دنیا کے مختلف خطے زبانیں ثقافتیں اور قومیں جب آپس میں ملتی ہیں تو صرف فاصلے کم نہیں ہوتے بلکہ دل بھی قریب آتے ہیں۔ تہذیبوں کا تصادم اگر انسانیت کے لیے ایک خطرہ ہے تو تہذیبوں کا تبادلہ امید کی ایک روشن کرن۔ یہی پیغام تھا جو حال ہی میں بیجنگ میں ہونے والے بین الاقوامی فورم “Civilization Exchange and Mutual Learning: Cultural Heritage and Innovation” کے پلیٹ فارم سے سامنے آیا اور اس عالمی فورم میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات، عطا اللہ تارڑ کا خطاب دراصل پاکستان کے تہذیبی وژن، ثقافتی سرمائے اور مستقبل کی ڈیجیٹل راہداریوں کا ایک جامع تعارف تھا۔
عطا اللہ تارڑ نے اپنی گفتگو کا آغاز ان الفاظ سے کیا کہ آج اس فورم میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی نمائندگی کرنا میرے لئے باعث اعزاز ہے۔ یہ جملہ بظاہر رسمی محسوس ہو سکتا ہے مگر اس میں ایک قومی وقار اور عالمی سطح پر پاکستان کی تہذیبی شناخت کو اجاگر کرنے کی خواہش جھلکتی ہے۔عطا اللہ تارڑ نے چین کو آئرن برادر یعنی فولادی بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک سفارتی ترکیب نہیں بلکہ ایک تاریخی تہذیبی اور روحانی رشتہ ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات محض دو ریاستوں کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں بلکہ یہ وہ رشتہ ہے جس کی جڑیں صدیوں پرانی تہذیبوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
وزیر اطلاعات نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ پاکستان دراصل وادی سندھ کی عظیم تہذیب کا وارث ہے جو ہزاروں سال پر محیط ہے۔ اس تہذیب کا ربط چین کی ابتدائی تہذیبی شناخت سے بھی جڑا ہوا ہے جہاں شاہراہِ ریشم ایک ایسا پل تھا جو نہ صرف تجارتی قافلوں کی راہ گزر تھی بلکہ تہذیبی فکری اور روحانی تبادلوں کی علامت بھی تھی۔ آج یہی شاہراہ چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی CPEC کی شکل اختیار کر چکی ہے۔عطا اللہ تارڑ نے سی پیک کو صرف اقتصادی منصوبہ قرار نہیں دیا بلکہ ایک تہذیبوں کو جوڑنے والا راستہ قرار دیا۔ یہ تعبیر بظاہر سادہ مگر حقیقت میں گہری ہے۔ جب کوئی ریاست اپنی معاشی ترقی کو ثقافتی اور روحانی بنیادوں سے جوڑ کر دیکھتی ہے تو وہاں ترقی صرف عمارتوں، سڑکوں یا منصوبوں کی شکل میں نہیں آتی بلکہ قوم کے شعور اور فہم میں بھی نمودار ہوتی ہے۔
عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ایسی قوم ہے جو تہذیبوں کے سنگم پر واقع ہے۔ یہ بیان صرف جغرافیہ نہیں بلکہ تاریخ، روحانیت اور قومیت کا عکاس ہے۔ ہمارا وطن جہاں موہنجو داڑو کی سرزمین ہے وہیں یہ گندھارا تہذیب، بدھ مت کے ہزاروں سال پرانے آثار، ٹیکسلا کی دانش گاہوں اور لاہور کی شعری روایت کا بھی وارث ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ سب صرف ماضی کی خوبصورت یادیں نہیں بلکہ آج بھی ہماری قومی نفسیات، فکری شناخت اور نوجوانوں کے خوابوں میں زندہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے اب اپنے ثقافتی ورثے کی ڈیجیٹلائزیشن کا آغاز کیا ہے تاکہ یہ اثاثے صرف لائبریریوں یا عجائب گھروں میں قید نہ رہیں بلکہ دنیا بھر کے ساتھ شیئر کیے جائیں۔
عطا اللہ تارڑ نے یہ بھی کہا کہ نئی نسل کو آگے آنے دینا ہوگا، انہیں نیا تناظر نئی زبان اور نئے خواب دینے ہوں گے تاکہ وہ دنیا کے سامنے پاکستان کی اصل تصویر پیش کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اور چین اب نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی اور میڈیا سطح پر بھی قریب آ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چین کے قومی نشریاتی ادارے چائنہ میڈیا گروپ کے ساتھ مل کر پاکستان نے کئی نئے پروگرامز شروع کیے ہیں جن میں نوجوانوں کو آگے بڑھنے، سیکھنے اور دنیا سے جڑنے کے مواقع مل رہے ہیں۔ “Hi China, Hi Pakistan” جیسا پروگرام صرف ثقافتی تبادلہ نہیں بلکہ دوستی، تفہیم اور باہمی احترام کا عملی مظہر ہے۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ “Hua Shang Weekly” جیسا دو لسانی اخبار دونوں اقوام کو قریب لا رہا ہے اور اب دونوں ملک مل کر مشترکہ ڈاکومنٹریز اور فلم سازی جیسے منصوبے بھی شروع کر رہے ہیں۔عطا اللہ تارڑ کا اگلا ہدف ڈیجیٹل میڈیا انفلوئنسرز کے تبادلے پر مبنی ایک نیا منصوبہ ہے تاکہ دونوں ملکوں کے نوجوان مل کر اپنے ورثے، تاریخ، ثقافت اور سیاحت کو سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کریں۔ ان کے بقول مستقبل اب ڈیجیٹل روابط میں ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا ہماری نئی راہداری ہے۔یہ نئی راہداری صرف انٹرنیٹ کی تیز رفتاری یا سوشل میڈیا کے رجحانات کا نام نہیں بلکہ یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر قومیں اپنی شناخت اپنے نظریات اور اپنی تاریخ کو دنیا تک پہنچا سکتی ہیں۔
وزیر اطلاعات نے اپنے خطاب میں صدر شی جن پنگ کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے “Global Civilization Initiative” کے ذریعے دنیا کو ایک نیا پیغام دیا ہے کہ اقوام اپنی ثقافت اپنی زبان اور اپنے ورثے پر فخر کرتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ سیکھنے کا عمل جاری رکھ سکتی ہیں۔ نہ کوئی بالادست ہو نہ کوئی کمتر۔ نہ کوئی غالب تہذیب ہو نہ مغلوب۔یہ عالمی وژن اس وقت اور بھی معنی خیز ہو جاتا ہے جب دنیا ایک نئے ’’ثقافتی تصادم‘‘ کی طرف بڑھ رہی ہو۔ ایسے میں پاکستان اور چین کا یہ قدم ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔عطا اللہ تارڑ نے نہایت خوبصورتی سے اپنے خطاب کو ماضی سے جوڑا۔ حال کی ضرورتوں پر روشنی ڈالی اور مستقبل کے لیے ایک وژن دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پہلی بار 2009 میں چین آئے تھے بطور طالبعلم اور آج ایک پالیسی ساز کے طور پر دوبارہ چین میں موجود ہیں۔ یہ بات صرف ایک شخص کی ترقی نہیں بلکہ ریاست کے وژن میں تسلسل کا ثبوت بھی ہے۔انہوں نے پانی کو ہتھیار نہیں بلکہ امن کا ذریعہ بنانے کی خواہش ظاہر کی جو کہ دنیا کے بدلتے ہوئے چیلنجز میں نہایت اہم پیغام ہے۔ ماحول، پانی، میڈیا، نوجوان، ثقافت سب کو ایک ہی تھیم سے جوڑ کر وزیر اطلاعات نے پاکستان کے سفارتی فہم، تہذیبی گہرائی اور مستقبل کی تیاری کا بھرپور تعارف دیا۔
آخر میں انہوں نے چین کے میزبانوں، صدر شی جن پنگ اور تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ یہ شکریہ صرف رسمی جملہ نہیں بلکہ تہذیبوں کے اس رابطے کا حسن ہے جو صدیوں سے جاری ہے اور مستقبل میں بھی برقرار رہے گا۔پاکستان اور چین کی یہ دوستی، یہ راہداری، یہ تبادلہ صرف منصوبوں، معاہدوں یا تقریبات تک محدود نہیں۔ یہ دلوں، خوابوں اور تہذیبوں کا رشتہ ہے۔ اور جب قومیں دل سے جڑ جائیں تو کوئی طاقت انہیں جدا نہیں کر سکتی۔