کیا یہ ممکن ہے کہ ہمارا سرکاری چینل پی ٹی وی یا ریڈیو پاکستان امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مقامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائشی علاقے میں کمرشل یا تجارتی سرگرمیاں جاری رکھ سکے؟ اس سوال کا سادہ سا جواب ہے کہ امریکہ سمیت کسی بھی ملک میں قانون کے ایسی کھلی خلاف ورزی ممکن نہیں۔ذرا یہ سوچئیے کہ امریکہ میں کیا طوفان اٹھے اگر ہمارا ریاستی میڈیا ہائوس قانون کے خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ امریکی ریاست کے خلاف عدم استحکام پھیلانے والے شر پسندوں اور دہشت گردوں کے موقف کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے لگے؟ یہ واضح ہے کہ امریکی رد عمل کی سونامی ہمارے سرکاری میڈیا ہائوس کو بہا کر لے جائے گی۔ہمارے پی ٹی وی کو دہشت گردوں کا سرپرست قرار دے دیا جائے گا!میڈیا ہائوس پر تالے پڑ جائیں گے اور امریکی ریاستی قوانین کے مطابق بھاری جرمانے بھی عائد ہوں گے۔یہ معاملہ امریکہ تک محدود نہیں بلکہ دنیا بھر میں ریاست مخالف عناصر کی سرپرستی، ان کے زہریلے نظریات کی تشہیر اور پرتشدد علیحدگی پسند رجحانات کو پھیلانے والے اقدامات کو جرم سمجھا جاتا ہے۔ آزادی صحافت یا انسانی حقوق کو نقاب پہن کر ریاست دشمن عناصر کی سرپرستی کی اجازت دنیا بھر میں کہیں نہیں دی جاتی۔
آئیے آپ اصل مسئلے کی جانب توجہ مرکوز کریں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ کا نشریاتی ادارہ وائس آف امریکہ کن سرگرمیوں میں ملوث ہے؟ اپنی عالمی ساکھ کے برعکس اس ادارے پر نشر کیے جانے والے مواد سے ریاست پاکستان کے خلاف کیا منفی تاثرات جنم لے رہے ہیں؟پاکستان کے وجود کو تسلیم نہ کرنے والے ریاست دشمن عناصر کو مظلوم بنا کر آخر یہ نام نہاد عالمی ادارہ کیا مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے؟ وائس آف امریکہ کی مشکوک غیر جانبداری اور متنازعہ صحافیہ معیار پر تبصرے سے پہلے واضح کرنا ضروری ہے کہ اسلام آباد میں ادارے کی عمارت رہائشی علاقے میں واقع ہے۔اسلام آباد کے معروف جی سیکٹر میں میڈیا ہائوس نے اپنا دفتر قائم کر رکھا ہے۔مقامی قوانین کے مطابق رہائشی علاقے میں تجارتی سرگرمیاں اور میڈیا ہائرسز کے دفاتر کام نہیں کیے جا سکتے۔دستیاب اطلاعات کے مطابق کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے اس خلاف ورزی پر بلڈنگ کے مالک کو قانونی نوٹس بھی ارسال کر دیا ہے۔تعجب انگیز امر ہے کہ یہ معاملہ اب تک انتظامیہ کی آنکھوں سے اوجھل کیوں رہا؟گزشتہ ماہ سوشل میڈیا پر پاکستانی شہریوں نے جب وائس آف امریکہ کی مشکوک طرز صحافت پر اعتراض اٹھایا تو اس وقت ادارے کے بظاہر غیر قانونی دفاتر کا معاملہ بھی منکشف ہو گیا۔ادارے کی مشکوک طرز صحافت کا جائزہ لیا جائے تو وفاقی دارالحکومت میں دیدہ دلیری اور بے باکی سے مقامی قوانین کی خلاف ورزی کا معاملہ اور بھی تشویشناک لگتا ہے۔
وائس آف امریکہ میں شائع شدہ مواد کا بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ میڈیا ہائوس کا ادارتی عملہ تسلسل سے ایسے عناصر کی رائے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے جو بلوچستان اور کے پی صوبوں میں نسلی منافرت اور پرتشدد لسانی تعصبات کی آگ بھڑکا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں وائس آف امریکہ نے ظریف بلوچ نامی شہری کے اغوا اور قتل کے معاملے پر جس طرز کی رپورٹنگ کی اسے کسی طور پر ذمہ دارانہ صحافت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ غیر معیاری اور جانبدارانہ رپورٹنگ کے نتیجے میں ریاست کے خلاف نفرت کا زہریلا بیانیہ جڑ پکڑ رہا ہے۔ بنا کسی ثبوت کے یہ موقف بار بار بیان کیا گیا کہ ریاستی ادارے مقامی شہری کے اغوا میں ملوث ہیں۔ ریاستی اداروں کی تردید کو دو سطروں میں بیان کر کے 99 فیصد رپورٹ میں غیر مصدقہ مشکوک الزامات کی بھرمار کر کے وائس آف امریکہ اپنی صحافتی ساکھ خود ہی خراب کر رہا ہے۔ بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے وائس آف امریکہ کے موقف کو بڑی وضاحت سے رد کر کے الزامات کے بجائے ٹھوس ثبوتوں کا مطالبہ کیا ہے۔ مقام افسوس ہے کہ زہریلے الزامات کی قوالی کرنے کے بعد اب وائس آف امریکہ کے پاس پیش کرنے کے لیے کوئی ثبوت نہیں۔ ڈھٹائی کی انتہا یہ ہے کہ اپنے طرز عمل پر تردید یا معذرت کے بجائے ادارہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر غیر مصدقہ سٹوری اور بے بنیاد الزامات کی تشہیر کر کے بلوچستان میں باغیانہ رجحانات کی آگ بھڑکا رہا ہے ۔یہی طرز عمل حال ہی میں کالعدم قرار دی جانے والی اس تنظیم کے متعلق بھی اختیار کیا گیا تھا جو پشتونوں کے حقوق کی علمبردار بن کر اندرون ملک اور یورپی ممالک میں ریاست مخالف پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔
یہ امر غور طلب ہے کہ وائس آف امریکہ جن عناصر اور تنظیموں کے موقف کو بڑھا چڑھا کر بیان کر رہا ہے انہیں ریاست پاکستان نے کالعدم قرار دے رکھا ہے ۔جن علاقوں میں یہ تنظیم متحرک ہے وہ سرحد پار دہشت گردی کی زد میں ہیں۔ ان شورش زدہ علاقوں میں مذہبی جنون اور نسلی تعصب کی بنیاد پر تشدد کے قائل گروہ ریاست کے خلاف پوری قوت سے متحرک ہیں۔ آخر وائس آف امریکہ جیسے نشریاتی ادارے کو ان دہشت گرد گروہوں کے موقف کی ترویج میں کیا دلچسپی ہے؟ یہ امر تعجب انگیز ہے کہ وائس آف امریکہ بنیادی طور پر امریکی حکومت کے مالیاتی تعاون سے چلنے والا ریاستی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے نشریاتی ادارے کی غیر ذمہ دارانہ صحافت پاک امریکہ تعلقات کو متاثر کرنے کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اہداف کے حصول کے عمل کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی شہریوں نے وائس آف امریکہ کی غیر ذمہ دارانہ صحافت اور مقامی قوانین کے خلاف ورزی پر تنقید کر کے نام نہاد عالمی ادارے کو آئینہ دکھایا ہے۔