اعجاز احمد چوہدری، عمر سرفراز چیمہ، ڈاکٹر یاسمین ارشد، میاں محمود الرشید، احمد چٹھہ، رانا بلال،ملک احمدبچر اور پی ٹی آئی کے دیگر 70 کارکنان کو دہشت گردی کے خلاف قائم دو عدالتوں نے دس دس سال قید بامشقت کی سزائیں سنائی ہیں۔ ایک لفظ ہوتا ہے سٹیئرو ٹائپ (Steoro Type) جس کا اردو زبان میں مطلب کیا جاسکتا ہے ’’ایک ہی ڈگر پر قائم‘‘ 9مئی واقعات پر درج شدہ تمام مقدمات کو ایک ہی ڈگر پر قائم مقدمات کہا جاسکتا ہے۔ یہ مقدمات نہ صرف بوگس تھے بلکہ ان کا ٹرائل بھی غیر منصفانہ اور غیر شفاف انداز میں ہوا۔ ان مقدمات میں گواہ پولیس کے حاضر سروس ملازمین ہیں، عدالتوں نے نہ صرف ان کی گواہی تسلیم کی بلکہ استغاثہ کی جھوٹی سچی تمام دلیلوں کو مان لیا۔
قاتل کی یہ دلیل منصف نے مان لی
مقتول خود گرا تھا خنجر کی نوک پر
پاکستان میں ہم نےاسی طرح کے فیصلے ہوتےدیکھےہیں،حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں تو مخالفین پر یونہی مقدمات قائم ہوتےہیں اورفیصلے بھی پراسیکیوٹر کےحسب منشاء آتے ہیں۔ ایک شعر زبان پر آرہا ہے۔
پھر وہی بات وہی قصہ پرانا نکلا
حاکم وقت سے منصف کا یارانہ نکلا
ارض پاکستان میں بہت کچھ بدلا ہے لیکن یہ روش نہیں بدلی۔ ماضی قریب میں نگاہ دوڑائیں تو ایک پیپلزپارٹی کا دور (2008-13) نظر آتا ہے جب پاکستان کی جیلوں میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا۔ یہ بات نہیں کہ اس دور میں احتجاج نہیں ہوا۔ عدلیہ بحالی تحریک اپنے جوبن پر تھی، میاں نواز شریف اس تحریک کو لیڈ کر رہے تھے۔ اس تحریک میں عمران خان راولپنڈی سے گرفتار ہوئےلیکن ان کو جلدرہا کردیاگیااوران سمیت کسی سیاسی شخصیت کو سیاسی انتقام کا نشانہ نہ بنایا گیا۔ طاہرالقادری کے ’’انقلابی مارچ‘‘ کو جمہوری رواداری کا مظاہرہ کرتےہوئے برداشت کیا گیا حالانکہ اس طرح کا دھرنا حکومتوں کے لئے ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ آج لیکن کیا ہو رہا ہے؟ تحریک انصاف کے کارکنان بدترین ریاستی جبر کا شکار ہیں اور پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) کے ساتھ برابر اس زیادتی میں قصوروار ہے۔
9مئی واقعات کو بہانہ بنا کر تحریک انصاف کے اکثر کارکنان پر بے بنیاد مقدمات قائم کئے گئے۔ پاکستان بھر میں مختلف تھانوں میں درج ہونے والے مقدمات سراسر غلط بیانی پر مبنی تھے۔ ان مقدمات میں بعدازاں نامعلوم افراد کے کھاتے میں بے گناہوں کو ملوث کیا گیا۔ میں بعض ایسے افراد کو ذاتی طور پرجانتا ہوں جن کا 9مئی کے واقعات سے دور دور تک تعلق نہ تھا لیکن وہ بےچارے بےگناہ جیل کاٹ کر آئے۔ راولپنڈی سے ایک کارکن ناصرخان تین ماہ جیل کاٹ کر آیا۔ اس نے مجھےحلف دےکرکہا کہ اسے خواہ مخواہ 9مئی کے دن ہونے والے ایک واقعے میں پھنسا دیا گیا ہےاوراس کی وجہ محلے کی سطح کی سیاسی مخالفت ہے۔ ناصر خان کسی مقدمے میں نامزد ملزم نہیں اسے ’’نامعلوم افراد‘‘ کے کھاتے میں ڈالا گیا ہے۔ یہ کہانی ہر دوسرے کارکن کی ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد، عمرسرفراز چیمہ اور اعجاز چوہدری کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے دیگر لوگوں کی طرح عمران خان کا ساتھ کیوں نہیں چھوڑا۔ یہ وہ احباب ہیں جو عمران خان کے اقتدار کے بینی فشری بھی نہیں تھے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد اگرچہ صوبائی وزیر تھیں لیکن ان کی جدوجہد اور پروفائل وزارت اعلیٰ کے منصب کا تھا۔ اعجاز چوہدری آخری سال سینیٹر بنے، عمر چیمہ تو سارا عرصہ اقتدار کی راہدریوں سے دور رہے۔ عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تو وزیراعظم عمران خان نے چوہدری سرور کی جگہ انہیں گورنر پنجاب لگا دیا۔ اگلے دو ماہ تحریک انصاف کی لڑائی پنجاب میں عمر سرفراز چیمہ نے خوب لڑی اور صحیح معنوں میں مسلم لیگ (ن) کو انہوں نے ٹف ٹائم دیا۔ عمر چیمہ اور اعجاز چوہدری جیسے لوگ ہی کسی سیاسی جماعت کا اصل اثاثہ ہوتے ہیں۔ اقتدار میں یہ لوگ پچھلی صفوں میں نظر آتے ہیں لیکن مصیبت کے وقت یہ پارٹیوں کا ہر اول دستہ بنتے ہیں، نظریات اور اصولوں پر کمپرومائز نہ کرنے والے۔ اعجاز چوہدری کی قید ابھی شروع ہوئی تھی کہ کسی صحافی نے سوال کیا آپ بھی پریس کانفرنس کرنے والے ہیں۔ اعجاز چوہدری کا جواب تھا عمران خان کا نظریہ لاالہ الااللہ ہے اور میں اس نظرئیے کے ساتھ کھڑا رہوں گا۔
ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر چیمہ جیسے قائدین ضمیر کے قیدی ہیں انہوں نے جرات و استقامت سے قید کاٹ کر اس داغ کو دھو دیا ہے جو تحریک انصاف کی بھگوڑی قیادت کی وجہ سے عمران خان اور تحریک انصاف کے دامن پر لگا۔ ثابت ہوا کہ ہر جماعت میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نظریات پر کاربند رہ کر اپنی جماعت کے ساتھ وفاکرتے ہیں اور اس ضمن میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔ شاہ محمود قریشی بھی وفاداروں کے اس قافلے کے سالار ہیں۔ وہ اگرچہ 9مئی کے اس مقدمے میں بری ہوئےہیں لیکن انہیں ناحق دیگر مقدمات میں پھنسایا گیا ہے تاکہ پی ٹی آئی عمران خان کی غیر موجودگی میں شاہ محمود قریشی جیسے بڑے رہنما کی قیادت سے محروم رہے۔ شاہ محمود پارٹی کی قیادت کر رہےہوتے تو تحریک انصاف میں انتشار اور افراتفری کی بجائے یگانگت دکھائی دیتی۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہےکہ عمران خان کی عدم موجودگی میں تحریک انصاف کو ایک بڑے سیاسی قدکاٹھ کی حامل قیادت کی اشد ضرورت ہے جو پارٹی کو ان مشکل حالات سے نکالنے کی تدبیر کر سکے۔ شاہ محمود قریشی جیسا مدبر شخص اس قیادت کے خلا کو بھر سکتا ہے۔