے کے لیے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔ایک سیاسی ماہر کے مطابق بھارت میں مذہبی اقلیتوں پر ظلم و تشدد دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔عالمی برادری کو ہندوتوا دہشت گردی کے سدباب کیلئے آگے آنا چاہیے اور ہندوتوانظریہ کو فروغ دینے میں مودی حکومت کے کردار پر اسے جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔شہری حقوق کے کارکنوں نے بھی معاشرے پر ہندوتوا نظریہ کے خطرناک اثرات پر تشویش ظاہر کی ہے ۔ ایک ممتاز کارکن کے مطابق بی جے پی بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانے کے لیے کام کر رہی ہے جہاں اقلیتیں دوسرے درجے کے شہریوں کے طور پر رہنے پر مجبور ہوں گی۔ ہندوتوا کارکن بھارت بھر میں مذہبی اقلیتوں پر ہندو ثقافت مسلط کرنے کے لیے تشدد کا استعمال کر رہے ہیں۔بھارتی حکومت اور عدلیہ اپنے ہندو قوم پرست ایجنڈے پر عمل پیرا گروپوں کوتحفظ فراہم کر رہی ہے۔ ایک سیاسی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ یہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے، جہاں حکومت ایک مخصوص نظریے کو فروغ دینے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔
ایک او رپورٹ بھارت کو ننگا کرنے کو کافی ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی کے دور حکومت میں بھارت اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو ا ہے۔ بھارت میں بی جے پی ، آرایس ایس ، بجرنگ دل ، وشوا ہند و پریشند اور دیگرہندوتوا تنظیمو ں نے مودی حکومت کی سرپرستی سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ مودی حکومت نے فورسز کو مقبوضہ جموںوکشمیر میں نہتے مسلمانوں پر مظالم کھلی چھٹی دے رکھی ہے، بھارتی فورسز نے اس وقت علاقے میں بیگناہ شہری آبادی کے خلاف ایک باقاعدہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کا بھارت مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑے پیمان پر پرتشدد عدم برداشت کا شکار ہے۔ کشمیریوں کو اپنے ناقابل تنسیخ حق ،حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر بدترین ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، 2014 میں مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔جمہوریت پرامن بقائے باہمی اور مختلف مذہبی عقائد، اقدار اور ثقافتوں کے احترام کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے لیکن ہندو دہشت گرد مودی حکومت کی سرپرستی میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو دھمکیاں دیتے ہیں ، انہیں قتل کرتے ہیں اور ان کی عبادت گاہوں میں توڑ پھوڑ کرتے ہیں ، انہیں جسمانی، نفسیاتی اور معاشی طور پر نشانہ بناتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی)، بجرنگ دل وغیرہ سے وابستہ انتہا پسند ووں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ دنیاکے سب سے بڑے نام نہاد جمہوری ملک بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں اور نچلی ذات کے ہندوو¿ں کودوسرے درجے کے شہری سمجھا جاتا ہے ،مسلمان اور دیگر اقلیتیں خوف ودہشت کی حالت میں زندگی گزار رہی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ دائیں بازو کے ہندو مسلمانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ گائے کا گوشت فروخت کرنے ، کھانے والوںکو قتل کیا جا رہا ہے ۔ پردہ کرنے والی مسلمان لڑکیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے ، شہروں ، قصبوں اور تاریخی مقامات کے مسلمان نام بدل کر انہیں ہندو ناموں سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ ہندو انتہا پسند گرجا گھروں کو بھی بڑے پیمانے پر نشانہ بنا رہے ہیں ۔