نریندر مودی کی حکمرانی میں بھارت تیزی سے ایک نسل پرست ریاست کے طورپر سامنے آرہا ہے اورماہرین اور انسانی حقوق کے کارکن اکثر مذہبی اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف منظم امتیازی سلوک اور ملک میں جمہوری اقدار کے خاتمے کو اجاگر کرتے رہتے ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مودی کی زیرقیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ایک ہندو راشٹرا کے قیام، اقلیتوں کے حقوق کو سلب کرنے اور اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش کررہی ہے۔ تجزیہ کار وں کا کہنا ہے کہ ہندوتوا پر مبنی ایجنڈے میںتکثیریت کی کوئی گنجائش نہیں ہے اوریہ ملک کو آمریت کی طرف لے جارہاہے۔مودی اور امیت شاہ کی جوڑی کااکثر ہٹلر کی فاشسٹ قیادت سے موازنہ کیا جاتاہے، ناقدین ان کی اختیارات کی مرکزیت اور مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے دھمکیوں اور تشدد کے استعمال کا حوالہ دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو مودی کے بھارت میں مسلسل دبائو کا سامنا ہے جہاں دھمکیاں، گرفتاریاں اور سنسر شپ ایک معمول بن چکا ہے۔2014 ء میں مودی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے شہری آزادیوں کو سلب کیاجارہاہے، خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف ہجومی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات اور اختلاف رائے کو دبانے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں ۔مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ مودی کا تکبر اور آمرانہ پالیسیاں بھارت کے جمہوری ڈھانچے کو ختم کر رہی ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت میں نسل پرستی کو ایک معمول بننے سے پہلے کارروائی کرے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں نے بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے امتیازی سلوک اور پسماندگی پر تشویش کا اظہارکر رہی ہیں ، کیونکہ بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت مذہبی اور نسلی اقلیتوں پرمنظم طریقے سے آر ایس ایس کا ہندوتوا نظریہ مسلط کررہی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارت کے بارے میں اپنی 2023کی رپورٹ میں کہاہے کہ اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی انتظامیہ کے تحت مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد، ہراساں کرنے اور نفرت انگیز جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ حکومتی بے عملی سے مجرموں کو استثنیٰ حاصل ہے اوران کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے اپنی عالمی رپورٹ 2024ء میں کہاکہ مودی کے بھارت میں اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بناناایک معمول بن چکا ہے۔ حکومت کو فوری طور پر اپنے امتیازی طرز عمل کو ترک کرناچاہیے اور تمام شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ اقلیتی مسائل پر اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے نے مئی 2023ء میں ایک رپورٹ جاری کی جس میں بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو اجاگرکیا گیا۔رپورٹ میں کہاگیا کہ بھارت کی اقلیتوں کو نظامی تشدد اور ادارہ جاتی امتیاز کا سامنا ہے۔ ان کے انسانی حقوق کو برقرار رکھنے کے لیے بین الاقوامی نگرانی ضروری ہے۔بھارت کے ممتاز سماجی کارکن ہرش میندر نے ایک بھارتی ویب
پورٹل دی وائر کے ساتھ 2023 ء میں ایک انٹرویو میں کہاکہ اقلیتوں کو قانونی امتیاز، معاشی پسماندگی اور ہجومی تشدد کے ذریعے منظم طریقے سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ یہ رحجان بھارت کی تکثیری شناخت کو خطرے میں ڈالتا ہے۔ دسمبر 2019ء میں منظور کئے گئے شہریت ترمیمی قانون (CAA) کے امتیازی ہونے پر مسلسل ردعمل سامنا آ رہا ہے۔ امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اپنی 2024کی رپورٹ میں کہاہے کہ سی اے اے بھارت کے سیکولر اصولوں کو مجروح کرتا ہے اور مسلمانوں کو نشانہ بناتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر کینتھ روتھ نے جنیوا میں ایک عالمی کانفرنس کے دوران کہاکہ بھارت کی اقلیتوں کو مسلسل تشدد اورہراسانی کا سامنا ہے اورکوئی ناقابل تلافی نقصان پہنچنے سے پہلے عالمی برادری کو مداخلت کرنی چاہیے۔یہ حوالہ جات بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں، تنظیموں اور عالمی اداروں کے بڑھتے ہوئے خدشات کی نشاندہی کرتے ہیں اوربھارت میں اقلیتوں کے تحفظ اور جمہوری اصولوں کو برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ مودی حکومت کے غیر جمہوری اقدامات سے دنیا بھر میں نام نہاد جمہوری بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت بھارت کو آمریت کی طرف لے جارہی ہے کیونکہ 2014 میں مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے بھارت میں سیاسی حقوق اور شہری آزادیاں سلب ہوچکی ہیں۔رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیاکہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالیسیوں سے بھارت میں سیاسی اور شہری آزادیاںمسدود ہو کررہ گئی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ میڈیا کی سنسر شپ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں پر پابندیاں مودی حکومت کی آمریت کی واضح مثالیں ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلم دشمن قوانین کے نفاذ اور سیاسی اختلاف رائے کودبانے کے لئے انسداد بغاوت کے قانون کے استعمال سے بھارت میں جمہوریت کے زوال کی عکاسی ہوتی ہے۔رپورٹ میں کہاگیا کہ مودی کے بھارت میں عدالتوں کی آزادی قصہ پارینہ بن چکی ہے۔رپورٹ میں کہاگیاکہ نہ صرف عدلیہ بلکہ بھارت کاہر ادارہ ہندوتوا کے نظریے پر عمل پیرا ہے اورمودی حکومت نے انسانی حقوق کے گروپوں، کارکنوں اورہندوتوا کے ایجنڈے کے خلاف بولنے والے دیگر لوگوںکے خلاف کارروائیوں میں تیزی لائی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کے جمہوری حق سے مسلسل محروم رکھ کر ایک جعلی جمہوریت ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی جمہوریت کے انحطاط کو فریڈم ہائوس اور وی ڈیم جیسے معروف عالمی اداروں نے بھی رپورٹ کیاہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا کو مودی کی بڑھتی ہوئی آمریت پسندی اور بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں عوام کے حقوق کو سلب کئے جانے کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے کیونکہ مودی کی فسطائی حکومت پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔