بھارت میں نریندر مودی کی سربراہی میں بی جے پی حکومت کا ’چوتھی بڑی معیشت‘ بنانے کا دعویٰ ایک فریب ثابت ہوا ہے۔ عوام بھوک، قرض اور معاشی ناہمواری کے بوجھ تلے دب کر خودکشیوں پر مجبور ہو رہے ہیں۔ مودی کا نعرہ ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘ صرف سرمایہ داروں جیسے اڈانی اور امبانی کی ترقی کا ضامن بنا، جبکہ عام بھارتی شہری غربت، مہنگائی اور پسماندگی کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں۔ گجرات، جہاں سے مودی نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا، آج بھوک، قرض اور خودکشیوں کی زندہ مثال بن چکا ہے۔مودی سرکار کے معاشی ترقی کے دعوے حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ ’گجرات ماڈل‘، جسے مودی نے ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا، دراصل غربت، قرض اور بے بسی کی تصویر ہے۔ تازہ خبروں نے اس فریب کو بے نقاب کر دیا ہے۔ این ڈی ٹی وی کی 20 جولائی کی رپورٹ کے مطابق، گجرات کے ضلع احمدآباد میں ایک خاندان نے بھوک اور قرض سے تنگ آکر اجتماعی خودکشی کر لی۔ ویپل وگھیلا، ایک آٹو رکشہ ڈرائیور، اپنی بیوی اور تین بچوں (دو بیٹیوں اور ایک بیٹے) کے ساتھ اس قدر مالی دباؤ کا شکار تھا کہ اس نے زہر کھا کر اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی ختم کر لی۔ یہ واقعہ مودی کے ’گجرات ماڈل‘ کی خوفناک حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، بھارت میں گزشتہ تین سالوں میں 1866 خودکشیاں رپورٹ ہوئیں، جن میں سے 19 فیصد مالی دباؤ اور غربت کی وجہ سے تھیں۔ یہ اعدادوشمار بھارتی معیشت کی بدحالی اور مودی سرکار کی پالیسیوں کی ناکامی کی گواہی دیتے ہیں۔ گجرات، جو مودی کے سیاسی عروج کا نقطہ آغاز تھا، آج بھی غربت اور قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ مودی کا نعرہ ’آن گجرات میں بنایو چھے‘ (یہ گجرات میں بنایا گیا ہے) دراصل بھوک، قرض اور خودکشیوں سے بھرے گجرات کی بھیانک حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔مودی سرکار کی ساتویں بار گجرات میں حکمرانی کے باوجود، وہاں کے عوام کو نہ روزگار میسر ہے اور نہ ہی قرض سے نجات کی کوئی امید۔ بھارتی معیشت میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات نے عام شہریوں کو ذہنی دباؤ اور خودکشی جیسے انتہائی اقدامات کی طرف دھکیل دیا ہے۔ سرمایہ داروں کو اربوں روپے کی ٹیکس چھوٹ اور مراعات دی جا رہی ہیں، جبکہ عام آدمی کے لیے نہ قرض معافی کا کوئی پروگرام ہے اور نہ ہی معاشی تحفظ کی کوئی پالیسی۔یہ بحران صرف عام شہریوں تک محدود نہیں۔ بھارتی سکیورٹی فورسز بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں، جو خودکشیوں اور ساتھی اہلکاروں پر حملوں کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ چھتیس گڑھ کے نائب وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ وجے شرما نے صوبائی اسمبلی میں انکشاف کیا کہ 2019 سے جون 2025 تک، صرف چھتیس گڑھ میں 177 بھارتی سکیورٹی اہلکاروں نے خودکشی کی۔ ان میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے 26، بارڈر سکیورٹی فورس کے 5، انڈو تبتن بارڈر پولیس کے 3 اور دیگر دستوں کے اہلکار شامل ہیں۔ اسی عرصے میں 18 اہلکار اپنے ساتھیوں کے قتل میں ملوث پائے گئے، جنہوں نے شدید ذہنی دباؤ کے تحت فائرنگ کر کے اپنے ساتھیوں کو ہلاک کیا۔ یہ اعدادوشمار بھارتی فوج میں گہرے نفسیاتی اور ادارہ جاتی بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔یہ اعدادوشمار وجے شرما نے بی جے پی کے رکن اسمبلی اجے چندرکار کے سوال کے جواب میں تحریری طور پر پیش کیے۔ مقبوضہ کشمیر، چھتیس گڑھ اور منی پور جیسے شورش زدہ علاقوں میں تعینات اہلکاروں میں خودکشیوں اور پرتشدد واقعات کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق، نکسل تحریک کے خلاف کارروائیوں میں بھارتی سکیورٹی فورسز نے 2005 سے اب تک ہزاروں بے گناہ قبائلیوں کو ماورائے عدالت قتل، جبری بے دخلی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا، جس نے اہلکاروں پر نفسیاتی دباؤ کو بڑھاوا دیا۔نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی سکیورٹی فورسز کے لیے ذہنی صحت کے مراکز یا کاؤنسلنگ سسٹم کا فقدان ہے۔ روزمرہ کے جان لیوا گشت، ہائی ٹینشن علاقوں میں تعیناتی، افسران کا ناروا سلوک اور ذاتی مسائل نے اہلکاروں کو خودکشی یا پرتشدد اقدامات کی طرف دھکیل دیا ہے۔ سیاسی مبصرین سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر بھارتی فورسز خود اتنی غیر مستحکم ہیں تو وہ حساس خطوں میں امن کیسے قائم کر سکتی ہیں؟ ان کی موجودہ حالت خود ایک سکیورٹی رسک بن چکی ہے، جس کا خمیازہ عام عوام اور قبائلی باشندوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔اگر صرف چھتیس گڑھ میں 177 اہلکار خودکشی کر چکے ہیں، تو مقبوضہ کشمیر، منی پور، تامل ناڈو، میزورام اور دیگر شورش زدہ ریاستوں میں مجموعی تعداد ناقابل تصور ہے۔ ہر سال درجنوں یا سیکڑوں بھارتی سکیورٹی اہلکار خودکشی کر رہے ہیں، جو مسلح افواج میں گہرے نفسیاتی اور ادارہ جاتی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث ہونے کے بعد پیدا ہونے والا احساس جرم بھی اس دباؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق، بھارتی فوج کا مورال شدید متاثر ہوا ہے، جو معرکہ حق میں پاکستانی افواج کے مقابلے میں اس کی کارکردگی سے واضح ہے۔ مودی سرکار کی پالیسیوں نے نہ صرف عام شہریوں بلکہ سکیورٹی فورسز کو بھی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ معاشی ناہمواری، بے روزگاری اور قرضوں نے بھارتی معاشرے کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔مودی کا ’گجرات ماڈل‘ اور ’وکنٹھ بھارت‘ کے وعدے صرف کاغذی نعروں تک محدود رہ گئے ہیں۔ گجرات، جو مودی کی ترقی کا ماڈل کہلاتا تھا، آج خودکشیوں اور غربت کی علامت بن چکا ہے۔ ویپل وگھیلا جیسے لاکھوں بھارتی شہری معاشی دباؤ اور بے روزگاری کی وجہ سے اپنی زندگیاں ختم کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، بھارتی سکیورٹی فورسز کی بدتر حالت حکومتی ناکامی کا ایک اور ثبوت ہے۔بھارتی معاشرے میں بڑھتی ہوئی خودکشیاں اور پرتشدد واقعات مودی سرکار کی معاشی اور انتظامی ناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ سرمایہ داروں کو مراعات اور عام شہریوں کو محرومی دینے والی پالیسیوں نے بھارت کو ایک ایسے بحران کی طرف دھکیل دیا ہے، جہاں نہ تو عوام کو معاشی تحفظ حاصل ہے اور نہ ہی سکیورٹی فورسز کو نفسیاتی استحکام۔ یہ صورتحال نہ صرف بھارت کے اندرونی حالات کو غیر مستحکم کر رہی ہے بلکہ خطے میں اس کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔