قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی گستاخوں کے حق میں رپورٹ پر نظر ثانی اور اسے کالعدم قرار دینے کے لئے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو درخواست دی گئی ہے۔وطن عزیز میں جہاں ایک طرف مقدس ترین شخصیات کے گستاخوں کےخلاف ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ سرگرم عمل ہے،وہاں دوسری طرف گستاخوں کے سہولت کار انہیں قانون کے شکنجے سے بچانے کےلئےمختلف سازشوں میں مصروف ہیں، تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان ،کہ جو 2016ء کے آخر سے سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص اللہ تعالیٰ،حضور ﷺ، صحابہ کرامؓ، اہل بیت،قرآن کریم اور دیگر شعائر اسلام کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے خلاف آئینی و قانونی جدوجہد میں کوشاں ہے، کے مطابق قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان نے سوشل میڈیا پر جاری بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث مجرمان کے خلاف ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں درج مقدمات کے متعلق حال ہی میں اپنی 62صفحات پر مشتمل ایک تحقیقاتی رپورٹ اپنی ویب سائٹ پر اپلوڈ کی ہے، جس کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مذکورہ رپورٹ سوشل میڈیا پر جاری مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث مجرمان کو تحفظ فراہم کرنے کی ایک مذموم کوشش ہے۔بادی النظر میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان نے مذکورہ رپورٹ مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث مجرمان اور ان کے اسلام دشمن بیرونی سہولت کاروں کی ملی بھگت سے مرتب کی ہے۔ مزید یہ کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کی جانب سے مرتب کردہ مذکورہ رپورٹ نہ صرف یہ کہ آئین پاکستان کے خلاف ہے،بلکہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ 2012 کے تحت حاصل مینڈیٹ سے بھی تجاوز ہے۔ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کی مذکورہ رپورٹ غیر آئینی،غیر قانونی، جانبدارانہ،یکطرفہ اورحقائق کےبرعکس ہے۔مذکورہ رپورٹ کےحق میں کمیشن کی جانب سےSingle Evidence بھی ریکارڈ پر نہیں لایاگیا۔
سوشل میڈیا پر جاری مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے خلاف ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں درج مقدمات میں زیر حراست مجرمان کے اہلخانہ/ورثا کی جانب سے ایک مخصوص ایجنڈے اور ملی بھگت کے تحت دی گئی درخواست پر کارروائی کے دوران قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان نے آئین، قانون اور انصاف کے بنیادی تقاضوں کو یکسر طور پر نظرانداز کیا ہے۔گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث زیرحراست مجرمان کے اہل خانہ کی جانب سے دی گئی مذکورہ درخواست قومی کمیشن برائےانسانی حقوق پاکستان کےدائرہ اختیارسماعت میں نہیں تھی۔اس کے باوجود بھی اگر کمیشن نے مذکورہ درخواست کو زیرسماعت لانا اتنا ہی ضروری سمجھاتو آئین،قانون اورانصاف کاتقاضا یہ تھا کہ مذکورہ درخواست پر رپورٹ مرتب کرنے سے پہلے کمیشن مذکورہ مجرمان کے خلاف ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں درج مقدمات کے مدعیان کو بھی اپنا موقف اور مذکورہ مجرمان کے خلاف درج مقدمات کے حق میں شواہد پیش کرنے کا مناسب موقع فراہم کرتا، مگر چونکہ ایساکرنےسےان گھنائونے مقاصد کا حصول ممکن نہ رہتا،جن کوحاصل کرنےکے لئے مذکورہ رپورٹ مرتب کی کروائی گئی،اسی لئے کمیشن نے سوشل میڈیا پرمذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم کے خلاف ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں درج کسی ایک مقدمے کے مدعی کو بھی نوٹس جاری نہیں کیا۔اس موقع پردرخواست گزاراس امر کا اظہار بھی ضروری سمجھتا ہے کہ سات رکنی موجودہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کی ایک رکن کے شوہر،جو کہ وکیل ہیں، مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث مجرمان کی وکالت کررہے ہیں۔یہ بھی درخواست گزار کے اس موقف کے حق میں ایک ثبوت ہے کہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کی جانب سے مذکورہ رپورٹ مذکورہ زیرحراست مجرمان کی ملی بھگت سے اور ان کے ایما پر انہیں تحفظ دینے کے لئے مرتب کی گئی ہے۔
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہےکہ قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان کے قیام کا بنیادی مقصد آئین پاکستان کے تحت شہریوں کوحاصل بنیادی آئینی و انسانی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔آئین پاکستان کا آرٹیکل ٹین اےمنصفانہ ٹرائل(Fair Trial) کا حق دیتا ہے۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل ٹین اے کے تحت مذکورہ منصفانہ ٹرائل کاحق کسی بھی مقدمے میں دونوں فریقین یعنی مدعی اور مدعا علیہ دونوں کے لئے یکساں ہے۔قومی کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان ایک قانونی ادارہ (Statutory Body)ہے۔ایسے میں کہ جب سوشل میڈیا پر مذکورہ بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیری مہم میں ملوث مجرمان کے خلاف ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں درج مقدمات کی سماعت ٹرائل کورٹس میں بمطابق آئین و قانون جاری ہے۔
(جاری ہے)