Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

شہر اقتدار کے دو متضاد مناظر

گزشتہ روز پیشہ وارانہ امور میں مصروف تھا کہ اچانک اطلاع دی گئی کہ ہمارے دفتر کے ایک ملازم کی طبیعت زیادہ خراب ہوگئی ہے راقم نے فوری طور پر اسے قریب ہی ایک نجی ہسپتال میں لے گیا وہاں پر موجود ڈاکٹر نے ابتدائی معائنہ کے بعد ہدایت کی کہ مریض کو فوری طور پر کسی سرجن کو دیکھانے کی ضرورت ہے جبکہ سردست سرجن ہمارے ہسپتال میں موجود نہیں ہے لہٰذا مریض کو قریب واقع پولی کلینک میں لے جائیں لہٰذا راقم نے ایسا ہی کیا۔ شہر اقتدار کے عین وسط میں واقع اس ہسپتال کی بیرونی حالت سے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ اندر کی صورتحال بھی ابتر ہوگی۔
راقم کو ایمرجنسی کا راستہ ڈھونڈنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑا اور جب ایمرجنسی میں پہنچا تو ہسپتال کی حالت زار دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے کسی اصطبل میں داخل ہوگیا ہوں اس قدر اجڑی ہوئی عمارت جس میں نہ تو صفائی نام کی کوئی شے تھی اور نہ اسے کسی بھی صورت ایک ہسپتال کے نام سے موصوم کیا جاسکتا تھا… بوسیدہ عمارت میں تکلیف اور کرب سے بھرپور مریضوں کی بھرمار تھی۔ یہ ایک ایسا درد ناک منظر تھا کہ راقم کو دارالحکومت کے دل میں اس قدر گندگی اور بوسیدگی سے بھرپور عمارت کو دیکھ کر ایک ایسا ناخوشگوار احساس پیدا ہوا جو کسی طور بھی الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا… حکومت اور حکمرانوں کی ایک ایسی مجرمانہ غفلت کا احساس جو دراصل ان کا اصل چہرہ بے نقاب کر رہا تھا نہ صرف برسراقتدار کا دل اشرافیہ کی اصلیت ظاہر کر رہا تھا بلکہ پولی کلینک ہسپتال کی بوسیدگی چیخ چیخ کر یہ کہتی سنانی دے رہی تھی کہ ریاست پاکستان کا عام آدمی کے ساتھ دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے نہ صرف موجودہ بلکہ اگر کسی نے پاکستان کے گزشتہ 76 سالہ تاریخ یا پھر ریاستی امور کا منظر دیکھا ہو تو اس ہسپتال کا دورہ کرلے۔
یوں کہیے…کارکردگی کی بولتی تصور ہے۔ یہ مقام یقین جانئے اس میں کوئی مبالغہ نہیں کر رہا جس طرح کا عام مریضوں کے ساتھ اس پرائے نام ہسپتال میں سلوک کیا جاتا ہے کسی کم سے کم مہذب ملک میں بھی جانوروں کے ساتھ بھی اس طرح کا سلوک نہیں ہوتا ہوگا۔ یقین جانیں جانوروں کے ہسپتال دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اس سے کہیں زیادہ منظم اور صاف ہوں گے۔ کیوں ہمارا میڈیا اس ہسپتال کی حالت زار کو منظر عام پر نہیں لاتا کیوں ہمارے سوشل میڈیا پر حکمرانوں کے اس ’’شاہ کار‘‘ کو بے نقاب نہیں کیا جاتا۔ شائد اس لئے کہ عام شہری جانور ہیں اور وہ اسی سلوک کے حقدار بھی ہیں۔
ہمارے ’’سیاستدانوں‘‘ اور حکمران اشرافیہ کا اس میں کوئی قصور نہیں ہے کیونکہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں اس قدر مصروف ہیں کہ ان کے لئے عام شہریوں کو طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے وقت ہی نہیں ہے وہ انا کی جنگ میں ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے میں اس قدر مشغول ہیں کہ اگر انہوں نے عوام الناس کے مسائل کو حل کرنے پر توجہ دی تو پھر وہ اپنے اصل کام سے انحراف کے مرتکب ہو جائیں گے اور ان میں سے ایک ’’اصل کام‘‘ میں ہر طرح کی لوٹ مار بھی شامل ہے جوکہ متاثر ہوسکتی ہے۔ بہرحال راقم انتہائی اداسی اور کرب کی حالت میں اپنے مریض کو لے کر جب ہسپتال سے باہر نکلا تو ایک بالکل متضاد اور مختلف منظر دیکھنے کو ملا۔ جسے دیکھ کر راقم کی توجہ پولی کلینک ہسپتال کی فرسودہ حالت زار سے کچھ دیر کے لئے ہٹ گئی اور وہ منظر یہ تھا کہ ہسپتال کے باہر مشروبات کے ایک چھوٹے سے کیبن میں ایک بوڑھی عورت مشروبات کی فروخت میں مصروف تھی راقم گرمی کی شدت کے پیش نظر اپنے مریض کے لئے مشروب خریدنے کے لئے بڑھا تو اچانک خیال آیا کہ رقم گاڑی میں بھول آیا پارکنگ کی طرف واپس مڑا تو بوڑھیا نے آواز دے کر واپس بلایا اور کہا کہ کیا چاہیے میں نے کہا کہ میں مریض کے لئے مشروب لینا چاہ رہا تھا اس بوڑھی عورت نے بہت فراخ دلی کے ساتھ فریزر کو کھولا اور کہا کہ اس میں سے تمہیں جتنے مشروبات چاہئیں لے جائو میں نے کہا کہ مجھے گاڑی سے رقم لانے دو اس نے کہا کوئی بات نہیں یہ میری طرف سے اس مریض کو پلا دو میں نے انکار کیا تو اس بڑھیا نے انتہائی پرخلوص اور پرزور لہجے میں مجھے گزارش کہ کہ تم مجھ سے ثواب کمانے کا یہ موقع ضائع نہ ہونے دو میں نے بھی آخر مرنا ہے قبر میں جانا ہے میرے پاس بھی تو کچھ اچھائیاں ہوں جو قبر میں میری مدد کریں میں حیران ہو کر اس بوڑھیا کی طرف دیکھنے لگا۔ میں نے جب مشروب اٹھا لیا تو اس کے چہرے کی مسکراہٹ اور اس پر نمودار ہونے والی خوشی کو دیکھ کر راقم یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ کس قدر بدنصیب ہیں ہمارے حکمران جن میں سے کسی ایک کے دل میں بھی اس بڑھیا کے مقابلے میں اس کا عشر عشیر بھی احساس اور درد ہوتا تو آج دارالحکومت کے وسط میں واقع مریض اس طرح لاچارگی اور بے بسی کی تصویر نہ بنے ہوتے۔ اس لمحہ مجھے اس بات کا احساس بھی ہوا کہ جیسے افراد کو کسی بدعا کے نتیجہ میں فرسودگی اور تنگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بالکل اسی طرح مصیبت اور تکلیف میں مبتلا عوام کے دل سے بھی آہ ضرور نکلتی ہوگی اور اسی آہ کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری حکمران اشرافیہ سخت بے چینی، ذہنی کوفت، انتظامی بحران اور نجانے کس کس مصیبت میں مبتلا دیکھائی دیتی ہے اور شائد اس کے پس پردہ انہی مصیبت زدہ شہریوں کے ساتھ ہونے والا یہ ’’حیوانی سلوک‘‘ کارفرما ہے۔
راقم کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ اپنے اردگرد منفی سوچ پھیلائی جائے اور نہ ہی کبھی بھی ناامیدی اور مایوسی راقم کا شیوہ رہا ہے مگر نجانے کیوں مجھے اس عمررسیدہ بڑھیا میں اپنے حال اور ماضی کے حکمرانوں سے کہیں زیادہ امید اور روشنی کی وہ شمع اور کرن محسوس ہوئی جو نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ ہمارے حکمرانوں اور اشرافیہ کے لئے سبق آموز اور پیغام ہے کہ اگر وہ اپنے دل، نیت اور ارادے میں اس بڑھیا جیسا درد اور احساس ہی اپنے اندر پیدا کرلیں تو شائد ہمارے ریاستی اداروں میں اصلاح ہوسکے اور وہ جانوروں جیسے حیوانی ماحول سے نکال کر ہماری عوام کو کم از کم انسانی دائرے میں شامل تو کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں