آل پارٹیز انٹرنیشنل کشمیر کوآرڈی نیشن کمیٹی نے ایک قرارداد کے ذریعے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی ہے ۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ جب تک بھارت کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں کرتا اس کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ قرارداد یوم حق خود ارادیت کے حوالے سے منعقدہ ایک آن لائن اجلاس کے دوران منظور کی گئی۔ اجلاس میں کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی اور حق خود ارادیت کے لیے کمیٹی کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت کمیٹی کے صدر فہیم کیانی اور نظامت سیکرٹری جنرل خواجہ انعام الحق نے کی۔ حنیف راجہ ایم بی ای، محمد راجہ سکندر، مولانا فضل احمد قادری، سید ظفر حسین شاہ، محمد ایوب مسلم، اکرام الحق چوہدری، شکیل چوہدری، چوہدری زاہد اقبال، سرفراز قیوم، زوہیب صادق ،انجینئر محمد یوسف، نذیر جوہر سمیت ممتاز سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماں نے شرکت کی۔
شرکانے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے کیلئے کشمیریوں کی بہادرانہ جدوجہدپر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ برطانیہ بھر میں یوم یکجہتی کشمیر 5 فروری کو منایا جائے گا، جس میں کشمیر کے مسئلے کی طرف عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے کے لیے تقریبات اور ریلیاں منعقد کی جائیں گیا۔
دوسری طرف غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر بالخصوص وادی کشمیر میں بجلی کا بحران مزید سنگین ہوگیا ہے اور بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتیوں پر عوام میں غم و غصہ بڑھتا جارہا ہے۔ بجلی کی عدم فراہمی کے باعث لوگوں کو روزمرہ کی زندگی میں شدید مشکلات سامنا ہے اور ضروری خدمات، کاروبار، تعلیم اور صحت کے شعبے سب سے زیادہ متاثرہیں۔ سرینگر میں لوگ احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکل آئے اور بجلی کے بحران سے موثر طریقے سے نمٹنے میں ناکامی پرقابض انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مظاہرین نے سمارٹ میٹروں کی تنصیب کے باوجود بجلی کی عدم فراہمی پر غم و غصے کا اظہار کیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت جان بوجھ کر ان کی ضروریات کو نظر انداز کر رہی ہے تاکہ ہماری مشکلات میں اضافہ ہو سکے۔انہوں نے کہامقبوضہ جموں وکشمیر میں3,593 میگاواٹ پن بجلی پیدا ہورہی ہےجس کا 65 فیصد حصہ علاقے سے باہر بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو فراہم کیاجاتا ہے۔ ماہرین اور مقامی لوگوں نے بھارتی حکومت پر تنقید کی ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیرکے آبی وسائل کا استحصال کر رہی ہے اور علاقے کے لوگوں کو سستی بجلی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
دریں اثنا سوپور میں طویل عرصے سے پانی کی عدم فراہمی پر قابض حکام کی بے حسی کے خلاف لوگ احتجاج کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے بارہمولہ سوپور ہائی وے کو بلاک کر دیا۔ ان کا کہناتھا کہ قابض حکام کشمیریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مکمل طورپر ناکام رہے ہیں ۔ پولیس نے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے طاقت کاوحشیانہ استعمال کیا۔
ادھرحریت رہنمائوں اور جماعتوں نے ممتاز مزاحمتی رہنما سجاد احمد کینو کو ان کی شہادت کی برسی پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ضلع اسلام آباد کے رہائشی سجاد احمد کینو کو بھارتی فورسز نے 8 جنوری 1996 کو شہید کیا تھا۔
غیر قانونی طورپر نظر بند حریت رہنما ںبلال صدیقی، مولوی بشیر عرفانی کے علاوہ فاروق احمد، فریدہ بن جی، ڈاکٹر مصعب اور جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (ڈی ایف پی) نے سری نگر میں ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ شہید سجاد احمد کینو جیسے شہید کشمیریوں کے حقیقی ہیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سجاد کینو موجودہ تحریک آزادی کے اولین رہنمائوں میں سے ایک تھے۔ حریت رہنمائوں اور تنظیموں نے کہا کہ سجاد ایک شریف النفس اور مخلص انسان تھے جو اپنی آخری سانس تک تحریک آزادی کے ساتھ وابستہ رہے۔انہوں نے کہا کہ شہداکی قربانیاں ایک روز ضرور رنگ لائیں گی۔انہوں نے کہا کہ بھارت بے انتہا قتل وغارت کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے میں ناکام ہو چکا ہے ، کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ اپنے شہداکے عظیم مشن کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے پر عزم ہیں۔
غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام نے کشمیریوں کی جائیدادوں پر قبضے کی اپنی استعماری پالیسی جاری رکھتے ہوئے ضلع پلوامہ میں ایک اور شہری کی جائیداد ضبط کر لی ہے۔
بھارتی پولیس نے سیدآباد پستونہ ترال کے رہائشی مبشر احمد کی4مرلے کی غیر منقولہ جائیداد کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون کے تحت ضبط کر لیا۔ پولیس نے مبشر احمد کوکشمیریوں کی تحریک حق خودارادیت کا حامی قرار دیا ہے۔اگست 2019میں مقبوضہ جموں وکشمیرکی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے مودی حکومت نے مختلف بہانوں سے کشمیریوں کی سینکڑوں جائیدادیں ضبط کر لی ہیں۔ یہ مہم کشمیریوں کو معاشی طور پرکمزور کرنے اور غیر کشمیریوں کو ان کی سرزمین میں آباد کرکے علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارت کی ایک بڑی سازش کا حصہ ہے۔