کہنے کو وہی تھا جسے برسوں سے اسٹرٹیجک پارٹنر کہا جاتا رہا۔ جس کے ساتھ جلسوں میں ہاتھ تھام کر نعرے لگائے گئے جس کے لیے دلی کی سڑکیں سجائی گئیں اور جس کے نام پر ہندوستانی غرور کا مینار کھڑا کیا گیا۔مگر جب وقت آیا اسی رفیقِ محفل نے محفل کے بیچوں بیچ رسوا کر دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی روایتی بے نیازی سے وہ سچ بول دیا کہ بس بھارت کا پورا جنگی بیانیہ دھڑام سے زمین بوس ہو گیا۔
رفیقِ محفل نے رسوا کر دیا
وقتِ وعدہ پھر تماشا کر دیا
ہم سمجھتے تھے اسے دل کا سکوں
اس نے تو دل کا بھی سودا کر دیا
تھا جسے ہم نے دعا سمجھا ہوا
اس نے ہم پہ ہی تقاضا کر دیا
جب قومیں دھوکہ کھا کر تالیاں بجاتی ہیں تب وہی مذاق ان کے مقدر پر ثبت ہو جاتا ہے۔ نریندر مودی کا مقدر آج کل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زبان کے سپرد ہے۔ عجیب تماشا ہے۔ ہندوستان میں ماتم برپا ہے اور امریکہ سے ہر دوسرے دن ٹرمپ کی طرف سے ایک نیا تعزیتی بیان آ جاتا ہے جو دراصل بھارت کے زخموں پر نمک چھڑکنے سے کم نہیں ہوتا۔
جب سے 2025 ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے مودی سرکار کے غرور کو ریت کی دیوار کی طرح مسمار کیا ہے تب سے مودی کو نہ دن کا چین ہے نہ رات کا سکون۔ ٹرمپ صاحب کبھی کہتے ہیں کہ بھارت کو جنگ بندی پر آمادہ کیا گیا، کبھی فرماتے ہیں کہ پاکستانی فضائیہ نے زبردست کارکردگی دکھائی۔ کبھی ان کے منہ سے یہ نکلتا ہے کہ بھارتی رافیل طیارے گرا دیے گئے اور کبھی کہتے ہیں کہ مودی جنگ شروع کرکے خود پسپا ہو گیا۔ یہ سب کچھ تو مودی کی خاکستر عزت پر بجلیاں گرا رہا ہے۔
مکار، بزدل اور فریب کا پجاری مودی جس نے اپنے میڈیا کو یرغمال بنا کر جنگ کو بھی ایک انتخابی مہم میں تبدیل کرنا چاہا اب اپنی ہی چالوں میں پھنس گیا ہے۔ اس کے جھوٹ کے محل زمیں بوس ہو رہے ہیں۔ بھارت کی لوک سبھا آج کل میدان جنگ بنی ہوئی ہے جہاں ٹرمپ کے بیانات کو جھنڈا بنا کر اپوزیشن مودی کی اینٹ سے اینٹ بجا رہی ہے۔ راہول گاندھی جسے کبھی مودی نے پپو کہہ کر طنز کا نشانہ بنایا تھا آج اسی ایوان میں للکار رہا ہے کہ اگر مودی میں ذرہ برابر غیرت ہے تو کھڑے ہو کر کہہ دے کہ ٹرمپ جھوٹ بول رہا ہے۔ مگر مودی جو خود جھوٹ کا پیکر ہے یہ جرات کہاں سے لائے؟
راہول گاندھی کا خطاب لوک سبھا کے ایوان میں گویا عوام کے دل کی آواز بن گیا۔ راہول نے کہا مودی جی! اگر آپ میں اندرا گاندھی جیسی جرات ہوتی تو کہتے کہ بھارت نے جنگ بندی نہیں کی، بھارت کے طیارے نہیں گرے اور امریکہ کا صدر جھوٹ بول رہا ہے مگر آپ تو اس اعتراف سے بھی ڈرتے ہیں کہ پاکستان نے آپ کے غرور کا جنازہ نکالا۔
ادھر پنجاب سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ امریندر سنگھ نے تو کمال ہی کر دیا۔ انہوں نے نہ صرف بھارتی فضائیہ کے ناکام آپریشن کا پول کھولا بلکہ رافیل طیارے کا ملبہ دکھا کر مودی حکومت کے منہ پرطمانچہ مارا۔ انہوں نےبتایا کہ بھٹنڈہ کے قریب بھسیانہ ایئرفورس اسٹیشن کے نزدیک ایک رافیل طیارے کا دم زمین پر آ گرا جس پر “BS-001” درج تھا۔ یعنی یہ وہی رافیل تھا جس کی نمائش کر کے بھارتی میڈیا نے اسے گیم چینجر قرار دیا تھا۔اب مودی کے پاس کہنے کو کچھ بچا نہیں۔ ایک طرف ان کے فوجی افسران ایک ایک کر کے مان رہے ہیں کہ پاکستان نے ان کے سات جنگی طیارے مار گرائے دوسری طرف بھارتی میڈیا کی جھوٹی بڑھکوں کی قلعی خود ان کے ہی پارلیمنٹیرینز کھول رہے ہیں۔ مودی کے بزدلانہ دعوے جیسے آپریشن سندور ابھی جاری ہے اب محض ایک سیاسی بہانہ بن چکے ہیں تاکہ عوام کی توجہ شکست کی اصل کہانی سے ہٹائی جا سکے۔
اور صدر ٹرمپ توجیسے مودی کی سیاسی قبر پر ہر دوسرے دن پھول چڑھانے آتے ہیں۔ کبھی پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ بھارت نے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی کیونکہ ان کا نقصان زیادہ ہو رہا تھا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ٹرمپ کو مودی پر اعتبارکبھی تھا ہی نہیں۔ ان کے تعلقات کا سارا ناتا صرف اسلحے کے سودے اور اسٹریٹجک معاہدوں تک محدود تھاجن میں مودی نے بھارتی خزانے کو خوب نچوڑ کر امریکہ کے قدموں میں ڈال دیا۔ مودی کے تمام خواب چکناچور ہو گئے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ آپریشن سندور کے تحت چندفضائی حملےکرکے پاکستانی عوام کو خوفزدہ کردے گا۔ الیکشن میں کامیابی حاصل کرے گااوردنیا میں اپنی طاقت کا ڈھنڈورا پیٹے گا۔ مگر ہوا اس کے برعکس۔ پاکستانی شاہینوں نے فضا میں دشمن کے غرور کو چھلنی کر دیا۔ اس کے رافیل جو فرانس سے اربوں ڈالر میں خریدے گئے تھے پاکستانی جے- سی کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔
آج بھارتی عوام سوال پوچھ رہی ہے۔ ان کے بچے مارے گئے ان کے فوجی لاشیں بن کر واپس آئے ان کے جہازوں کے پرزے گلیوں میں بکھر گئے اور مودی اب بھی فتح کا ڈھونگ رچا رہا ہے۔ لیکن وہ وقت گزر گیا جب قومیں جذباتی نعروں سے بہل جایا کرتی تھیں۔ اب سوشل میڈیا، آزاد تجزیہ نگار اور عالمی ذرائع ابلاغ سب کچھ کھول کر رکھ دیتے ہیں۔مودی کے جھوٹ کا پردہ چاک ہوچکا ہے۔ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں، سچ، حکمت اور قومی یکجہتی بھی دشمن کے ایوانوں میں زلزلہ برپا کرتی ہے۔ پاکستان نے یہی کیا۔ اس بار ہم نے جنگ صرف سرحد پر نہیں لڑی بلکہ دنیا کے ہر فورم پر بھارتی جھوٹ اور فریب کا مقابلہ کیا۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج ٹرمپ کا ہر بیان مودی کے لیے نیا زخم لے کر آتا ہے۔
کیا یہ وہی مودی نہیں تھا جو دنیا کے سامنے خود کو لال قلعے کا شیر سمجھتا تھا؟ اور آج وہی مودی اپنی پارلیمنٹ میں ایک بزدل،جھوٹا اورشکست خوردہ حکمران کی صورت کھڑا ہے۔ یہ تقدیر کا انتقام نہیں تو اور کیا ہے؟ یہ اس قوم کا صلہ ہے جو جھوٹ، انتہا پسندی اور اقلیت دشمنی کو اپنا مذہب بنا چکی تھی۔