ہم تاریخ سے سیکھنے کے دعویدار ہیں مگر سبق یاد رکھنے کی سکت ہم میں نہیں۔ ہماری اجتماعی یادداشت کی مدت بس اتنی ہے جتنی کسی اسمارٹ فون کی بیٹری ۔ ذرا سا جھٹکا اور سب ڈیٹا اڑن چھو! ہم آج بھی ویسی ہی سادہ لوحی ویسا ہی جوش، ویسی ہی غلط فہمیاں لیے مستقبل کے انہی گڑھوں میں گر رہے ہیں جہاں ماضی کی لاشیں دفن ہیں۔
یہ جو آج کل دو خوبرو نوجوان قاسم اور سلیمان امریکی سرزمین پر دورے کر رہے ہیں انہیں صرف عمران خان کے بیٹے نہ سمجھیے۔ یہ دراصل ایک فکری منصوبے کے نئے چہرے ہیں۔ وہ منصوبہ جو نیو ورلڈ آرڈر کے ایجنڈے پر آہستہ آہستہ مگر مہارت سے تشکیل دیا جا رہا ہے۔ ایک ایسا ایجنڈا جس میں پاکستان محض ایک بفر زون ہو، ایک نوآبادیاتی تجربہ گاہ جہاں مشرق کی روح مغرب کے سانچے میں ڈھالی جائے۔قاسم اور سلیمان ان ناموں میں اسلامی تاریخ کی عظمت کی جھلک ہے۔ ایک قاسم جس نے سندھ کے دروازے کھولے دوسرا سلیمان جس کا تذکرہ قرآن پاک کی آیات میں ہے۔ لیکن یہاں یہ نام محض علامت ہیں اندر سے وہی مغربی شناخت وہی لبرل اقدار وہی صہیونی تربیت۔
جن ماں باپ کے ہاتھوں میں قوم کی نظریاتی باگ ڈور ہو ان کے بچوں کی تربیت محض ایک خاندانی معاملہ نہیں بلکہ ایک قومی و تہذیبی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو والد ریاست مدینہ کی بات کرے وہ اپنے بچوں کو کس ریاست کی طرف لے جا رہا ہے؟ مدینہ یا امریکہ؟
جمائما ایک ایسا نام جو پاکستانی سیاست کا صہیونی دروازہ ہے۔ ایک مغربی گولڈ اسمتھ کی بیٹی جو کبھی کھلے عام اسرائیل کی حمایت میں بیانات دیتی ہے اور کبھی اسلاموفوبیا پر مبنی فلم پروڈیوس کرتی ہے۔اب اس کے زیر سایہ پروان چڑھنے والے بچے کس نظریاتی بنیاد پر کھڑے ہوں گے؟
ان کی ماں کی گود میں کہانیوں کا آغاز ہوتا ہے اور ماموں زیک گولڈ سمتھ جیسے اسرائیل نواز سیاستدان کی نگرانی میں وہ مکمل ہوتا ہے۔ یہ ایک سادہ خانگی معاملہ نہیں بلکہ تہذیبی انجینئرنگ کی وہ باریک کاریگری ہے جس کے نتائج کئی دہائیوں بعد سامنے آتے ہیں مگر تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
جمائما اور زیک کا تعلق محض خاندانی نہیں بلکہ فکری ہم آہنگی کا اتحاد ہے۔ ان کا مشترکہ مشن مغرب کے اس نظریے کو پروان چڑھانا ہے جس میں مشرق کی شناخت مٹتی چلی جائے۔ اسلامی دنیا صرف ایک امہ نہیں بلکہ مغربی بلاک کا تابع کلچر بن جائے۔
جب بھارت اسرائیلی ڈرون “Heron” اور “Harop” کو لائن آف کنٹرول پر استعمال کرتا ہے تو یہ حملہ صرف فوجی لحاظ سے نہیں بلکہ فکری طور پر بھی ایک پیغام ہے۔ Heron اور Harop ڈرونز خاموش ہوتے ہیں، بغیر پائلٹ کے اڑتے ہیں، نظر نہیں آتے ۔ بالکل ویسا ہی جیسا قاسم اور سلیمان کا مغربی بیانیہ۔ نہ شور، نہ ہنگامہ بس خاموشی سے نظریات پر وار!
کبھی سوشل میڈیا پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف پوسٹیں، کبھی مغربی تھنک ٹینکس میں لیکچرز، کبھی لبرل اور قادیانی نیٹ ورکس سے ملاقاتیں ۔ یہ سب صرف روابط نہیں بلکہ نظریاتی حملے ہیں۔
ان نوجوانوں کی ہر سرگرمی ایک ’’ڈرون اسٹرائیک‘‘ ہے ۔ کسی فوجی چوکی پر نہیں بلکہ قومی نظریے، خودی، غیرت اور اسلامی شعور پر۔ہم جنس پرستی اور قادیانیت کے ملاپ پر نطر ڈالئے تو قاسم اور سلیمان کی امریکہ میں ملاقاتیں ایک خطرناک اتحاد کو بے نقاب کرتی ہیں ۔ رچرڈ گرینیل جیسے ہم جنس پرست لابی کار اور ڈاکٹر آصف محمود جیسے قادیانی عہدیدار۔ یہ لوگ صرف ملاقاتیں نہیں کرتے بلکہ ذہنوں کی ری پروگرامنگ کرتے ہیں۔
کیا یہ محض اتفاق ہے کہ مغربی دنیا میں ہم جنس پرستی اور قادیانیت دونوں تحریکیں ایک ہی سمت میں کام کر رہی ہیں؟ دونوں کا مشترکہ ہدف؟ اسلامی معاشرت کا ڈھانچہ توڑنا۔اسلام نے دونوں نظریات کو فطرت اور ایمان کے خلاف قرار دیا لیکن انہی نظریات کو اب ترقی، رواداری اور انسانی حقوق کے چمکدار لیبل کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے اور قاسم و سلیمان کو ان کا برانڈ ایمبیسیڈر بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اپنے سزا یافتہ باپ کو جیل سے رہا کروانے کے لئے ہم جنس پرستی اور قادیانیت سے مدد مانگنے کا مطلب اتنا پیچیدہ بھی نہیں کہ پاکستانی قوم کو سمجھ ہی نہ آ سکے۔ بڑا واضع اور شفاف اشارہ ہے کہ انکی مرکزیت کن کاموں اور نظرئیے کے درمیان ہے۔
سلطنتِ عثمانیہ اور ہمارے آئینے ۔۔۔کبھی سنا ہے کہ سلطان عبدالمجید کا بیٹا لندن میں اپنی محبوبہ کے ساتھ تصویریں بنوا رہا ہو؟ یا سلطان عبدالحمید کا بھتیجا فری میسن لاجز کے اجلاس میں شریک ہو؟ نہیں نا؟ کیونکہ جب خلافت بچانی ہو تو پہلا قلعہ خاندان ہوتا ہے۔مگر جب خلافت گرانی ہو تو سب سے پہلے اسی خاندان کو مغرب کی تہذیبی بھٹی میں ڈالا جاتا ہے۔ عثمانی خلافت کے زوال کی داستان میں بھی یہی سبق ہے۔ ہمارے ہاں بھی اب وہی سکرپٹ دہرایا جا رہا ہے۔ مغربی تعلیم، لبرل ماحول، سیکولر رابطے اور پھر نعرہ: ہم قائدِاعظم کا پاکستان چاہتے ہیں!
حالانکہ اصل میں یہ ماڈل’’نیتن یاہو کا تل ابیب‘‘ ہے۔عمران خان کو جب تاریخ میں لکھا جائے گا تو ایک پیراگراف ضرور ہوگا۔کہ ایک ایسا شخص جس نے اقوامِ متحدہ میں اسلاموفوبیا کے خلاف بات کی ہو مگر اپنے بیٹوں کو ایسے ماحول میں پروان چڑھایا جہاں اسلام صرف ایک تہذیبی دیوار سے ٹکرانے کا نام تھا۔ یہ تضاد اس قوم کو کھا رہا ہے۔ بیانیہ کچھ اور عمل کچھ اور۔ ریاستِ مدینہ کی بات کرنے والے کے بچے کیلیفورنیا ، لاس اینجلس اور نیو یارک میں ان سے ملاقات کر رہے ہیں جو مسجد اقصی کے قاتلوں کے حامی ہیں۔
اسلام اور پیارے آقا خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے بد ترین دشمن قادیانی لیڈروں سے ملاقاتیں کیا ثابت کرتی ہیں ؟ کیا یہ حادثہ ہے؟ یا وہی پرانا فارمولا کہ نئی قیادت ایسے گھرانوں سے پیدا کی جائے جو پہلے ہی مغرب کے فکری غلام ہوں؟یہ تحریر کسی پارٹی کسی شخصیت یا کسی خاندان کی مخالفت میں نہیں بلکہ اس اجتماعی غفلت کے خلاف ہے جس نے ہمیں تماش بین قوم بنا دیا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اب دشمن توپ سے نہیں ٹوئیٹ سے حملہ آور ہوتا ہے۔ اب وار سرحد پر نہیں دماغ میں ہوتا ہے۔ اب نشان کسی ادارے کا ہیڈکوارٹر نہیں آپ کے بچوں کی تربیت ہے۔
قاسم اور سلیمان اگر آج نہ روکے گئے، اگر ان کے بیانیے کو چیلنج نہ کیا گیا تو وہ کل صرف عمران خان کے وارث نہیں ہوں گے وہ پاکستان کے مستقبل کی تشکیل کرنے والوں میں بھی شامل ہوں گے۔ اور وہ تشکیل کیا ہوگی؟ ریاستِ مدینہ؟ یا نیو ورلڈ آرڈر کا سب آفس؟فیصلہ آپ کا ہے۔ مگر یاد رکھیے وقت صرف ایک بار مہلت دیتا ہے بار بار نہیں!