Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

پاکستان ہمیشہ زندہ باد

14اگست کے دن قیام پاکستان کی کہانی ضرور سننی اور سنانی چاہیے۔ یہ اس لئے ضروری ہے کیونکہ ہم سب کو پاکستان کے قیام کے اغراض و مقاصد یاد رکھنے چاہئیں اور نئی نسل کو بھی بتانا چاہیے کہ پاکستان کیوں بنایا گیا۔ وہ کیا وجہ تھی کہ متحدہ ہندوستان کا بٹوارہ کیا گیا؟ یہ ضروری کیوں سمجھا گیا کہ برصغیر کے مسلمانوں کا اپنا الگ وطن پاکستان ہونا چاہیے؟ پاکستان نہ بنتا تو آج متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کی کیا حیثیت ہوتی؟ پاکستان کا خواب دیکھنے والے علامہ محمد اقبالؒ اور پاکستان کے خواب کو حقیقت کا روپ دینے والے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے مسلمانان برصغیر کے لئے کس طرح کا پاکستان سوچا تھا اور کیا آج کا پاکستان ان کے تخیل اور خوابوں کی تعبیر ہے؟
حضرت قائداعظمؒ نے کہا تھا کہ پاکستان اسی دن بن گیا تھا جب برصغیر میں پہلا ہندو مسلمان ہوا تھا۔ کہنے کو یہ ایک جملہ ہے لیکن درحقیقت اس ایک جملے میں قیام پاکستان کی پوری کہانی چھپی ہے۔ ہندوئوں کے رہنما مہاتما گاندھی کو اسی بات کا اعتراض تھا، وہ کہتے تھے کہ مذہب تبدیل کرنے والوں کی ایک جماعت اپنے آپ کو الگ قوم کہلوانے کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے؟ اور یہ کہ اس دعویٰ کی بنیاد پر وہ ہم سے الگ وطن کا مطالبہ بھی کر رہی ہے گاندھی جی نے قائداعظمؒ کو جو خطوط لکھے اس میں پیش کش کی کہ ہم سے علیحدہ ہونا ناگریز ہے تو ایسے علیحدہ ہو جیسے دو بھائیوں کے درمیان بٹوارہ ہوتا ہے، یہ الگ قوم اور الگ وطن والا رٹا کیوں لگا رہے ہو؟ قائداعظمؒ نے گاندھی جی اس پیشکش کو ٹھکرا دیا اور کہا ہمارا پاکستان کا مطالبہ دو قومی نظرئیے کی بنیاد پر ہے اور ہم مسلمان قوم کی بنیاد پر الگ وطن کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ یہ دو قومی نظرئیے کیا تھا؟ اس دو قومی نظرئیے کا مطلب تھا کہ برصغیر میں مسلمان اور ہندو دو قومیں آباد ہیں جن کا ایک دوسرے سے نہ صرف مذہب مختلف ہے بلکہ ان کی معاشرت ان کی معیشت، ان کی ثقافت، ان کی تاریخ، ان کے رسم و رواج غرضیکہ ہر ایک چیز ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ قائداعظمؒ نے قرارداد پاکستان کی منظوری کے وقت منٹو پارک لاہور میں جو تقریر کی اس میں مسلمانوں اور ہندوئوں کے درمیان قومی فرق کو واضح کیا اور سمجھایا کہ پاکستان بننا کیوں ضروری ہے۔ قائداعظمؒ کے بقول دونوں اقوام کو جو ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں ایک ریاست میں جوت دینا برصغیر کی تباہی کے مترادف ہوگا۔ بعدازاں انہوں نے گاندھی کو ایک خط میں لکھا کہ مسلمانوں اور باقی کے ہندوستان کی فلاح اس بات میں ہے کہ قرارداد لاہور کے مطابق ہندوستان کو تقسیم کر دیا جائے۔ متحدہ ہندوستان میں 1937ء میں کانگرسی حکومتیں جب قائم ہوئیں تو یہ واضح ہوگیا کہ انگریز کے جانے کے بعد ہندو اقتدار کے تحت مسلمانوں کی کیا حالت زار ہوگی، مسلمان اس لئے کسی مغالطے میں نہ تھے، وہ سمجھ چکے تھے کہ ان کی نجات اور فلاح کا دارومدار اس پر ہے کہ مسلمانوں کا الگ وطن پاکستان معرض وجود میں آئے۔ پاکستان کا قیام مسلمانوں کی اسلامی شناخت کی بقاء کے لئے بھی ضروری تھا اور اس لئے بھی ضروری تھا کہ مسلمان اپنے سیاسی، معاشی اور معاشرتی استحصال سے محفوظ ہو جائیں، ہندو اکثریت والے متحدہ ہندوستان میں مذکورہ بالا تمام خطرات کا ان کو سامنا تھا۔
آج کے ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھ کر کوئی پاکستانی مسلمان کیا یہ خواہش کر سکتا ہے کہ کاش ہم متحدہ ہندوستان کا حصہ ہوتے؟ آج کوئی خواہ مخواہ ناشکری کرے تو اور بات ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان مسلمانان برصغیر کے لئے رب العزت کا ایک ایسا تحفہ ہے جس کا ہم جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے۔ ہم معاشی طور پر بھی مضبوط ہوئے ہیں اور دفاعی طور پر بھی آج ہماری طاقت اور صلاحیت کا ساری دنیا میں ڈنکا بج رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہندو اکثریت کے استحصال سے بچا لیا ہے اور آج ہماری وہ حالت ہوتی جو بھارت کے مسلمانوں کی ہے۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد بھارتی مسلمان مسلسل زوال پذیر ہوئے۔ ان کی معاشی، سیاسی اور معاشرتی میدان میں پستی کا کھوج لگانے کے لئے بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے اپنے اقتدار میں آنے کے بعد ممبران پارلیمنٹ پر مشتمل کمیٹی بنائی جو ’’سچرکمیٹی‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ اس کمیٹی کی رپورٹ پڑھنے کے لائق ہے کہ کس طرح مسلمان ہر شعبے میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ بھارتی مسلمان کس طرح احساس کمتری کا شکار ہیں اس کو سمجھنے کے لئے ایک مثال کافی رہے گی۔ یورپی پارلیمنٹ کے پاکستانی نژاد سابق رکن سجاد کریم سے ایک ملاقات میں میں نے دریافت کیا کہ برطانیہ میں بھارتی مسلمان کیا تعداد میں کم ہیں یا معاشی طور پر کمزور ہیں کیونکہ ان کی نمائندگی وہاں کم دیکھنے میں آتی ہے۔ اس سوال کے جواب میں سجاد کریم نے کہا کہ بھارتی مسلمان تعداد میں ہم سے زیادہ ہی ہوں گے اور معاشی لحاظ سے بھی وہ کافی مضبوط ہیں لیکن ہماری نسبت وہ احساس کمتری کا شکار ہیں۔ ہمیں اپنی پشت پر پاکستان نظر آتا ہے جس سے ہمیں طاقت ملتی ہے اور ہم دلیری کے ساتھ برطانوی سیاست میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں جبکہ بھارتی مسلمان، ہماری طرح یہ طاقت اپنی پشت پر محسوس نہیں کرتے۔
پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس بنا پر ہم اس سے پیار کرتے ہیں جیسا کہ دنیا کا دستور ہے کہ ہر ملک کا شہری اپنے وطن سے پیار کرتا ہے لیکن ہماری محبت پاکستان سے اس بنیادی فطری جذبے سے بڑھ کر ہے۔ پاکستان اس دنیا کے نقشے پر اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور عصر حاضر میں یہ دنیا کی واحد اسلامی نظریاتی ریاست ہے۔ ریاست مدینہ کے بعد مسلمانوں کی 1400 سالہ تاریخ میں دوسری اسلامی نظریاتی ریاست پاکستان ہے چنانچہ مکہ مدینہ کے بعد پاکستان کی سرزمین کا چپہ چپہ ہمارے لئے مقدس ہے۔ یہ مملکت خداداد پاکستان ہے جو انشاء اللہ تاقیامت قائم و دائم رہے گی۔ پاکستان کے دشمن ہمیشہ ہماری گھات میں رہے ہیں، وہ آج بھی بیرونی و اندرونی محاذوں پر ہم پر حملہ آور ہیں لیکن ان کی سب تدبیریں رائیگاں جائیں گی کیونکہ سب تدبیروں سے بڑھ کر بہترین تدبیر کرنے والا اللہ جل و شانہ پاکستان کی حفاظت کرے گا۔ پاکستان پائندہ باد

یہ بھی پڑھیں