Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

فیلڈ مارشل کا مشن بیجنگ

کبھی کبھی تاریخ خاموشی سے اپنے فیصلے سنا دیتی ہے۔ نہ ڈھول پیٹے جاتے ہیں نہ بین بجائی جاتی ہے۔ مگر وہ لمحے تاریخ کے تاج پر اپنی مہر چھوڑ جاتے ہیں۔ کچھ ایسے ہی لمحات حال ہی میں بیجنگ کی خاموش اور پروقار فضائوں میں ظہور پذیر ہوئے جب پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل سید عاصم منیر چین کے اعلیٰ ترین عسکری و سیاسی رہنمائوں سے ملاقات کے لیے پہنچے۔دھیرے دھیرے لیکن یقین کے ساتھ پاکستان اور چین کے تعلقات اس نہج پر پہنچ رہے ہیں جہاں الفاظ کم پڑ جاتے ہیں اور صرف عمل باقی رہتا ہے۔ بیجنگ میں پیش کیا جانے والا گارڈ آف آنر محض رسمی کارروائی نہیں تھی یہ دو دوست ممالک کی اس غیرمتزلزل رفاقت کا استعارہ تھا جو موسموں کی تبدیلی سے متاثر نہیں ہوتی۔ یہ تعلق سیاسی مصلحتوں یا وقتی ضرورتوں کا مرہونِ منت نہیں بلکہ ایک گہری، دیرپا اور آزمودہ دوستی کا مظہر ہے جو ہر آزمائش میں سرخرو ہوئی۔
یہ کوئی معمولی دورہ نہیں تھا۔ چین کے نائب صدر ہان ژینگ، وزیر خارجہ وانگ ژی اور مرکزی فوجی کمیشن کے نائب چیئرمین جنرل ژانگ یو ژیا سمیت چین کی اعلیٰ قیادت سے ہونے والی ملاقاتیں اس امر کی غماز تھیں کہ بیجنگ پاکستان کو صرف ایک اتحادی نہیں بلکہ خطے میں توازن کی علامت سمجھتا ہے۔ جب دو قومیں ایک دوسرے پر اعتماد کا ہار پہنا دیتی ہیں تو یہ محض سفارتی مسکراہٹوں کا تبادلہ نہیں ہوتا بلکہ ایک مشترکہ خواب کی تعبیر کا آغاز ہوتا ہے۔بیجنگ کے ان بامعنی لمحات میں بات صرف علاقائی سلامتی کی نہیں ہوئی نہ صرف CPEC کی راہداریوں کا تذکرہ تھا بلکہ بین الاقوامی سیاست کی نئی بساط پر پاکستان کے کردار کی بازگشت بھی سنائی دی۔ چین نے پاکستان کی افواج کو نہ صرف جنوبی ایشیا میں استحکام کی علامت قرار دیا بلکہ دہشت گردی کے خلاف ان کی قربانیوں کو بھی سراہا۔ یہ وہ اعتراف ہے جو دوستوں سے ہی نہیں دشمنوں سے بھی سنائی دیتا ہے۔
جنرل ژانگ یو ژیا، جنرل چن ہوئی اور لیفٹیننٹ جنرل چائی زائی جن جیسے چین کے عسکری نابغے جب فیلڈ مارشل عاصم منیر سے دفاعی اشتراک، انسدادِ دہشت گردی، مشترکہ مشقوں اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کے تبادلے پر گفتگو کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اب یہ شراکت صرف دوستی نہیں بلکہ اس سے آگے کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ یہ اسٹریٹجک تعاون محض سیمیناروں اور اعلامیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ میدانِ عمل میں ایک حقیقی تزویراتی رشتہ بن چکا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک ایسا نام جو خاموشی سے حرکت کرتا ہے لیکن اس کی موجودگی دشمن کے لیے اضطراب اور دوستوں کے لیے اعتماد کا باعث بنتی ہے۔ ان کا طرزِ عمل بتاتا ہے کہ وہ الفاظ سے زیادہ اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا یہ دورہ اس وقت ہوا جب عالمی بساط پر اسرائیل، بھارت اور دیگر مغربی قوتیں خطے میں عدم استحکام کی سازشیں کر رہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان اور چین کا قریب آنا صرف سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک طاقتور پیغام ہے کہ ہم ایک ہیں اور ہم تیار ہیں۔
یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ چین دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو ہو یا CPEC یہ خواب اب صرف معاشی ترقی کا خاکہ نہیں بلکہ علاقائی خودمختاری اور استحکام کا ضامن بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان اس خواب کا مرکزی ستون ہے اور جب چین، پاکستان کی عسکری قیادت کو اپنا بھروسا مند شریک قرار دیتا ہے تو دنیا کو یہ پیغام بھی جاتا ہے کہ پاکستان اب صرف ایک ریاست نہیں بلکہ ایک تزویراتی مرکز بن چکا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس دورے میں واضح کیا کہ پاکستان نہ صرف چین کے ساتھ عسکری تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے بلکہ ہر اس محاذ پر اشتراک چاہتا ہے جہاں خطے کی خودمختاری، امن اور ترقی کا معاملہ ہو۔ انہوں نے چین کی مستقل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور یہ عندیہ دیا کہ آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان نہ صرف اشتراک بلکہ انضمام کی سی کیفیت ہو گی ۔ ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو سمجھنا مشترکہ مشقیں کرنا اور ہائبرڈ و ٹیکنالوجی وارفیئر میں قدم سے قدم ملا کر چلنا۔
دوسری جانب چین نے بھی پاکستان کے کردار کو ایک ریجنل بیلینسر کے طور پر تسلیم کیا۔ بھارت کی طرف سے سرحدی جارحیت ہو، افغانستان سے ابھرتے خطرات یا عالمی طاقتوں کی سرد جنگ چین سمجھتا ہے کہ پاکستان ہی وہ طاقت ہے جو ان خطرات کو روایتی و غیر روایتی دونوں محاذوں پر قابو پا سکتا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بھارت خطے میں چین اور پاکستان کے گٹھ جوڑ سے خائف ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح پاکستان کو عالمی تنہائی میں دھکیلا جائے،CPEC کو متنازع بنایا جائے، اور چین کو دفاعی طور پر الجھایا جائے۔ مگر جو لوگ تاریخ کو سمجھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ایسی سازشیں کاغذی شیر ہوا کرتی ہیں اور زمینی حقائق اپنی قوت سے لکھا کرتے ہیں۔
چین اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری ہم آہنگی، دراصل اس عالمی توازن کی نوید ہے جہاں ایشیا، اپنے فیصلے خود کرے گا۔ جہاں مغرب کا سامراجی رویہ اب موثر نہیں رہے گا اور جہاں مسلمانوں کی واحد ایٹمی قوت چین جیسے دوست کے ساتھ کھڑی ہو گی ۔ دوستی کی بنیاد صرف مفاد پر نہیں بلکہ عزت اعتماد اور مشترکہ خوابوں پر ہو گی۔
پاکستان اور چین کی آزمودہ اور گہری دوستی عالمی طاقتوں خصوصاً امریکہ کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ ایسے میں اس دوطرفہ تعلق کو عالمی تنقید سے ماورا رکھنا نہ صرف حکومتِ وقت کے لیے بلکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے لیے بھی ایک غیر معمولی سفارتی چیلنج ہے جو فہم و تدبر اور حکمتِ عملی کا متقاضی ہے۔اسلام آباد سے بیجنگ تک سپہ سالار کا حالیہ دورہ بھی ایسا ہی ایک تدبیری سفر ہے جو نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک نئی جان ڈال رہا ہے، بلکہ مشرقی بلاک میں پاکستان کی عسکری اور سفارتی مرکزیت کو مضبوط بنیاد فراہم کر رہا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ مشرقی مشن اس وقت وقوع پذیر ہوا ہے جب عالمی سطح پر طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ چین، روس، ایران اور اب وسطی ایشیائی ریاستیں ایک نئے دفاعی و اقتصادی اتحاد کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ اس دعا کے ساتھ کہ یہ فولادی دوستی وقت کے ہر طوفان میں مزید مضبوط ہو اور ہمارے رہنما اسی عزم، وقار اور تدبر کے ساتھ اپنی ذمے داریاں نبھاتے رہیں۔

یہ بھی پڑھیں