Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

بھارت کشمیریوں کی تہذیب و تقافت کو مٹانے کے درپے

بھارت ایک طرف مقبوضہ جموں وکشمیر میں آزادی پسند مسلمانوں کی نسل کشی کر رہا ہے جبکہ وہ انکی تہذیب و ثقافت کو مٹانے کے مذموم منصوبے پر بھی عمل پیرا ہے۔بھارتی مرکزی وزیر برائے سیاحت و ثقافت گجیندر سنگھ شیخاوت نے سری نگر کے اپنے حالیہ دورے کے دوران بھدرواہ کے شیو مندر اور دیگر ہندو مذہبی مقامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ علاقے کے ثقافتی اور روحانی پہلوؤںکو عالمی سطح پر متعارف کرنے کی ضرورت ہے۔ کشمیر کی سیاحت صرف جھیل ڈل، گلمرگ، پہلگام وغیر ہ کے خوبصورت مناظر تک محدود نہیں بلکہ یہاں کا ”قدیم ثقافتی اور روحانی ورثہ“ بھی عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔بھارتی وزیر کے اس بیان سے واضح ہو گیا ہے کہ مودی حکومت مقبوضہ علاقے کی مسلم شناخت اور اسلامی تہذیب و تمدن کو مٹانے کے درپے ہے۔ بی جے پی کی بھارتی حکومت کیطرف سے اگست 2019میں جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کا بنیادی مقصد ہی علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا اور انکی تہذیب و ثقافت کو مٹانا ہے۔مودی حکومت نے اگست 2019سے اب تک لاکھوں بھارتی ہندوؤں کو علاقے کے ڈومیسائل سرٹفیکٹس جاری کیے ہیں ، اس نے بڑے پیمانے پر کشمیری مسلمانوں کے گھروں ، زمینوں اور دیگر املاک کی ضبطی اور مسماری کا بہیمانہ عمل بھی شروع کر رکھا ہے جسکا مقصد انہیں اپنے ہی وطن میں اجنبی بنانا اور علاقے کو ہندو توا رنگ میں رنگنا ہے۔ اس بیان کو موجودہ سیاسی و جغرافیائی حالات، خصوصاً 5 اگست 2019 کے بعد بھارتی پالیسیوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بھارت 10 لاکھ فوک کے بل پر جموں و کشمیر کی سرزمین کو صرف اپنے تسلط ہی میں نہیں رکھ رہا بلکہ اسکو ہمیشگی بخشنے کے لئے اس کی تاریخ، تہذیب، شناخت اور Demography کو بھی اپنے مطابق ڈھالنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔
جب 5 اگست 2019 کو بھارت نے دفعہ 370 اور 35A کو منسوخ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی، تو یہ صرف ایک قانونی اقدام نہیں بلکہ ایک وسیع تر ہندوتوا نظریے کا عملی اظہار تھا، جس کا مقصد مقبوضہ علاقے کو مکمل طور پر بھارتی وفاق میں ضم ، اس کے مسلم اکثریتی تشخص کو کمزور اور اس کی زمین، وسائل اور تہذیب پر بھارتی اجارہ داری قائم کرنا تھا۔ شیخاوت کا حالیہ بیان اسی منصوبہ بند تہذیبی یلغار کی ایک قسط ہے جس میں کشمیر کی “شناخت” کو ازسرنو متعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔شیخاوت کے مطابق کشمیر کی شناخت صرف ڈل جھیل، گلمرگ، پہلگام یا سونمرگ تک محدود نہیں بلکہ اس کے “روحانی پہلوؤں” کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جانا چاہیے۔ اس بات کا ظاہری مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ بھارت کشمیری ثقافت کے تنوع کو فروغ دینا چاہتا ہے، لیکن جب وہ بھدرواہ کے شیو مندر اور ہندو مذہبی مقامات کو بطور مثال پیش کرتے ہیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ بھارت کا مقصد مقبوضہ علاقہ کے مسلم تشخص کو مٹانا اور ایک ہندوانہ تہذیب کو مسلط کرنا ہے۔ کشمیر کی ہزاروں سال پرانی اسلامی ثقافت، صوفی ورثہ، تاریخی مساجد، خانقاہیں اور عیدگاہیں شیخاوت کی تقریر میں کہیں موجود نہیں۔بھارت کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں جس طرح زمین اور جائیداد کی ضبطی کی پالیسی اپنائی ہے، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقصد صرف سیاحت یا ترقی نہیں بلکہ مسلم اکثریتی تشخص کو بدلنا ہے۔ لاکھوں غیر ریاستی بھارتیوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس دیے جا چکے ہیں، جن کی بنیاد پر انہیں زمینیں الاٹ کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمتوں میں کشمیری مسلمانوں کو نکالا جا رہا ہے یا نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ کئی ملازمین کو محض ان کے “سوشل میڈیا بیانات” کی بنیاد پر ملازمت سے برخاست کر دیا گیا۔کشمیری بچوں کے ذہنوں پر بھی اس تہذیبی یلغار کی تلوار چلائی جا رہی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں بھارتی قومی بیانیے کو داخل کیا جا رہا ہے۔ اسلامی تاریخ، ڈوگرہ راج سے آزادی کی تحریک کے واقعات جن میں 13 جولائی 1931 کا واقع ناقابل فراموش ہے،سے متعلق ابواب کو نصاب سے نکالا جا چکا ہے۔ ان کی جگہ ہندوتوا کے نکتۂ نظر سے مرتب کردہ مضامین کو شامل کیا گیا ہے، جس سے کشمیری نوجوانوں کی فکری و نظریاتی ساخت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جہاں ایک جانب امرناتھ یاترا کے لیے ریاستی وسائل کا بے دریغ استعمال ہو رہا ہے، وہںی دوسری طرف مساجد، عیدگاہیں اور مذہبی
اجتماعات کو سخت ترین پابندیوں کا سامنا رہتاہے۔ عیدین کے مواقع پر جامع مسجد سری نگر کو بند کر دینا معمول بن چکا ہے، جب کہ امرناتھ یاترا کے دوران مقامی کشمیریوں کی نقل و حرکت کو محدود کیا جاتا ہے، اور کئی علاقوں کو “یاترا زون” قرار دے کر وہاں کی مسلمان آبادی کو حاشیے پر دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ مذہبی تفریق اور امیاکزی پالیسی درحقیقت ایک خالص ہندو ریاست کے قیام کی طرف بڑھتا ہوا قدم ہے۔
کئی تاریخی مقامات کے نام تبدیل کیے جا چکے ہیں۔ اسلامی ثقافت کی پہچان بنے ہوئے علاقوں، گلیوں، تعلیمی اداروں اور عوامی مراکز کو ایسے ہندوانہ نام دیے جا رہے ہیں جو مقامی تاریخ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔پرانے بوسیدہ مندوں اور غاروں کا احیاء کیا جارہا ہے جبکہ جگہ جگہ مندر قائم کئے جارہے ہیں باوجود اس کے کہ ان مندروں کے بیسیوں کلو میڑ کے دائرے میں کوئی ہندو نہیں رہتا۔ اس سارےعمل کا مقصد کشمیریوں کی اجتماعی یادداشت کو مسخ کرنا اور نئی نسل کو ان کی اصل تہذیب و تاریخ سے کاٹ دینا ہے۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں