اگر خود تعریفی کے زمرے میں نہ آئے تو عرض ہے کہ راقم صرف اسی صورت میں اپنے خیالات قلم کے سپرد کرنے کے قابل ہوتا ہے جب وہ کسی بھی مشاہدے اور تجربہ کے سبب کچھ محسوس کرے‘ بصورت دیگر ایک لمبی خاموشی اوروقفہ راقم کی مجبوری ہے اسی طرح کچھ دنوں سے ایک اہم اور بنیادی سوال راقم کے ذہن میں تسلسل کے ساتھ گردش کر رہا تھا اور وہ یہ کہ اس بات سے قطع نظر کہ ہمارے ہاں معاشرتی اور سماجی انصاف کس درجہ پایا جاتا ہے ‘ ہماری اجتماعی اور ریاستی کوتاہ نظری بلندیوں کی کس سطح کو چھو رہی ہے ‘ مادی اور سائنسی ترقی میں ہم بین الاقوامی دنیا سے کس قدر پیچھے ہیں‘ عرض یہ کہ وہ تمام عوامل جو نظر آنے والے ہیں اور بظاہر ہم پسماندگی میں ان کا کوئی ثانی نہیں رکھتے مگر ان تمام مادی اور ظاہری ناکامیوں کے پیچھے چھپے ایک ’’راز‘‘ کو ہم نے کبھی جاننے اور پرکھنے کی کوشش نہیں کی غالباً اس لئے کہ حسب روایت بلکہ حسب عادت آج کا دن گزر جائے کل کی کل دیکھی جائے گی باالفاظ دیگر ’’ڈنگ ٹپائو‘‘ پالیسی شائد ہماری رگوں میں اس قدر رچ بس گئی ہے کہ ہم خرابیوں کی وجوہات تلاش کرنے کی زحمت گوارہ ہی نہیں کرتے … زندگی جیسے چل رہی ہے چلتی رہے ‘ اس لمحہ راقم یوں محسوس کر رہا ہے جیسے شائد معاشرتی اصلاح کی ذمہ داری راقم ہی نے لے رکھی ہو ‘ لیکن پھر یہ احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس پہلو کو زیربحث نہ لایا جائے تو پھر شائد جانور اور انسان میں تفریق کرنے میں کوئی مشکل پیش ہی آئے… بہرحال اب آئیے اپنی بات کے عملی پہلو کی طرف۔
راقم اپنے مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں مکمل اعتماد اور پورے یقین کے ساتھ یہ نتیجہ اخذ کرنے میں مکمل طور پر نہ صرف پراعتما د ہے بلکہ پورے وثوق کے ساتھ یہ کہنے میں حق بجانب بھی ہے کہ ہمارے تمام ریاستی ‘ معاشرتی ‘سماجی‘ سیاسی‘ علمی اور معاشی بحرانوں اور مشکلات کی جڑ ہمارا رویہ اور ہماری زبان ہے بلاشبہ بیماری کی تشخیص اگر جڑ سے ہو جائے تو علاج باآسانی ممکن ہے‘ شرط یہ ہے کہ ہم سب سے پہلے کھلے دل اور دماغ کے ساتھ معاملات کا جائزہ لے کر اصلاح احوال کی نیت سے اپنی سمت درست کرنے کا بھرپور ارادہ کرلیں اگر ایسا ہو جائے تو پھر سن لیجئے کہ حالات کے بدلنے میں زیادہ تاخیر نہیں ہوگی ذرا غور کیجئے … نجی زندگی سے لے کر اپنے پیشہ وارانہ معمولات تک کو ہم نے کس قدر تلخ اور دل شکن رویوں اور لہجے کو اپنے اندر پیوست کرلیا ہے جیسے یہ ہمارے آبائو اجداد کی وہ میراث ہے جس کے بغیر ہماری شناخت لاپتہ ہو جانے کاخطرہ ہو … ذرا سوچئے ‘ غور کیجئے کہ جب بھی ہم اپنے منہ سے کوئی بات نکالتے ہیں تو الفاظ کے چنائو میں کس قدر محتاط رویہ اختیار کرتے ہیں؟ کتنا اس بات کا خیال کرتے ہیں کہ اگر ہم نے اپنی زبان سے کسی کے عیب کو اجاگر گیا تو کل اس کا سامنا ہم بھی کرسکتے ہیں … کسی کو شرمندہ کرنا‘ اس کو لاجواب کرنا ‘ یا پھر ’’پوائنٹ سکور‘‘ کرنے کی غرض سے اپنے مخاطب یا محفل میں بیٹھے کسی شخص کو اپنی ’’مقبولیت‘‘ کی بھینٹ چڑھانا‘ شائد اتنا مشکل کام نہیں ہے مگر اجتماعی طور پر معاشرے پر اور پھر ہماری ذات پر بھی اس کے کتنے منفی اثرات مرتب ہوں گے شائد اس کا اندازہ لگانا میرے اور آپ کیلئے ممکن نہ ہو ‘ ایک ناقابل یقین حد تک ہماری مذکورہ بالا ’’عادت‘‘ سے معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور جو بلاشبہ یہ رویہ ہماری ریاستی اور اجتماعی ترقی میں ایک ایسی رکاوٹ بن کر رہ جاتا ہے کہ پھر خدا کی اماں … ہمیں جہالت کے اندھیرے سے علم کی روشنی تک اگر کوئی عمل منتقل کرسکتا ہے تو وہ ہے ہمارا ’’رویہ‘‘… میرے قارئین بھی سوچتے ہوں گے کہ آج راقم نے رویہ پر اس قدر زور کیوں رکھا ہوا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو ہم محسوس کرتے ہیں وہ تحریر کرتے ہیں … شائد اس لئے کہ حرص کے سائے راقم سے ابھی کچھ فاصلے پر ہیں ‘ نجانے کب تک؟ کیونکہ ان کے تعاقب سے بچنا روز بروز مشکل ہوتا جارہا ہے…مگر میرے قارئین یقین رکھیں کہ یہ ناممکن نہیں ہے محض اللہ کے فضل اور اپنے پڑھنے اور چاہنے والوں کی دعائوں کے اثر سے۔ انشاء اللہ
ٹاک شو ہو یا نجی محفل‘ ’’سیاست دانوں‘‘ کے ’’خطابات‘‘ ہوں یا پھر اشرافیہ کے ’’فرمودات‘‘ سب کی زبان اور رویوں سے خودنمائی‘ خود تعریفی‘ نرگیست ‘ جارحانہ لہجہ‘ تلخی‘ منافقت اور کبھی کبھی تکبر بھی اس قدر چھلکتا ہوا نظر آتا ہے کہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آج ہی سب کچھ ختم ہونے جارہا ہے کل نہیں آئے گا‘ جتنی شہرت‘ مقبولیت اور پھر دل عزیزی سمیٹی ہے سمیٹ لو … مگر افسوس صد افسوس ہم یہ بھول جاتے ہیں کچھ حاصل ہونے والا نہیں ‘ سوائے اس کے کہ ہم اپنی شخصیت کو خود بھی نقصان پہنچا رہے ہوتے ہیں اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی کی دل آزاری‘ گناہ‘ بدسلوکی اور نجانے کیا کیا اضافی طور پر ہم اپنی جھولی میں سمیٹ رہے ہوتے ہیں … تو قارئین کرام ‘ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے رویوں پر غور کریں‘ الفاظ کی ادائیگی سے قبل نہ صرف انہیں اپنے دماغ میں لے کر جائیں بلکہ یہ بھی ضرور سوچ لیں کہ میرے اندر کس قدر عیب ہیں اور جب میں کسی کو الفاظ کے تیر اور نشتر کے ذریعے سے نشانہ بنانے جارہا ہوں تو کہیں وہی الفاظ کل مجھ پر بھی تو لاگو نہیں آسکتے۔
ریاستی امور میں پائی جانے والی خرابیوں اور تلخیوں کی ایک بڑی وجہ بھی ہمارا مذکورہ بالا عمل ہے اور اگر ہمارے لہجوں میں بہتری آئے گی تو پھر ہم ایک منتشر جتھے اور گروہ سے مہذب معاشرے میں تبدیل ہوسکتے ہیں‘ اور یقین جانئے یہ ہمارے نفسیاتی مسائل کا حل بھی ہے اور اس سے ہماری اجتماعی اور انفرادی بیماریوں میں بھی ’’افاقہ‘‘ ہوگا۔
اور وہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ہمارا معاشرہ اجتماعی طورپر نفسیاتی امراض کا شکار ہے اور غالباً یہ کہنا کوئی غلط بھی نہیں ہے ‘ ان امراض سے ’’شفا‘‘ ہی ہماری نجات کا بہترین اور محفوظ راستہ اور ذریعہ ہے۔