Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

عیسیٰؑ کے منکر بنی اسرائیل اور معاہدہ ابراہیمی کا فریب

دنیا محض واقعات کا مجموعہ نہیں یہ اقوام کے عقائد، رویوں اور انجام کی شہادت ہے۔ کچھ قومیں ہدایت کی روشنی میں آگے بڑھیں اور کچھ نے روشنی پا کر بھی اندھیرے کو چنا۔ ان میں سب سے عبرتناک مثال بنی اسرائیل کی ہے ۔ وہ قوم جس پر اللہ کی عنایات برسیں، جسے انبیا کی رہنمائی ملی مگر اس نے بار بار سچائی سے منہ موڑا۔ آج یہی قوم جسے دنیا یہودیوں کے نام سے جانتی ہے نہ صرف ماضی میں انبیا کی گستاخی کی مرتکب رہی بلکہ آج بھی مقدسات کی پامالی میں پیش پیش ہے۔ ان کی تاریخ ان کی روش اور ان کی سازشیں سب امتِ مسلمہ کے لیے ایک کڑا سبق ہیں۔ اگر ہم سیکھنا چاہیں۔ اس میں وہ تمام کہانیاں محفوظ ہیں جو انسانوں نے اپنے اعمال سے لکھی ہیں۔کوئی نیکی کی روش پر چل کر امر ہو گیا اور کسی نے سرکشی کی تو لعنت کا وارث ٹھہرا۔ ایسی ہی ایک قوم بنی اسرائیل ہے جسے اللہ تعالی نے بارہا اپنی نعمتوں سے نوازا، انبیا عطا کئے، آسمانی کھانے اتارے، سمندر ان کے لئے چیر دیا اور بادلوں سے سایہ فراہم کیا لیکن یہ قوم بار بار ناشکری کی حدیں پار کرتی رہی۔یہ وہی قوم ہے جسے حضرت موسی علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی کی معیت حاصل ہوئی۔ جس نے طور سینا کی وادیوں میں رب کا جلوہ سنا مگر جب ان کے دلوں میں ایمان کا سورج طلوع ہونا چاہیے تھا وہ سونے کے بچھڑے کے آگے سجدہ ریز ہو گئے۔ خدا کی عظیم آیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود وہ اپنے سفلی جذبات اور دنیاوی حرص سے آزاد نہ ہو سکے۔ انہیں بار بار نصیحت کی گئی، تنبیہ دی گئی لیکن وہ نہ صرف انبیا کا انکار کرتے رہے بلکہ ان کی جان کے دشمن بن گئے۔یہی روش انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ اپنائی جنہیں اللہ تعالیٰ نے بغیر باپ کے پیدا کیا۔
پاکیزہ ماں حضرت مریم علیہا السلام کی گود میں پلنے والا وہ بچہ جس نے جھولے میں بول کر اپنی نبوت کا اعلان کیا۔ ان کی تعلیمات، معجزات، کردار اور گفتگو سب اس بات کے غماز تھے کہ وہ اللہ کے نبی ہیں، حق کے نمائندے ہیں اور بنی اسرائیل کے لیے آخری تنبیہ۔ لیکن جب انہوں نے یہودی علما کی منافقت، ریاکاری اور دنیا پرستی کو بے نقاب کیا تو وہی علماء ان کے دشمن بن گئے۔انہوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو رومی عدالت میں کھینچ کر پیش کیا، ان پر الزامات کی بوچھاڑ کی کہ یہ شخص خود کو اللہ کا بیٹا کہتا ہے (حالانکہ یہ عقیدہ عیسائیوں کا بعد کا ایجاد کردہ نظریہ تھا)، مذہب کو بگاڑ رہا ہے اور قوم کو گمراہ کر رہا ہے۔ رومی حکومت نے یہودی دبا میں آ کر صلیب کا حکم دے دیا لیکن قرآن گواہی دیتا ہے کہ نہ انہیں قتل کیا گیا، نہ سولی دی گئی بلکہ معاملہ ان پر مشتبہ کر دیا گیا اور اللہ نے حضرت عیسی کو اپنی جانب اٹھا لیا۔آج بھی یہودی حضرت عیسی علیہ السلام کو نبی نہیں مانتے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ اصل مسیح یعنی مسیح موعود ابھی آنا باقی ہے جو ان کے مطابق ایک بادشاہ ہو گا جو یروشلم سے پوری دنیا پر حکومت کرے گا۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس کی بنیاد پر وہ آج اسرائیل کو عالمی غلبے کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔دوسری طرف مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا سچا نبی مانتے ہیں انہیں روح اللہ، کلم اللہ اور مسیح تسلیم کرتے ہیں۔ ان پر ایمان رکھنا ایمان کا تقاضا ہے۔ ان کی ولادت ایک معجزہ۔ ان کے معجزات اللہ کے اذن سے اور ان کی واپسی قرب قیامت کی علامت ہے۔ حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات اسلام کا حصہ ہیں اور مسلمان انہیں ہی آخری زمانے کا منصف، دجال کا قاتل اور عدل کا علمبردار مانتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ جب یہود حضرت عیسی کو نبی تک نہیں مانتے اور عیسائی انہیں خدا کا بیٹا سمجھتے ہیں تو ان دونوں کے درمیان بڑھتی قربت کا راز کیا ہے؟ کیا یہ صرف مذہبی رواداری ہے؟ نہیں حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور سیاسی ہے۔یہ قربت دراصل ایک گہری عالمی سازش کا حصہ ہے۔
امریکہ اور یورپی طاقتیں اسرائیل کو صرف ایک اتحادی ریاست نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کی محافظ چوکی کے طور پر دیکھتی ہیں۔ وہ عرب دنیا کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور اسرائیل کو اس کے دل میں پھنسا کر قابض بنانا ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔اسی تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدہ پیش کیا جس کا بظاہر مقصد تینوں مذاہب اسلام، عیسائیت، یہودیت کے درمیان بھائی چارہ پیدا کرنا ہے۔ لیکن درحقیقت یہ معاہدہ ایک مکارانہ چال ہے جس کے تحت مسلم دنیا کو اسرائیل کے سامنے جھکنے پر مجبور کیا جائے۔ کچھ عرب حکمران جو اپنی کرسیوں کے لیے مغرب کے محتاج ہیں انہوں نے اس دبا کے تحت اسرائیل کو تسلیم کیا، سفارت خانے کھولے، مشترکہ فوجی مشقیں کیں اور حتی کہ مشترکہ ٹی وی ڈرامے اور فلمیں بھی بننے لگیں۔لیکن یہ سب کچھ عوام کے بغیر، شعور کے بغیر اور ایمان کے خلاف کیا گیا۔ فلسطین آج بھی لہو لہو ہے۔ مسجد اقصی پر حملے، بچوں کی شہادتیں، عورتوں کی بے حرمتی، نوجوانوں کی قیدیہ س ب کچھ آج بھی جاری ہے اور دنیا خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی واپسی کا وقت ایک نازک مرحلہ ہو گا۔ وہ آئیں گے تو صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ کا خاتمہ کریں گے اور اسلام کے مطابق شریعت نافذ کریں گے۔ وہ آخری نبی جناب محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بن کر آئیں گے۔وہ خود نماز پڑھیں گے حج کریں گے اور اہلِ ایمان کی صفوں میں شامل ہو کر اللہ کی بندگی کریں گے۔یہ وہ عقیدہ ہے جو مسلمانوں کو دیگر مذاہب سے ممتاز کرتا ہے۔ ہم نہ صرف حضرت عیسیٰؑ کو نبی مانتے ہیں بلکہ ان کی شریعت ان کی نبوت، ان کے معجزات اور ان کی واپسی پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ یہی ایمان ہمیں یہود و نصاریٰ کے سیاسی اتحاد سے الگ کرتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ قربت محض ایک وقتی سیاسی فائدے کا حصول ہے جس کی کوئی مذہبی بنیاد نہیں۔اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ سچائی، انصاف اور مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا ایمان کا تقاضا ہے۔ ہم تمام انبیا پر ایمان رکھتے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی واپسی کے منتظر ہیں۔ لیکن جو قوم حضرت عیسیٰؑ کو نہ نبی مانتی ہے نہ ان کی تعلیمات کو بلکہ ان پر گستاخی کے الزامات لگاتی ہے اس قوم کو اسلامی دنیا کا بھائی کہنا عقیدے سے انحراف ہے۔امتِ مسلمہ کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم تاریخ کا دھارا بدلنے والے بنیں گے یا اس کی بھیڑ بن کر بہہ جائیں گے؟ کیا ہم حضرت عیسی علیہ السلام جیسے برگزیدہ نبی کی توہین پر خاموش رہیں گے یا اس کے خلاف کھڑے ہوں گے؟ کیا ہم مسجد اقصی کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں گے یا ابراہیمی معاہدے کے سراب میں کھو جائیں گے؟تاریخ ہر قدم محفوظ رکھتی ہے۔ اگر آج ہم نے اپنے ایمان اپنی غیرت اور اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کے حق میں کھڑے نہ ہوئے تو کل ہماری نسلیں ہمیں سوالیہ نظروں سے دیکھیں گی۔ اور پھر ہمارے پاس جواب نہیں ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں