یوم قرار داد الحاق پاکستان 19 جولائی جموں وکشمیر کی تاریخ کا اہم ترین دن ،یہ صرف ماضی کی یاد دہانی نہیں بلکہ حال کا شعور اور مستقبل کی ذمہ داریوں کی تجدید ہے۔ یہ دن دو قومی نظریے کی بنیاد پر قائم ہونے والی مملکتِ خداداد پاکستان سے کشمیریوں کے اس ناقابلِ انکار، دائمی اور نظریاتی رشتے کا مظہر ہے۔یقیناً پاکستان اور کشمیر کا تعلق محض جغرافیائی قربت یا زمینی حدود و قیود کا نام نہیں بلکہ یہ ایک نظریاتی یگانگت، ایمانی ہم آہنگی اور تہذیبی وحدت کا وہ پختہ رشتہ ہے جو قربانیوں کے لہو، دعاؤں کے چراغ اور وفاؤں کے جذبوں سے تحریر کیا گیا ہے۔ یہ رشتہ نہ وقت کی گرد سے مدھم ہوا، نہ جبر کی زنجیروں سے ٹوٹا اور نہ ہی عالمی ضمیر کی بےحسی اسے مٹا سکی۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں گزشتہ تقریباً 78 برس کے دوران ساڑے چار لاکھ کے لگ بھگ کشمیریوں نے ”بھارتی قبضے سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق“ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ بھارت اپنی بدترین مظالم کے باوجود پاکستان کیساتھ کشمیریوں کی محبت اور والہانہ لگاؤ کو ختم نہیں کر سکا ۔قراردادِ الحاقِ پاکستان اس ابدی رشتے کی ایک ایسی گواہی ہے جو اس بات کا اعلان کرتی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی مذہبی روح، جغرافیائی ساخت، ثقافتی روایت، لسانی قربت، قدرتی بہاؤ اور تہذیبی ہم آہنگی اسے بھارت نہیں بلکہ پاکستان سے جوڑتے ہیں۔ یہ محض کوئی وقتی ردِعمل یا سیاسی چال نہ تھی، بلکہ یہ ایک شعوری فیصلہ، ایک نظریاتی اعلان اور ایک ایمانی عہد تھا، جو کشمیری قوم کے ضمیر، شعور اور ایمان کی گہرائیوں سے ابھرا اور وقت کی ہر آزمائش پر پورا اُترا۔
کشمیر میڈیاسروس کی طرف سے آج ”یوم الحاق پاکستان “ کے موقع پر جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصے کے دوران ساڑے 4 لاکھ کے قریب کشمیریوں نے آزادی اور پاکستان سے الحاق کی جدوجہد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ بھارتی فوجیوں نے صرف جنوری 1989 سے اب تک 96ہزار 4سو 54 کشمیریوں کو شہید کیا ہے جن میں سے 7ہزار 3سو 29 کشمیریوں کو دوران حراست شہید کیا گیا۔8ہزار سے زائد کشمیر یوں کو جبری طور پر گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا، 11ہزار 2سو67 سے زائد کشمیری خواتین کی بے حرمتی کی گئی جبکہ 1 لاکھ 10ہزار 5سو59سے زیادہ گھر اور تجارتی املاک تباہ کی گئیں۔کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، نعیم احمد خان، ڈاکٹر حمید فیاض، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، ایاز محمد اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار سمیت پانچ ہزار سے زائد کشمیری اس وقت بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت نے 5اگست 2019کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد نہتے کشمیریوں پر مظالم میں تیزی لائی ہے اور کشمیری مسلمانوں کے تمام سیاسی، معاشی ، معاشرتی حتی ٰ کہ دینی حقوق بھی سلب کر لیے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی کے تمام تر جابرانہ ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ غیر قانونی بھارتی قبضے سے آزادی کے مطالبے سے دستبردار ہونے کیلئے ہرگز تیار نہیں کشمیریوں کی پاکستان کے عقیدت و محبت انمٹ و لازوال ہے ، وہ پاکستان کو اپنا ایک بڑا وکیل و حامی سمجھتے ہیں اور حق خود ارادیت کے حصول کی جدوجہد میں اپنی بھر پور سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی حمایت پر اسکے انتہائی مشکور ہیں۔
1947ء سے آج تک کشمیری عوام نے اپنی آزادی کے لیے جو قربانیاں دی ہیں وہ انسانی تاریخ کے اوراق پر سنہری ابواب کی صورت رقم ہو چکی ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ” Global Peace Index 2025 “کے مطابق 1989ء سے اب تک ہزاروں کشمیری بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر دنیا کا وہ واحد خطہ ہے جہاں فی کس سب سے زیادہ فوج تعینات ہے۔رپورٹ میں واں سال مئی میں پہلگام فالس فلیگ آپریشن کوجواز بنا کر بھارت کی طرف سے پاکستان اور آزاد کشمیر پر بلا اشتعال جارحیت کو بھی ایک خطرناک اقدام قرار دیا گیا ہے جس سے تباہ کن جوہری جنگ شروع ہونے کا خطرہ تھا۔ بھارت کا ایک اور مذموم ہتھکنڈہ یہ ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بدل کر مسلم اکثریتی ریاست کو ایک ہندوتوا غالب خطہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ عمل نہ صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ جنیوا کنونشن سمیت عالمی قوانین کی روح کے بھی سراسر منافی ہے۔ آبادیاتی تبدیلی کی یہ کوشش ایک نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاس ہے جو زمین پر تسلط کو دلوں کی غلامی سے مشروط کرنا چاہتی ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کو بندوق کی نوک پر محکوم نہیں بنایا جا سکتا۔
بھارت ایک طرف سلامتی کونسل کی قراردادوں (47، 51، 80، 96، 98، 122، 126) کی واضح طور پر روگردانی کر رہا ہے تو دوسری طرف آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے ذریعے کشمیر کو مسلم اکثریتی ریاست سے ہندوتوا کے تسلط میں لانے کی منظم کوشش کر رہا ہے جو جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بھارتی استبداد، طویل فوجی محاصرے، انسانی حقوق کی مسلسل پامالیاں اور تہذیبی شناخت مٹانے کی منظم سازشی یہ سب وہ کٹھن سچائیاں ہیں جن کے سائے میں وادیٔ کشمیر کئی دہائیوں سے لہو رنگ موسموں سے گزر رہی ہے۔ گلیاں لہو سے تر اور ہوائیں آہوں سے بوجھل ہیں لیکن ان تمام اندھیری ساعتوں میں اگر کوئی امید کی شمع روشن ہے تو وہ تحریک تکمیل پاکستان قراردادِ الحاقِ پاکستان ہے وہ تاریخی اعلان جو صرف ایک تحریر نہیں بلکہ ایک عہد ہے ۔
آج کا دن بتاتا ہے کہ کشمیری مسلمانوں نے قیام پاکستان سے قبل ہی اپنا مستقبل نظریاتی طور پر پاکستان کے ساتھ وابستہ کر دیا تھا۔ کشمیریوں کو اس تاریخی فیصلے پر فخر ہے کیونکہ اہل پاکستان نے آزمائش اور مشکل کے ہر لمحے میں انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔ تحریک آزادی کے عظیم ہیرو سید علی گیلانی شہید کا نعرہ ”ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے“ کشمیریوں کی پہنچان بن چکا ہے ، بھارت کا بے انتہا جبر وستم انکے دلوں سے پاکستان کی محبت نکال نہیں سکا اور وہ بھارتی تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد عزم و ہمت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔اقوام متحدہ، عالمی اداروں، انسانی حقوق کے علَم برداروں اور مہذب دنیا کو اس نازک تر مگر دیرینہ مسئلے کا ادراک کرنا ہوگا۔ مسئلہ کشمیر محض جنوبی ایشیاء کی سلامتی کا سوال نہیں یہ پوری دنیا کے ضمیر، قانون، اخلاق اور انسانی حقوق کے مستقبل کا امتحان ہے۔ ان سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کی انسانیت سوز پالیسیوں کا نوٹس لے اور کشمیریوں کو ان کا پیدائشی، قانونی اور اخلاقی حقِ خودارادیت دلوانے کے لیے عملی کردار ادا کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، استحکام اور ترقی کی راہ ہموار ہو۔