Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

ترقی یافتہ ممالک کےفلڈمینجمنٹ ماڈل اورہماری بےحسی

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں کلائوڈ برسٹ پلان کے نام سے ایک منفرد نظام ہے۔ اس منصوبے کے تحت سڑکیں، پارک اور مخصوص راستے اس طرح بنائے گئے ہیں کہ جب اچانک تیز بارش ہو تو پانی ان ہی راستوں سے گزر کر محفوظ طریقے سے نکال کر سٹوریج جھیلوں میں پہنچ جاتا ہے۔جاپان چونکہ زلزلوں اور طوفانوں کا شکار رہتا ہے اس لئے یہاں بارش کے پانی سے بچائو کے لئے حیرت انگیز اقدامات کیے گئے ہیں۔ ٹوکیو شہر میں G-Cans کے نام سے ایک زیرِزمین نظام قائم ہےجو دنیا کا سب سے بڑابارش کا پانی ذخیرہ کرنے والا نظام ہے۔ اس میں پانی جمع کرنے کے لئے دیوہیکل ستونوں والے ٹینکس اور سرنگیں ہیں جو شدید بارش کے دوران پانی کو فوری طور پر سمیٹ کر شہر کو بچا لیتی ہیں۔
ہالینڈ ایک ایساملک ہےجس کا بڑا حصہ سمندر سے نیچے واقع ہے۔ اس کے باوجود یہ دنیا کے بہترین فلڈمینجمنٹ سسٹم کا حامل ملک ہے۔ یہاں ڈیلٹا ورکس کے نام سے ایک عظیم منصوبہ موجود ہے، جس میں سمندر سے بچائوکے لیے بند، سلویس اور پانی کی دیواریں بنائی گئی ہیں۔ روٹرڈیم شہر میں واٹر اسکوائرز بنائے گئے ہیں جہاں بارش کا پانی جمع ہوتا ہے اور بعد میں استعمال کیا جاتا ہے۔ سنگاپور جیسے چھوٹے ملک نے پانی کی قلت کو ایک موقع میں بدل دیا۔ مارینا بیراج کے نام سے ایک منصوبہ بنایا گیا جہاں بارش کے پانی کو جمع کیا جاتا ہے اور اسے پینے کے قابل بنایا جاتا ہے۔اے بی سی پروگرام کے تحت نہریں، پارک، جھیلیں اور تالاب اس طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ وہ بارش کے پانی کو صاف کریں۔
جرمنی نے قدرتی حل کو اپنایا۔ رائن ندی کے اردگرد کے علاقے اس طرح محفوظ کیے گئے ہیں کہ وہ سیلاب کی صورت میں پانی کو جذب کرلیں۔ امریکہ میں کئی ریاستیں سیلاب کا شکار رہتی ہیں خاص طور پر نیو اورلینز جو ماضی میں کترینا سیلاب سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔ اس کے بعد یہاں جدیدفلڈ گیٹس، بلند بند اور پمپنگ اسٹیشنز تعمیر کیے گئے جو بارش کے پانی کو فوراً باہرنکالتے ہیں۔ لاس اینجلس میں بھی بارش کا پانی جمع کرنے کے لئے چینلز اور واٹر اسٹوریج یونٹس بنائے گئے ہیں۔چین نے سپونج سٹیز کے نام سے ایک جدید تصور اپنایا ہے جس کے تحت شہر اس طرح بنائے جا رہے ہیں کہ وہ بارش کے پانی کو جذب کرلیں۔
یہ تمام ممالک اس بات کی بہترین مثال ہیں کہ اگر نیت، علم اور منصوبہ بندی ہو تو فطری آفات سے بچنا ممکن ہے۔ انہوں نے پانی کو دشمن نہیں بلکہ دوست بنا لیا ہے۔ اگر ہم بھی جدید سائنسی بنیادوں پر سوچیں شہری ڈھانچے کو محفوظ بنائیں اور بارش کے پانی کو ضائع ہونے سے بچائیں،تو آنے والے سالوں میں سیلاب کا خطرہ نہ صرف کم ہو سکتا ہے بلکہ پانی کی قلت کا حل بھی نکل سکتا ہے۔مگر پاکستان جیسا زرعی اور ایٹمی ملک جو دریائوں کی سرزمین کہلاتا ہے ہر سال مون سون میں اللہ کی نعمت کو کوڑے کی طرح بہا کر سمندر کے حوالے کر دیتا ہے۔ لاکھوں کیوبک فٹ پانی جو زیر زمین جذب ہو سکتا ہے، ہمارے کھیتوں کو سیراب کر سکتا ہے ہمارے نلکوں اور ہینڈ پمپوں میں جان ڈال سکتا ہے وہ محض اس لیے ضائع ہو جاتا ہے کہ ہمارے پاس نہ جذب کرنے کا نظام ہے نہ ذخیرہ کرنے کا انتظام اور نہ ہی سیاسی سطح پر اس بحران کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ ملک کے کئی چھوٹے بڑے شہر خاص طور پر کراچی، لاہور، راولپنڈی اور پشاور سمیت دیگرہر سال بارشوں کے بعد ڈوب جاتے ہیں۔ گلیوں میں پانی کھڑا ہو جاتا ہے ٹریفک جام ہو جاتی ہے بیماریاں پھیلتی ہیں املاک کو نقصان ہوتا ہے اور اربوں روپے کی معیشت متاثر ہوتی ہے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ یہی پانی اگر ہم چاہیں تو نعمت بن سکتا ہے۔
لاہورمیں واسا نے گزشتہ کچھ سالوں میں ایک قابلِ ستائش قدم اٹھایا ہے۔ شہر کے چند مقامات جیسے گلبرگ، لکشمی چوک اور بعض پارکوں میں ایسے کنویں اور تالاب بنائےہیں جہاں بارش کا پانی ذخیرہ ہوجاتا ہے۔ ان منصوبوں کی کامیابی یہ ثابت کرتی ہے کہ اگر ارادہ ہو تو حل نکل آتا ہے۔
پاکستان کے دیہی علاقے جہاں کاشتکاری زندگی کی شہ رگ ہے سردیوں میں پانی کی قلت کا شدید سامنا کرتے ہیں۔ نہری نظام کمزور پڑجاتا ہے، دریا خشک ہو جاتے ہیں اور زمینیں بنجر ہو جاتی ہیں۔ کاشتکار بارش کے انتظار میں آسمان کی طرف دیکھتے رہتے ہیں لیکن اگر ہم برسات کے پانی کو اسٹور کر کے مخصوص تالابوں یا چھوٹے ڈیموں کی صورت میں محفوظ کر لیں تو یہی پانی بعد میں کھیتوں کی پیاس بجھا سکتا ہے۔ جنوبی پنجاب، تھر، بلوچستان اور اندرونِ سندھ کے علاقوں میں یہ منصوبے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔
پانی کے بحران کا دوسرا خطرناک پہلو بھارت کے ساتھ ہمارا آبی تنازعہ ہے۔ 1960 ء میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ اگرچہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے مگر بھارت نے حالیہ برسوں میں اس کی بار بار خلاف ورزیاں کی ہیں۔ وہ چناب اور جہلم پر چھوٹے بڑے کئی ڈیم بنا چکا ہے اور پانی کو روک کر پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ چھیڑ چکا ہے۔
ایسے میں پاکستان کے لیے یہ لازم ہو جاتا ہے کہ وہ بارش کے پانی کو اپنی واٹر سیکیورٹی کی پالیسی کا بنیادی ستون بنائے۔ ہر شہر، ہر بستی، ہر تعلیمی ادارے ہرنئی کالونی میں بارش کے پانی کو جذب کرنے یا ذخیرہ کرنے کا باقاعدہ نظام بنایا جائے۔ گھروں کی چھتوں سے لے کر پارکوں تک، سڑکوں کےکنارے سے لےکر سرکاری عمارتوں تک ہر جگہ یہ سوچ اپنائی جائے کہ کوئی قطرہ ضائع نہ جائے۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہر سال اوسطا 35 سے 40 ملین ایکڑ فٹ بارش کا پانی دستیاب ہوتا ہے مگر صرف 10 ملین ایکڑ فٹ سے بھی کم پانی کسی صورت میں محفوظ ہو پاتا ہے باقی تمام پانی سیلاب نکاسی یا سمندر کی نذر ہو جاتا ہے۔ اگر ہم صرف 50 فیصد پانی بھی ذخیرہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو آئندہ نسلوں کو پانی کی قلت سے بچایا جا سکتا ہے اور پانی کے معاملے پر خود کفالت آ سکتی ہے۔
ہمیں ایک قومی واٹر پالیسی کی ضرورت ہے جو محض کاغذی نہ ہو بلکہ عملی ہو۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہےجس میں نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں بلکہ ماحولیات، زراعت، صحت اور معیشت کے شعبے بھی بہتر ہو سکتے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ پاکستان فوری طور پراس ایشو کو قومی ایمرجنسی قرار دے اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت پورے ملک میں رین واٹر ہارویسٹنگ پروگرام شروع کرے۔
بارش اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے لیکن جب یہی بارش قابو سے باہر ہو جائے تو قیامت خیز سیلاب میں بدل جاتی ہےجو بستیاں اجاڑ دیتا ہےکھیت کھلیان بہا لےجاتا ہےاورانسانی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیتا ہے۔ ترقی یافتہ دنیا نے اس خطرے کو ایک موقع میں بدلنے کا فن سیکھ لیا ہے۔ اگر ترقی یافتہ ممالک پانی کاتحفظ کر سکتے ہیں تو کیا ہم جو پانچ بڑے دریائوں کے مالک ہیں اپنی نااہلی اور غفلت سے پانی کے بحران کو دعوت دے رہے ہیں؟ اگر آج بھی ہم نے آنکھ نہ کھولی تو کل نہ دریائوں کا پانی بچے گا نہ کھیتوں کا سبزہ اور نہ نسلوں کی زندگی۔پانی بچائو، پاکستان بچائو ۔۔ اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں