Search
Close this search box.
پیر ,06 جولائی ,2026ء

متنازعہ رام مندر کی تعمیر اور مودی

(گزشتہ سےپیوستہ)
شاہد کاکہنا تھا کہ بابر ی مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر سے مسلمانوں اور ہندوئوں کے درمیان دوریاں بڑھ گئی ہیں، سماجی کارکن اعظم قادری نے الجزیرہ کو بتایا کہ بابری مسجد کو شہید کرنے والے ہندو سنتوش دوہے آج بھی مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں، انتہاپسندہندوئوں اورمودی حکومت کےکارندوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی مساجد ہی نہیں بلکہ عیسائیوں کے چرچ اور سکھوں کے گوردوارے بھی غیر محفوظ ہیں، ایسے میں بھارت سیکولر ریاست کاجونعرہ لگاتا ہےاس کاحقیقت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ تاریخی بابری مسجد کے مقام پر تعمیر ہونے والا مندر بھارت کی نام نہاد جمہوریت پر ایسا سیاہ دھبہ ہے،جس سے کسی صورت دھویا نہیں جاسکتا۔ بھارت کو ہندو راشٹر بنانا بی جے پی کا پرانا خواب ہے،جس کی تعبیر کیلئے بی جے پی ہزاروں مساجد کو گرا کر ان کی جگہ مندر تعمیر کرنا چاہتی ہے۔
1992 ء میں بی جے پی اورآر ایس ایس کی قیادت میں دائیں بازو کے ہندو جنونیوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت کا واقعہ آج بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کے ذہنوں میں تازہ اور وہ اس سے بھولے نہیں ہیں۔نومبر 2019 ء میں ایودھیا سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے نے ثابت کیا کہ ہندوتوا نظریہ بھارت میں انصاف کے تمام اصولوں اور بین الاقوامی قوانین پر فوقیت رکھتا ہے۔مودی کے بھارت میں مسلمان اور ان کی عبادت گاہیں تیزی سے حملوں کی زد میں ہیں۔ مودی اور اس کےحواری بابری مسجد تک ہی خود کو محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ بھارت میں مزید درجنوں مساجد ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہیں ،ہندو انتہاپسندوں کی جانب سے بھارتی شہر بنارس میں گیانواپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد سمیت دیگر مساجد کی مسلسل بے حرمتی کی جا رہی ہے،لہٰذا ان مساجد کو بھی مستقبل میں خطرےکا سامنا ہے۔اب تو بات بہت آگے نکل چکی ہے۔ بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں مغل طرز تعمیر کی شہکار شاہی جامع مسجد جو پانچ صدی قبل ظہیر الدین بابر کے دور اقتدار میں تعمیر کی جاچکی ہے،مقامی عدالت کے احکامات پر 24نومبر کی صبح ساڑھے سات بجے سروے کے دوران مسلمانوں کے مظاہرے پر یوگی آدتیہ ناتھ کی پولیس نے براہ راست فائرنگ کرکے 06 مسلم نوجوان شہید اور بیسیوں زخمی کیے۔دو خواتین سمیت 27مسلمان گرفتار اور 2700 کے خلاف FIR درج کی گئی،جن میں سماج وادی پارٹی کیساتھ تعلق رکھنے والے بھارتی ممبر پارلیمنٹ ضیا الرحمان برق بھی شامل ہیں،جو 24 نومبر کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی میٹنگ میں شرکت کیلئے بنگلورو میں موجود تھے۔
بھارتی ریاست راجستھان میں واقع صدیوں پرانی مشہور و معروف درگاہ اجمیر شریف کے نیچے سے بھی مندر تلاش کرنے کا کام شد و مد سے جاری ہے اور اب بات دہلی کی تاریخی جامع مسجد تک جاپہنچی ہے،جس سے مغل بادشاہ شاہ جہاں نے 1650میں تعمیر کروایاتھا۔ نہ جانے یہ سلسلہ کہاں رکے گا،رکے گا بھی کہ نہیں۔آثار و قرآئن یہی بتارہے ہیں کہ بھارتی مسلمانوں کیلئے مرو یا مرجائو کی صورتحال ان کے دروازوں پر دستک دے چکی ہے۔اب مصلحت کوشی اپنی موت آپ مرچکی ہے۔بلاشبہ بابری مسجد کی جگہ پر متنازعہ رام مندر کی تعمیر بھارتی جمہوریت کے چہرے پر دھبہ ہے۔صدیوں پرانی بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 میں ہندو انتہا پسندوں کے ایک ہجوم نے شہید کیا تھا،جن کی سربراہی ایڈوانی،مرلی منوہر جوشی،اوما بھارتی اور کلیان سنگھ کررہے تھے۔ اعلی بھارتی عدلیہ نے اس گھنائونے فعل میں ملوث مجرموں کو نہ صرف بری کیا ، بلکہ بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کی اجازت دیکر خود کو بھی رسوا کیا ہے۔ یقینا بھارت میں ہندوتوا کی بڑھتی سوچ مذہبی ہم آہنگی اور علاقائی امن کیلئے سنگین خطرہ ہے، عالمی برادری کو بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا، نفرت انگیز تقاریر اور جرائم کا نوٹس لینا چاہئے ۔مودی نے رام مندر کا افتتاح تو ضرور کیا لیکن یہ افتتاح بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگاکیونکہ بھارت جس تیزی کیساتھ ہندو انتہا پسندی کے گڑھے میں گرتا جارہا ہے ،وہ گڑھا ہی بھارت کی تباہی و بربادی کا باعث بنے گا۔

یہ بھی پڑھیں