یاایبسولیوٹلی ناٹ سے برائے مہربانی امریکہ تکیہ دنیا عبرت کا گھر ہے۔ یہاں ہر نعرہ ہر دعوی ہر للکار وقت کی چھلنی سے گزرتا ہے۔ کوئی سچ ثابت ہوتا ہے تو کوئی رسوائی کی علامت بن جاتا ہے۔ اور یہ جو سیاست ہے اس میں نعرے صرف زبان سے نہیں لگائے جاتے کردار سے گواہی دینی پڑتی ہے۔ مگر کردار ہو تو سہی۔ابھی کل کی بات ہے جب ایک شخص پورے اعتماد سے مائیک پر جھکا اور قوم سے مخاطب ہو کر کہا: ہم کوئی غلام ہیں؟ اور پھر اسی لہجے میں دنیا کو چیلنج کیا “Absolutely Not!”۔ یہ نعرہ مقبول ہوا۔ لاکھوں نے اسے دل پر لکھ لیا۔ نوجوانوں نے اسے بینرز پر سجایا اور عمران خان مسیحا بن کر ابھرا وہ مسیحا جو پاکستان کو امریکی غلامی سے آزاد کروائے گا۔ لیکن تقدیر کا مذاق دیکھیے آج اسی شخص کا بیٹا امریکی ٹی وی پر بیٹھا ہے اور کہہ رہا ہے ہم اس وقت صرف امریکہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، ہمیں لگتا ہے کہ یہی واحد راستہ ہے۔۔یہ تضاد نہیں سانحہ ہے۔ ایک شخص پوری قوم کو خودداری اور خود انحصاری کا جھوتا درس دیتا رہا اور اس کا بیٹا اس کے لئے امریکہ سے رہائی مانگ رہا ہے۔
باپ اگر قید میں ہے تو بیٹا ہاتھ پھیلا رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بیٹا باپ کے لیے پریشان کیوں ہے سوال یہ ہے کہ یہ سفر ’’ایبسولیوٹلی ناٹ‘‘ سے ’’برائے مہربانی امریکہ‘‘تک کیسے طے ہوا؟قوم کو ایک خواب دکھایا گیا تھا ۔ خودمختاری کا، وقار کا، حقیقی آزادی کا۔ گھنٹوں کی تقاریر، جلسوں کے طوفان، جذبات سے لبریز ویڈیوز سب کچھ اس پیغام کے گرد گھومتا تھا کہ اب پاکستان کسی کے دبائو میں نہیں آئے گا۔ مگر آج وہی تحریک انصاف وہی حقیقی آزادی کا پرچم اٹھانے والے واشنگٹن کی راہداریوں میں راستہ ڈھونڈ رہے ہیں۔قاسم خان گولڈ اسمتھ جو باپ کے مشن کے وارث بنے۔ جن کے کندھوں پر تحریک کے مستقبل کا بوجھ پڑنے والا تھا اب ٹی وی پر بیٹھ کر امریکہ کو آخری امید قرار دے رہے ہیں۔ یہ شخص ایک ایسے مغربی خاندانی پس منظر سے تعلق رکھتا ہے جو پاکستان کی سیاست اور تہذیب سے کوسوں دور ہے۔ مگر قدرت کا کھیل دیکھئے کہ پاکستان کی اسلامی فلاحی ریاست کا علمبردار اپنے مغربی بیٹے کے ذریعے مغرب ہی سے نجات مانگ رہا ہے۔یہ صرف قاسم خان کی بات نہیں یہ پورے بیانیے کی شکست ہے۔
تحریک انصاف نے جس فکری اور نظریاتی ڈھانچے پر خود کو استوار کیا آج وہی ڈھانچہ زمین بوس ہوتا نظر آ رہا ہے۔ نعرے تو وہی ہیں مدینہ کی ریاست، قائد اعظمؒ کا پاکستان لیکن عمل؟ عمل امریکہ کی منت سماجت پر آ کر رک گیا ہے۔باپ اگر چی گویرا بننے نکلا تھا تو بیٹے نے اسے ہنری کسنجر کے دروازے پر لا کھڑا کیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ باپ نے قوم کو غیرت کا سبق پڑھانے کا ڈھنڈورا پیٹ کر نوجوانوں کو بے وقوف بنایا اور بیٹے نے پہلی ہی آزمائش میں اپنی بے بسی اور محتاجی کا اعتراف کر لیا۔ کیا یہ وقت نہیں کہ ہم سوال کریں تحریک انصاف کے نعرے صرف ووٹ لینے کا ہنر تھے یا کوئی سچ بھی تھا؟ کیا امریکی سازش کا بیانیہ بس ایک اسکرپٹ تھا جس سے سادہ دل قوم کو بہلایا گیا؟سیاست میں تضادات ہوتے ہیں مگر جب یہ تضادات نظریے سے ٹکرا جائیں تو پھر سوال صرف سیاست کا نہیں رہتا کردار کا ہوتا ہے۔ قاسم خان اگر اپنے والد کے لیے دنیا بھر سے انصاف مانگتے، اقوام متحدہ سے رجوع کرتے، انسانی حقوق کی تنظیموں کو متوجہ کرتے تو تب بھی بات سمجھ آتی۔ مگر امریکہ کو واحد امید کہنا اپنے والد کی رہائی کو امریکہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا یہ بات صرف سیاسی تضاد نہیں ایک فکری انحراف ہے۔
یاد کیجیے! یہی عمران خان تھا جو نواز شریف کو مودی کا یار کہہ کر پکارا کرتا تھا، امریکہ سے دوستی کو غلامی سے تعبیر کرتا تھا، ڈونلڈ لو کو سازش کا ماسٹر مائنڈ کہتا تھا اور آج؟ آج اس کا بیٹا اسی امریکہ سے اسی انتظامیہ سے مدد مانگ رہا ہے۔کاش کوئی قاسم خان سے پوچھتا کہ جب آپ کے والد نے ایبسولیوٹلی ناٹ کہا تھا تو کیا یہ قوم سے ایک جذباتی فریب تھا؟ کیا وہ محض ایک سیاسی سٹنٹ تھا؟ یا پھر آج کی بات جھوٹ ہے جب آپ امریکہ کو واحد راستہ کہہ رہے ہیں؟یہ قوم تھکی ہوئی ہے۔۔ بار بار دھوکہ کھانے سے نڈھال ہو چکی ہے۔ اسے ہر بار ایک نیا نجات دہندہ دکھایا جاتا ہے ہر بار ایک نیا نعرہ دیا جاتا ہے اور ہر بار آخر میں وہی دروازہ کھٹکھٹایا جاتا ہے جسے کل تک دشمن کہا گیا تھا۔ ہم کب تک ان تضادات کے اسیر رہیں گے؟ کب تک لفظوں کے جادو میں الجھ کر حقیقت سے منہ موڑتے رہیں گے؟کاش کوئی اس قوم کو یہ بھی بتا دے کہ اصل غلامی امریکہ کی نہیں بلکہ مفاد پرستی کی ہے۔ اصل غلامی مادی طاقت کے آگے جھکنے کی ہے۔ اور اصل آزادی کردار کی ہوتی ہے نعرے کی نہیں۔ اگر قاسم خان کا راستہ درست ہے تو پھر ایبسولیوٹلی ناٹ قوم سے جھوٹ تھا۔ اور اگر عمران خان سچا تھا تو قاسم خان کی التجاء اس کے نظرئیے کا قتل ہے۔یہ وقت ہے کہ تحریک انصاف اپنے بیانیے کا دوبارہ جائزہ لے۔
امریکہ میں تھنک ٹینکس کو اپنی لابنگ کے لئے ہزاروں ڈالر ماہانہ کی ادائیگیاں بند کرنا ہوں گی۔قوم کو فریب نہیں سچ چاہیے۔ اگر رہائی امریکہ سے مانگنی ہے تو ’’امریکی غلامی نامنظور‘‘جیسے نعروں سے توبہ کی جائے۔ قوم سے سر عام معافی ماقنگی جائے اور اگر واقعی نظریاتی جنگ ہے تو پھر امریکہ کی طرف دیکھنے کے بجائے اللہ کی طرف دیکھا جائے جیسا کہ عمران خان خود کہا کرتے تھے۔ورنہ وہ وقت دور نہیں جب تاریخ ہمیں نہ باپ کے نعرے سے یاد رکھے گی نہ بیٹے کی التجا ء سے بلکہ اس تضاد سے جو ہم نے اپنے کرداروں میں زندہ رکھا۔