(گزشتہ سے پیوستہ)
گجیندر سنگھ شیخاوت نے جس “ایکسپیرینشل ٹورزم” کی بات کی ہے، وہ درحقیقت ثقافتی استعمار کا نیا ہتھیار ہے۔ اس کے ذریعے بھارتی ریاست کشمیر کو ایک “روحانی مقام” کے طور پر پیش کر رہی ہے، لیکن اس روحانیت میں صرف ہندومت کے عناصر کو شامل کیا جا رہا ہے۔ کشمیرکی اسلامی تہذیب، اس کی خانقاہی روایت، اور صوفیاء کا ذکر تک نہیں کیا جاتا۔ بھارت یہاں کے مذہبی و ثقافتی مراکز کو سیاحتی مقامات میں تبدیل کر کے نہ صرف ان کی روحانی حیثیت کو پامال کر رہا ہے بلکہ ان پر اپنا “قانونی و انتظامی قبضہ” بھی مضبوط کر رہا ہے۔
یہ سب اقدامات اس لیے بھی کیے جا رہے ہیں تاکہ عالمی سطح پر یہ تاثر قائم کیا جا سکے کہ کشمیر ایک پُرامن، روحانی اور سیاحتی مقام ہے جہاں اب سب کچھ نارمل ہے۔ شیخاوت جیسے بیانات کا مقصد مغربی میڈیا اور سیاحوں کو یہ دکھانا ہے کہ کشمیر اب ایک “روحانی تجربے” کی آماجگاہ ہے، نہ کہ ایک مقبوضہ خطہ جہاں قریب از 10لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی عوامی مزاحمت کو خون میں نہلا رہی ہے۔
بھارتی ریاست نے کشمیری عوام کو ان کے اپنے قدرتی وسائل سے بھی محروم کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہائیڈرو پاور پروجیکٹس سے حاصل ہونے والی بجلی بیرونِ کشمیر بھیجی جاتی ہے، جب کہ مقامی آبادی کو لوڈشیڈنگ کا سامنا رہتا ہے۔ دریاؤں، جنگلات اور زمینوں پر ریاستی قبضہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اب سیاحت بھی ایک ایسا شعبہ بن گیا ہے جس میں مقامی کشمیریوں کی شراکت کم سے کم ہو رہی ہے، جب کہ باہر سے آنے والے سرمایہ کار اس شعبے پر چھا رہے ہیں۔
گجیندر سنگھ شیخاوت کا بیان صرف ایک سیاحتی پالیسی کا اعلان نہیں بلکہ ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے، جس کے ذریعے بھارت کشمیر کی تہذیب، تاریخ، معیشت اور demography کو تبدیل کر رہا ہے۔ “روحانیت”، “تجرباتی سیاحت” اور “ثقافتی تنوع” جیسے خوبصورت الفاظ کے پیچھے درحقیقت ایک ایسی پالیسی چھپی ہے جو کشمیری شناخت کو مٹانے، ہندوتوا بیانیے کو مسلط کرنے، اور بھارت کے قبضے کو نارملائز” کرنے کی کوشش ہے۔یہ صرف کشمیر کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ ایک ملک کیسے ایک خطے کی تاریخ کو مٹا کر اسے اپنے نظریے کے مطابق دوبارہ تخلیق” کرنے پر تلا ہوا ہے۔ کشمیر میں جاری جدوجہدِ آزادی صرف زمین کے لیے نہیں، بلکہ اپنی تہذیب، شناخت، تاریخ اور مستقبل کو بچانے کی جنگ ہے۔ شیخاوت جیسے بیانات کو اسی تناظر میں پرکھنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ یہ صرف سیاحت نہیں، بلکہ “تسلط کا نیا روپ” ہے۔
جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو بزورطاقت اورنت نئی پابندیوں کے ذریعے تبدیل کرنے کی بھارت کی کوششیں بالآخر ناکام ہو کررہیں گی۔
کشمیر میڈیا سروس کی ایک رپورٹ کے مطابق اگست 2019میں دفعہ370اور 35Aکو منسوخی کے بعد بھارتی حکومت کے اقدامات خطے میں فوجی موجودگی،انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلیوں کا باعث بنے ہیں۔سالانہ امرناتھ یاترا سے فوجیوں کی موجودگی میں مزید اضافہ ہوا ہے اورلاکھوں کی تعداد میں بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے مقامی لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ بھارتی میڈیا اور سیاسی قیادت اکثر یاترا کوایک مذہبی تقریب کے بجائے بھارت کے نظریاتی تسلط کی علامت کے طور پر پیش کرتی ہے جس سے مقامی لوگوں کے غم وغصے کو ہوا ملتی ہے۔بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت نے سیاسی آوازوں کودبانے کے لیے سخت پابندیاں، مواصلاتی بلیک آئوٹ اور آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے قوانین نافذ کیے ہیں۔ حریت قیادت سمیت ہزاروں سیاسی قیدی مختلف جیلوں میں ان کالے قوانین کے تحت بند ہیں۔ نیاڈومیسائل قانون بیرونی لوگوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اجراء اور زمین خریدنے کی اجازت دیتا ہے جس سے مقامی لوگوں میں علاقے کاآبادی کا تناسب تبدیل ہونے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔آزاد میڈیا اور سول سوسائٹی کو ہراساں کیا جارہاہے، صحافیوں اور خرم پرویز جیسے انسانی حقوق کے محافظوں کو نظربند کرکے خاموش کر دیا گیاہے۔عالمی برادری بحران کے حل کے لیے بامعنی سیاسی مذاکرات اور انسانی حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔کشمیری عوام اپنی پرامن سیاسی تحریک جاری رکھے ہوئے ہیں اور بی جے پی حکومت انہیں فوجی طاقت کے ذریعے زیر نہیں کر سکتی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جنوب ایشیائی خطے میں پائیدارامن اور استحکام تنازعہ کشمیر کے پرامن حل سے منسلک ہے۔