Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

مریم نوازشریف کو وزیراعظم ہوناچاہیے؟

مریم نواز پاکستان کی سیاست میں ایک ابھرتاہوا ستارہ ہے۔ ان میں ایک اچھے سیاستداں کی تمام خوبیاں شامل ہیں۔ ان میں انکساری بھی ہے اور عوام کے دکھ ودرد کا احساس بھی۔ مریم نواز اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں ان کے والد میاں نوازشریف سے سیاست کی تربیت مل رہی ہے جوکہ ان کی کارکردگی اور ان کے عوام دوست بیانات سے ظاہرہوتی ہے ۔ نیز انہوں نے اپنے والد سے سیاست کے اسرارورموز کو سمجھنے کی کوشش کی ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کامیاب نظر آرہی ہیں۔ انہیں اس بات کا ادراک ہے کہ پنجاب پاکستان کا نہ صرف دل ہے بلکہ بہت بڑا صوبہ بھی ہے جہاں محنت کشوں کی اکثریت اس ملک کو مضبوط بنارہی ہے اور ملک کو معاشی طور پر مضبوط کرنے میں اپنا بنیادی کردار ادا کررہی ہے ۔
مریم نواز نے اپنے والد سے بہت کچھ سیکھا ہے، وہ بنیادی طور پر ایک معاملہ فہم خاتون ہیں۔ جن کو اچھی گورنس کاادراک بھی ہے اور وہ اپنے تئیں اس پر عمل پیرا بھی ہیں۔ تاہم یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیےکہ ان کی راہ میں ’’سنگ گراں‘‘ بھی ہیں جن کو عبور کرنابڑےحوصلے کی بات ہےلیکن انہوں نے ان چنددنوں میں اپنی کارکردگی سے یہ ثابت کردیاہےکہ وہ پنجاب سمیت پاکستان کومعاشی وسماجی طورپرمضبوط بنانےمیں اپنا کردارادا کرسکتی ہیں۔
میرےخیال کے مطابق وہ سیاسی معاملہ فہمی کےلحاظ سے کسی سے کم نہیں ہیں۔ وہ اس وقت ایک بڑےصوبے کی وزیراعلیٰ ہیں اوراب تک وہ بڑے اعتماد کے ساتھ پنجاب میں معاملات کو چلارہی ہیں بلکہ آئندہ بھی چلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں چنانچہ میرا یہ خیال ہے کہ پاکستان کے سیاسی وسماجی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذکیاجاسکتاہے کہ مریم نواز پنجاب کی وزیراعلیٰ کی حیثیت سے چند ایسے اقدامات کررہی ہیں جن کی مدد سے نہ صرف پنجاب کے عوام کو سہولتیں مل رہی ہیں تو دوسری طرف وہ گڈ گورنس کی بنیاد بھی ڈال رہی ہیں۔ ویسے بھی مریم نواز میں بے پناہ خوداعتمادی موجود ہے جوان کو آئندہ سیاسی طور پر بلند یوں پر لے جائے گی۔
تاہم پنجاب کی اس مشکل سیاست کے سفر میں انہیں اپنے گرد ایک ایسے گروپ کی فکری طور پر اپنے قریب لانے کی ضرورت ہے جوان کی خواہش کے تحت پنجاب میں عوام دوست پالیسیوں کو عملی جامہ پہناکر پنجاب کے عوام کو معاشی، سماجی اور تعلیمی مسائل حل کرکےان کیلئےاطمینان کاباعث بن سکے کیونکہ عوام کی نظروں میں سیاستدانوں کوان کے عوام دوست ہونے کی وجہ سے نہ صرف پہچاناجاتاہے بلکہ ان کے دلوں میں ان کے لئے احترام اور محبت جاگزیں ہوتی ہے۔ مریم نواز جیسا کہ میں نے ان کے بیانات سے نتیجہ اخذ کیاہے،ان کی سوچ عوام دوستی پرمبنی ہے۔ وہ جلدازجلد عوام کے سماجی اور معاشی مسائل حل کرناچاہتی یں۔ اوران کے ساتھ ہی وہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے دوازے بھی کھولنا چاہتی ہیں ۔ ان کی مثبت سوچ سے پنجاب کے عوام کے مسائل آہستہ آہستہ حل ہورہے ہیں۔اس ضمن میں عوام کے باشعور طبقے کو چاہیے کہ ان کے ساتھ تعاون کریں یعنی ان کی پالیسیوں پرعمل پیرا ہوکر پنجاب کے عوام کو حقیقی معنوں میں معاشی وسماجی تحفظ حاصل ہوسکے۔
مریم نوازشریف کی شخصیت کے دو پہلوہیں۔ پہلا یہ کہ انہوں نے اپنے والد گرامی سے بہت کچھ سیکھاہے بلکہ سیکھنے کا یہ عمل جاری ہے۔ نیز انہیں اس بات کاادراک ہوچکاہے کہ آئندہ جب وہ پنجاب کی وزیراعلیٰ کے عہدے سے فارغ ہونگی توان کے لئے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ پاکستان کی وزیراعظم بننے کی تگ ودو کریں جس میں رکاوٹیں ضرور ہیں‘ لیکن وہ اپنی سیاسی تربیت کےحوالے سے یہ آسانی عبور کرلیں گی،ان کی بھی یہی کوشش ہے اور ان کے ساتھیوں کی بھی کیونکہ جو تجربہ مریم نواز کو اپنے والد گرامی سے حاصل ہوا ہے وہ اس کا بخوبی استعمال کرکے پنجاب کے عوام کے مسائل حل کررہی ہیں۔
دراصل آئندہ مریم نواز پاکستان کی وزیراعظم بن جاتی ہیں تو یہ تعجب کی بات نہیں ہوگی۔ بے نظیر بھٹو بھی اس ہی طرح سیاست کے تکلیف دہ راستے پر چل کر پاکستان کی وزیراعظم بنی تھیں، اس ہی طرح مریم نواز بھی اپنے والد کی رہنمائی کے سبب اور خود اپنی کارکردگی سے عوام کے مسائل حل کرکے وزیراعظم کے عہدے پہ پہنچ سکتی ہیں۔ مریم نواز ایک ایسے دور میں سیاست کررہی ہیں جہاں اب سیاست کرنا اتنا تکلیف دہ نہیں بن رہاہے۔ جو ماضی میں تھا‘ اب عوام سیاسی طورپربا شعورہوچکے ہیں اور وہ سیاسی رہنمائوں کی کارکردگی دیکھ کر اپنی رائے قائم کرتے ہیں۔ مریم نواز بہت احتیاط کے ساتھ اپنا کام کررہی ہیں اور عوام کے دل بھی جیت رہی ہیں تاہم اگر انہیں پاکستان کاوزیراعظم بنناہے جس کی وہ ہر لحاظ سے اہل بھی ہیں توانہیں پنجاب کے حصار سے بلند ہوکر پاکستان کے عوام کی بہتری کے لئے سوچنی چاہیے بلکہ اپنی سوچ بلند رکھنی چاہیے ۔ بہرحال مریم نوازکیلئے موجودہ سیاسی ماحول ان کے حق میں جارہاہے۔ اگر انہوں نے مضبوط حوصلے کے ساتھ اپنے قدم بڑھائے اور پنجاب کے عوام کے مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کی تو اس کے بعد ان کے تمام راستے اسلام آباد میں وزیراعظم ہائوس کی طرف جاتے ہیں۔
تاہم ان کاسفر خطرات سے پر ہے کیونکہ پاکستان مردوں کا معاشرہ ہے۔ جہاں اکثریت جاہل اور ان پڑھ ہے۔ جوان کے راستے کی رکاوٹ بن کر ان کے لئے مشکلات پیداکرسکتے ہیں لیکن سیاسات کا سفر آسان نہیں ہوتاہے۔یہ پھولوں کی سیج نہیں ہے بلکہ کانٹوں سے پر راستے ہوتے ہیں جس پر ہمت اور حوصلے کے ساتھ چل کر ہی منزل ومقصود پر پہنچاجاسکتاہے۔ مریم نوازجیساکہ میں نے ان کے بیانات اور ٹی وی پر کی جانے والی بات چیت سے اخذ کیاہے‘ وہ سیاسی وسماجی حالات کا نہ صرف ادراک رکھتی ہیں بلکہ انہیں حل کرنے کا بھی حوصلہ رکھتی ہیں ۔ اس ضمن میں ان کے والد ایک اہم کردارادا کررہے ہیں بلکہ ان کو کرنا بھی چاہیے جس طرح بھارت کے سابق وزیراعظم آنجہانی نہرو نے اپنی بیٹی اندرا گاندھی کی تربیت کی تھی جس کی بنا پر وہ بھارت کی وزیراعظم بن گئی تھیں۔
مریم نواز میں وہ تمام اوصاف موجود ہیں جو ان کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر لے جاسکتے ہیں۔ تماہم انہیں اپنے تئیں اس سیاسی سفر میں بڑے احتیاط کی ضرورت ہے۔ خصوصیت کے ساتھ عورت ہونے کے ناطے سے، تاہم ان کی کارکردگی اور سیاسی لب ولہجہ سے نتیجہ اخذ کیاجاسکتاہے کہ وہ پاکستان کی آئندہ وزیراعظم بننے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں۔ تاہم اس راستے کا سفر پاکستان کی سیاست کے پس منظر میں بہت مشکل اور پیچیدہ ہے تاہم اگر حوصلہ اور ہمت ہے تو اس منزل تک یہ آسانی سے پہنچ سکتی ہے۔ مریم نواز ایک حوصلہ مند خاتون ہیں۔ وہ پاکستان کے سیاسی حالات کامکمل ادراک رکھتی ہیں اور ان کو حل کرنے کا حوصلہ بھی ۔ دیکھئے آگے آگے ہوتا ہے کیا۔

یہ بھی پڑھیں