بھارتی حکمرانوں نے اہل کشمیر کو بھی زیر کرنے کیلئے تمام حربے اور ہتھکنڈے آزمائے،مگر ذلت ورسوائی اور ناکامی کے سوا انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا ۔جب ایک قوم اپنی آزادی اور بقا کی جنگ لڑنے کا تہیہ کرچکی ہو۔اس قوم کو پھر ایک نہیں سو مودی بھی نہیں ہراسکتے ۔اہل کشمیر اپنی قربانیوں کو نہ ماضی میں بھولے،نہ آج بھولتے ہیں ا ور نہ ہی مستقبل میں اس کا کوئی امکان ہے۔یہ قربانیاں اہل کشمیر کے ہر فرد کیلئے مشعل راہ ہیں ۔ قوموں کی تواریخ میں سینکڑوں برس بھی آزادی کے حصول کیلئے جدوجہد میں صرف اور مثالیں موجود ہیں۔قیادت کو پابہ زندان بھی رکھا جاچکا ہے۔ثابت قدمی اور صبر و استقامت نے ہمیشہ انہی اقوام اور قیادت کو درست ٹھہرایا ہے،جو اپنے نصب العین کیساتھ چٹان کی مانند وابستہ رہے۔ جس کا عملی مظاہر ہ سید علی گیلانی نے کیا،تو کبھی محمد اشرف صحرائی ان کی عملی میراث کے مصداق ٹھہرے۔آج شبیر احمد شاہ اور ان کے دوسرے احباب بھی مودی کے اعصاب پر مکمل طور پر سوار آنے والی نسلوں کیلئے عزم و ہمت کی تاریخ چھوڑ کر جارہے ہیں۔ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے اہل کشمیر کی جدوجہد میں قیادت اور نمائندگی کرنے والے رہنمائوں کو ایک کے بعد ایک راستے سے ہٹانے کے منصوبے پر بڑی سرعت کیساتھ عملدرآمد جاری ہے۔
پانچ اگست 2019 ء میں مودی نے مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کی تو اسے قبل ہی تمام آزادی پسند رہنمائوں کو گرفتار کرکے انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر اور بھارت کی دور دراز جیلوں میں قید کیا گیا،جہاں وہ تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔حالانکہ بھارت نظر بندوں سے متعلق جنیوا کنونشن پر دستخط کرنے والے ممالک میں شامل ہیں،جس کی موجودگی میں وہ نظر بندوں کو جیل مینوئل کے مطابق سہولیات فراہم کرنے کا پابند ہے ،مگر بھارت جو خود کو دنیا کی سب بڑی جمہوریت کا دعوی کرتا ہے،جمہوری قدروں سے کوسوں دور ہے ،خاص کر جب بات مقبوضہ جموں وکشمیر اور اہل کشمیر کی ہو۔بھارت سب کچھ بھول جاتا ہے ۔سب سے پہلے غلام محمد بٹ ساکن کولنگام ہندواڑہ دسمبر 2019 ء میں بھارتی ریاست اترپردیش کی پراگیہ راج نینی تال جیل میں طویل عرصے تک طبی امداد سے محرومی کے نتیجے میں جام شہادت نوش کرگئے۔انہیں جولائی 2019 ء میں بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر کے پہلے سرینگر سینٹرل جیل منتقل کیا گیا تھا، بعدازاں انہیں مقبوضہ وادی کشمیر سے باہر بھارتی ریاست اترپردیش لیجانے کا فیصلہ بھارتی وزارت داخلہ نے کیا۔ غلام محمد بٹ کے گھروالوں کو ان کے علیل ہونے سے بے خبر رکھا گیا اور پھر اچانک 12 دسمبر 2019 ء میں جیل حکام نے اہلخانہ کو ان کی وفات کی خبر سنادی۔شہید بٹ کا تعلق جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر سے تھا۔معاملہ غلام محمد بٹ کی شہادت تک ہی محدود نہیں رہا ،بلکہ تحریک آزادی کشمیر کے ایک قدر آور رہنما اور اپنے لخت جگر بیٹے سمیت کئی شہدا کے وارث محمد اشرف صحرائی بھی 05مئی 2021 میں جموں کی کوٹ بھلوال جیل میں ایک برس تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد خالق حقیقی سے جاملے۔انہیں اس وقت ہسپتال منتقل کیا گیا تھا ،جب ان کی جان میں سانسیں باقی نہیں رہی تھیں۔اس پر مستزاد یہ کہ جناب صحرائی کی میت رات کے اندھیروں میں ان کے آبائی علاقہ لولاب پہنچائی گئی اور گھروالوں کو بندوق کے بل پر خاموشی سے ان کی تدفین کرنے پر مجبور کیا گیا۔
یاد رہے کہ 77 برس کے جناب محمد اشرف صحرائی کے بیٹے جنید صحرائی نے معاشیات کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کرلی تھی اور پھر جام شہادت نوش کرگئے تھے۔ بیٹے کی شہادت کے فورا بعد جولائی 2021ء میں محمد اشرف خان صحرائی کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت قید کیا گیا تھا۔وہ تقریبا نصف صدی تک جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کیساتھ وابستہ رہے اور تحریک آزادی کے بطل حریت سید علی گیلانی کے دست راست تھے۔
(جاری ہے )