بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، دلتوں اور عیسائیوں کے خلاف تعصب، امتیازی سلوک اور تشدد میں جس طرح مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، وہ محض ایک سیاسی یا سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی المیہ بن چکا ہے۔ یہ وہ المیہ ہے جسے عالمی سطح پر تسلیم کرنے میں اب تاخیر نہیں کی جا سکتی، کیونکہ اس کی شدت اور وسعت نے اب ملکی سرحدوں کو پار کر کے بین الاقوامی ضمیر کو بھی جھنجھوڑ دیا ہے۔ بھارت، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، آج اقلیتوں کے لیے ایک ایسے ملک میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں ان کی شناخت، عزت، جان اور آزادی ہر لمحہ خطرے میں ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بننے والی حکومت نے جس ہندوتوا نظریے کو فروغ دیا ہے، وہ اقلیتوں کے لیے دن بدن ایک بھیانک خواب بنتا جا رہا ہے۔ اس نظام میں صرف اونچی ذات کے ہندووں کو تحفظ حاصل ہے، جبکہ باقی تمام طبقات اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد غیرمحفوظ، غیر معتبر اور ثانوی حیثیت کے حامل شہری بن چکے ہیں۔
مودی حکومت کے کارندے، بشمول ارکانِ اسمبلی، کھلے عام اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرتے ہیں۔ تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے بی جے پی رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ نے مساجد کو مسمار کرنے کا کھلم کھلا مطالبہ کیا۔ ایسے بیانات نہ صرف ہجوم کو تشدد پر اکساتے ہیں بلکہ حکومت کی سرپرستی میں نفرت کو معمول بنا دیتے ہیں۔ نریندر مودی خود مسلمانوں کو رانداز قرار دیتے ہیں، جس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ بھارت میں ان کی کوئی جگہ نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج بھارت میں مسلمان نہ صرف اپنی مذہبی شناخت چھپانے پر مجبور ہو چکے ہیں بلکہ ان کے معاشی، تعلیمی، اور سماجی حقوق بھی دن بہ دن سلب ہوتے جا رہے ہیں۔
دلت برادری، جو صدیوں سے بھارت میں ذات پات کے ظالمانہ نظام کا شکار ہے، آج بھی وہی درجہ رکھتی ہے جو ایک غلام کو حاصل ہوتا ہے۔ اتر پردیش کے ضلع سنبھل میں دو دلت نوجوانوں کو محض کانور یاترا دیکھنے کے ’’جرم‘‘ میں کھمبے سے باندھ کر بری طرح مارا پیٹا گیا۔ ان پر جھوٹا الزام لگا کر جو تشدد کیا گیا، اس کا مقصد صرف ان دو افراد کو سزا دینا نہیں تھا بلکہ پوری دلت برادری کو پیغام دینا تھا کہ وہ آج بھی بھارت میں دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ ان کے لیے ہندو سماج میں کوئی عزت، کوئی وقار اور کوئی مساوی مقام نہیں ہے۔
تامل ناڈو میں ایک دلت سافٹ ویئر انجینئر کو صرف اس لیے غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا کیونکہ اس نے اپنی ذات سے باہر کی لڑکی سے محبت کی تھی۔ اس کا جرم صرف محبت تھا، اور اس جرم کی سزا موت دی گئی۔ یہ واقعہ صرف ایک انسان کا قتل نہیں بلکہ اس نظریے کا نمائندہ ہے جو دلتوں کو جینے کا حق دینے کو بھی تیار نہیں۔ ان کی تعلیم، ان کی محنت، ان کی ترقی بھی اگر سماجی روایات سے ٹکرائے تو ان کا انجام یہی ہوتا ہے۔
عیسائی برادری بھی اس ظلم سے محفوظ نہیں۔ گزشتہ برس صرف عیسائیوں کے خلاف 161 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں 47 واقعات صرف چھتیس گڑھ میں پیش آئے۔ ان حملوں میں گرجا گھروں کی بے حرمتی، دعائیہ تقریبات میں رکاوٹ ڈالنا، عیسائیوں پر جسمانی حملے، اور تبدیلی مذہب جیسے جھوٹے الزامات شامل ہیں۔ یہ سب کچھ منظم انداز میں کیا جا رہا ہے تاکہ عیسائی برادری کو خوفزدہ کر کے ان کے مذہبی اور سماجی وجود کو ختم کیا جا سکے۔مودی حکومت کی بے حسی کی ایک اور مثال ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران بٹھنڈہ کے علاقے اکالیا کلاں میں دیکھنے کو ملی، جہاں ایک فوجی طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ اس حادثے میں ایک دلت مزدور ہلاک ہوا، جو اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔ حکومت نے اب تک متاثرہ خاندان کو کوئی مالی یا اخلاقی امداد نہیں دی، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دلتوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں۔ ریاست کے لیے ان کا کوئی مطلب نہیں، چاہے وہ کسی حادثے کا شکار ہوں یا کسی ظلم کا نشانہ۔بھارت میں ایس سی، ایس ٹی، اور او بی سی افراد ملک کی مجموعی آبادی کا 75 تا 80 فیصد حصہ ہیں، لیکن ان کی نمائندگی اعلی عہدوں پر نہ ہونے کے برابر ہے۔ عدلیہ میں 80 فیصد ججز اونچی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ 2018 ء سے 2022 ء کے درمیان آئی اے ایس میں درج فہرست ذات کو صرف 7.6 فیصد، جبکہ او بی سی کو 15.9 فیصد نمائندگی ملی، جو ان کے کوٹے سے بہت کم ہے۔ مرکزی جامعات میں بھی یہی صورتحال ہے۔ پروفیسرز کی سطح پر ایس ٹی کی 83 فیصد، او بی سی کی 80 فیصد، اور ایس سی کی 64 فیصد نشستیں خالی پڑی ہیں۔ اسی طرح ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی سطح پر ایس ٹی کی 65 فیصد، او بی سی کی 69 فیصد، اور ایس سی کی 51 فیصد نشستیں خالی ہیں۔ یہ محض اتفاق یا انتظامی غفلت نہیں بلکہ ایک منظم سازش ہے، جس کے تحت نچلی ذات کے افراد کو اداروں سے باہر رکھا جا رہا ہے تاکہ وہ اثر و رسوخ کے حامل عہدوں تک نہ پہنچ سکیں۔لسانی تعصب بھی اب ریاستی پالیسی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بی جے پی کی زیرقیادت ریاستی حکومتیں بنگالی بولنے والے شہریوں کے ساتھ شدید امتیازی سلوک کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انہیں غیر قانونی مہاجر قرار دے کر ملک بدر کیا جا رہا ہے۔ مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتا بینرجی نے اس رپورٹ کو اپنے ایکس اکاونٹ پر شیئر کرتے ہوئے شدید تنقید کی اور کہا کہ بی جے پی کی حکومت لسانی بنیادوں پر بھارت کے شہریوں کو تقسیم کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ہدایات وزارت داخلہ، جس کی سربراہی امیت شاہ کر رہے ہیں، کی طرف سے جاری کی گئی ہیں۔ہیومن رائٹس واچ کی ایشیا ڈائریکٹر ایلن پیئرسن کے مطابق بی جے پی حکومت بنگالی بولنے والے بھارتی شہریوں کو بھی نشانہ بنا رہی ہے، اور ان پر غیر قانونی طور پر مہاجر ہونے کے الزامات لگا کر ملک سے نکالا جا رہا ہے۔ یہ پالیسی بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 اور 19 کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو ہر شہری کو مساوی حقوق اور آزادی اظہار کی ضمانت دیتا ہے۔ اس لسانی بنیاد پر کی جانے والی بے دخلی کو ممتا بینرجی نے ہندوتوا نظریے کی ایک شکل قرار دیا اور کہا کہ بی جے پی بھارت کو ایک ہندو اکثریتی ریاست میں تبدیل کر کے اقلیتوں کو مٹا دینا چاہتی ہے۔یہ ساری صورت حال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ بھارت اب جمہوریت کے لبادے میں فسطائیت کی طرف بڑھ رہا ہے، جہاں اقلیتوں کے لیے نہ مذہبی آزادی باقی بچی ہے، نہ مساوی مواقع، نہ تحفظ، اور نہ عزت نفس۔ مودی حکومت کی اقلیت دشمن پالیسیاں، چاہے وہ مذہبی ہوں، نسلی ہوں یا لسانی، بھارت کو ایک کثیرالثقافتی ریاست کے بجائے ایک مخصوص قوم پرست ہندو ریاست میں تبدیل کر رہی ہیں، جہاں صرف اونچی ذات کا ہندو محفوظ ہے۔ یہ المیہ صرف بھارت کی اقلیتوں کا نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک خطرہ ہے، اور اس پر عالمی برادری کی خاموشی، انسانی حقوق کے اصولوں کی کھلی توہین ہے۔