اگر کبھی کسی زندہ قوم کی نشانیوں کو شمار کرنا ہو تو فہرست میں کہیں نہ کہیں قومی وقار ضرور ہوگا اور اگر مردہ قوموں کی قبریں کھودنی ہوں تو وہاں سے شرمندگی، دہرا معیار اور منافقت کی ہڈیاں ہی برآمد ہوں گی۔ لیکن آج میں حیرت کے ایک نکتے پر کھڑا ہوں جہاں ہم جیسی بے زار قوم بھی کبھی کبھار سفارتی میدان میں بازی مار لیتی ہے۔یہ تحریر کوئی تعریف کا راگ نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے ۔ ایک آئینہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہم نے ایک کامیاب قرارداد پاس کرا کے پھر سے چادر اوڑھ کر سو جانے کی تیاری کر لی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم نے ایک عظیم الشان کامیابی کو محض خبری سرخی سمجھ کر فائلوں میں دفن کر دینا ہے؟
کثیرالجہتی اورتنازعات کے حل سے عالمی امن کے حوالے سے اقوام متحدہ میں مذاکرہ ہوا۔ نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مباحثے کی صدارت کی۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے تنازعات حل کے متعلق قرارداد پیش کی۔ سلامتی کونسل کے مذاکرہ کے شرکا نے تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کارکو موثر بنانے سے متعلق قرار داد متفقہ طور پرمنظور کرلی۔ واہ جی واہ۔ پہلی بار نہیں لیکن برسوں بعد ایسا ہوا کہ پاکستان کا وفد وہ بھی اسحاق ڈار جیسے خزانچی کی قیادت میں نہ صرف سفارت کے میدان میں اترا بلکہ سرخرو بھی ہوا۔
ذرا منظر دیکھیں توحالات کی سمجھ آ جاتی ہے۔ غزہ لہو لہو، کشمیر آتش فشاں، روس یوکرین خون میں لت پت، ایران اسرائیل کشمکش میں الجھے ہوئے اور ایسے میں پاکستان اقوامِ متحدہ میں ایک قرارداد پیش کرتا ہے کہ دنیا ہوش کے ناخن لے۔ جنگ کی نہیں امن کی بات کرے۔ کیا یہ معمولی بات ہے؟ ہرگز نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے یہ کارنامہ کسی سوچے سمجھے قومی بیانیے کے تحت کیا یا بس وقتی نمائش کے لیے؟اسحاق ڈار جو ہمارے ہاں ہمیشہ بجٹ اور قرضوں کی دنیا میں جانے جاتے ہیں یکایک عالمی سفارتکاری کے افق پر ایک ستارے کی طرح چمکنے لگے۔ ایک ایسا ستارہ جسے ہم نے ہمیشہ فائلوں، ٹیکس گوشواروں اور قرض کی اقساط میں الجھا پایا۔ لیکن داد دینی پڑے گی اس بار انہوں نے سفارت کے سٹیج پر ایک قابل فخر پرفارمنس دی۔
انہوں نے کشمیر کا مسئلہ چھیڑا۔ انہوں نے بھارت کی یکطرفہ آبی جارحیت کا پردہ چاک کیا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے دہرے معیار پر سوال اٹھایا۔ فلسطین میں بہتے خون کا نوحہ پڑھا اور سب سے بڑھ کر یہ کہا کہ حقِ خودارادیت کا کوئی متبادل نہیں۔
یہ باتیں سننے میں اچھی لگتی ہیں۔ بہت اچھی۔ لیکن جنابِ والا! سوال پھر وہی ہے کہ کیا ہماری یہ کامیاب سفارتکاری محض ایک وقتی شو ہے یا کسی جامع پالیسی کا حصہ؟
دیکھئے! دنیا نے ہمیں کئی مواقع دیئے۔ 1948 ء میں کشمیر سلامتی کونسل پہنچا لیکن ہم نے اس کو صرف ایک نعروں کی فائل میں بند رکھا۔ پھر فلسطین، افغانستان، بوسنیا، عراق، شام، یمن ہم ہمیشہ کاندھا دیتے رہے لیکن خود کبھی کندھے کی حیثیت حاصل نہ کر سکے۔آج اگر دنیا نے ہمارے ایک نکتے پر سر ہلا دیا ہے تو یہ لمحہ مسرت ضرور ہے مگر لمحہ فکریہ اس لیے بھی ہے کہ ہم کہیں پھر ماضی کی طرح اس کامیابی کو سیاسی سرمایہ داری کے لیے تو استعمال نہیں کر لیں گے؟
ایک اور پہلو دیکھیے۔ ہم خود اندر سے کتنے پرامن ہیں؟ ہمارے اپنے ہاں روز نفرت کی بھٹی میں قوم پکتی ہے۔ کبھی فرقہ واریت، کبھی لسانیت، کبھی سیاسی دشمنی کے نام پر سادہ لو لوگوں کو انقلاب کے نعرے دئیے جاتے ہیں۔ نئے پاکستان کے نام پر قوم کے بچے بچے کو تبدیلی کا لالی پاپ دے کر بدتمیز، بے ادب اور اخلاق باختہ بنایا جارہا ہے۔ انتہا پسند سوچ پر مشتمل نسل کو جوان کیا جا رہا ہے اور ملک کے امن و امان کو دائو پر لگایا جا رہا ہے۔ ہم اگر دنیا کو امن کا درس دے رہے ہیں تو کیا ہمارے اپنے اندر امن کی کوئی رمق ہے؟
دوسری طرف بھارت جیسا مکار دشمن سندھ طاس معاہدے کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ پانی روکنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور ہم دنیا کو کہہ رہے ہیں کہ آ بیٹھو، بات کرو۔سفارتکاری زبانی جمع خرچ سے نہیں ہوتی بلکہ قومی اتحاد، عسکری تیاری اور نظریاتی وضاحت سے ہوتی ہے۔
اس وقت ہمیں سفارتی کامیابی کے ساتھ ساتھ داخلی صف بندی کی بھی شدید ضرورت ہے۔ ایک طرف ہم عالمی سطح پر امن کے سفیر بنتے ہیں تو دوسری طرف ہمارے شہروں میں عوام سستا آٹا، بجلی اور گیس کو ترس رہے ہیں۔
اسحاق ڈار نے عالمی قانون، اقوامِ متحدہ کے چارٹر، ثالثی، اعتماد سازی اور پائیدار مذاکرات کا جو بیانیہ پیش کیا وہ یقینا قابل تحسین ہے۔ لیکن خدارا! اب یہ بیانیہ فائلوں کی زینت نہ بنے۔ اسے نصاب، میڈیا اور سفارتخانوں تک منتقل کیجئے۔ اسے قومی زبان میں عوام تک پہنچائیے تاکہ پوری قوم کو یہ احساس ہو کہ وہ کسی عالمی سوچ کا حصہ بن رہی ہے۔دنیا بدل رہی ہے۔ طاقت کی بنیاد اب محض ہتھیار نہیں بیانیہ ہے۔ اور ہم نے بھی اب بیانیے کی جنگ لڑنی ہے۔ کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ مسائل صرف گولی اور گالی سے نہیں، عالمی قانون سفارتکاری اور اندرونی استحکام سے حل ہوں گے۔
ہمیں اب یہ طے کرنا ہوگا کہ اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں قراردادیں پاس کرانے کے بعد ہم واپس اپنے روایتی غفلت کے خول میں لوٹ آئیں گے یا اس کو ایک مستقل سفارتی مہم میں ڈھالیں گے؟یاد رکھیے دنیا انہی کی سنتی ہے جو اپنے موقف پر استقامت سے قائم رہیں۔ اگر آج ہم نے دنیا کو امن کا پیغام دیا ہے تو کل ہمیں مظلوموں کی ڈھال بھی بننا ہوگا۔ فلسطین ہو یا کشمیر ہماری زبان پر امن ہو لیکن ہاتھ میں حق اور عدل کا علم بھی ہو۔
تو جناب! اس کالم کا حاصلِ کلام یہ ہے کہ اگر ہم نے اس سفارتی کامیابی کو سنبھال لیا تو یہ فقط ایک قرارداد نہیں بلکہ ایک نئے عالمی باب کی ابتدا ہوگی۔ ورنہ یہ بھی ایک خبر تھی جو کل پرانی ہو جائے گی۔فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ماضی کی حکومتوں کی طرح کیا ہم صرف قراردادیں جیت کر اصل میدان ہارتے رہیں گے ؟