Search
Close this search box.
منگل ,23 جون ,2026ء

بھارت میں اقلیتوں پر مظالم اورعالمی رسوائی

بھارت کا مودی اپنے فسطائی ہتھکنڈوں کے سبب پوری دنیا میں رسوائیاں سمیت رہا ہے ، ایک جانب سکھوں نے پوری دنیا میں بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ میں بدل ڈالا تو دوسری جانب جنوبی ایشیا ء کے تارکین وطن کی تنظیم نے لندن میں بھارتی ہائی کمشن پر احتجاج کیا ، تیسری جانب بھارت میں اقلیتوں کے خلاف مظالم کی ایک شرمناک رپورٹ پوری دنیا میں مودی حکومت کو بے نقاب کر رہی ہے ۔بھارت کے یوم آزادی پر بڑی تعداد میں سکھوں نے واشنگٹن میں بھارتی سفارتخانے کے آگے شدید احتجاج کیا اور سفارتخانے کی عمارت کو گھیر لیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق خالصتان کے پرچم اٹھائے سکھوں نےبھارت مردہ باد اور قاتل قاتل مودی قاتل کے نعرے لگائے اور بھارتی جھنڈے کے ٹکڑے کر کے سفارتخانے کے سامنے پھینک دیے۔خوفزدہ بھارتی سفارتی عملے نے پولیس بلائی جو موقع پر کئی گھنٹے موجود رہی۔مظاہرین نے سفارتخانے کے باہرکئی گھنٹوں تک دھرنا دیا اوربھارتی حکومت کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار کیا۔اس موقع پر خالصتان کونسل کے سربراہ ڈاکٹرگربخش سنگھ سندھو نے کہا ہے کہ سترہ اگست بروز اتوار واشنگٹن میں خالصتان ریفرنڈم ہوگا، ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کے لیے ہزاروں سکھ پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب بھارتی پنجاب کو آزاد کرا کر خالصتان بنائیں گے۔بھارتی سفارتخانے کے آگے سکھوں کا مظاہرہ خالصتان تحریک کے بین الاقوامی سطح پرجاری اثرات کا ایک اورمظہرسمجھا جا رہا ہے جو بھارت کے لیے سفارتی محاذ پرایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔خالصتان ریفرنڈم امریکا میں قائم سکھ برادری کی تنظیم سکھ فار جسٹس کے زیر اہتمام ہوگا۔ بھارتی حکومت نے سکھ فار جسٹس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ برطانیہ ، کینیڈا وغیرہ میں اب تک خالصتان ریفرنڈم کے کئی راؤنڈ ہو چکے ہیں جن میں لاکھوں سکھ مرد و خواتین نے بھارت سے علیحدہ آزاد وطن کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں۔ مودی حکومت خالصتان ریفرنڈم سے سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور انہیں روکنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے لیکن اسے مسلسل ناکامی کا سامنا ہے۔جنوبی ایشیاءسے تعلق رکھنے والے تارکین وطن گروپوں نے بھارت میں اقلیتوں پر ظلم و ستم، بنگالی مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی کے خلاف لندن میں احتجاج کیا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق، جنوبی ایشیاءیکجہتی گروپ اور دیگر تارکین وطن تنظیموں کے درجنوں کارکن لندن کے گورڈن اسکوائر پر جمع ہوئے، نعرے لگائے ، مزاحمتی نظمیں پڑھیں اور گیت گائے۔مقررین نے کہاکہ بھارتی شہری ہونے کے باوجود بنگالی مسلمانوں کو حراست، تشدد، گھروں کی مسماری اور یہاں تک کہ بنگلہ دیش جلاوطنی کا سامنا ہے۔ بنگالیوں کو محض مسلمان ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔مظاہرین نے نہ صرف بھارتی مسلمانوں، دلتوں اور عیسائیوں کے ساتھ بلکہ اسرائیلی درندگی کا شکار غزہ کے لوگوں کے ساتھ بھی اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے ہندوتوا پر مبنی پالیسیوں، بشمول اقلیتوں پر حملوں، بلڈوزر کارروائی، مقبوضہ جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کی منسوخی اور جبر و استبداد کی دیگر کارروائی کی مذمت کی۔ دوسری جانب بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، دلتوں اور عیسائیوں کے خلاف تعصب اور تشدد میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، یہ ایک سنگین انسانی المیہ ہے جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کے لیے بھی شدید تشویش کا باعث ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مودی حکومت کی سرپرستی میں جاری نفرت انگیز تقاریر اور تشدد میں دن بہ دن تیزی آرہی ہے اور ملک اقلیتوں کیلئے انتہائی غیر محفوظ بنتا جا رہا ہے ۔مودی کے ہندوتوا سے متاثرہ نظام میں اونچی ذات کے ہندوئوں کے سوا کوئی بھی محفوظ نہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی خود مسلمانوں کو “درانداز” قرار دیتے ہیں جبکہ تلنگانہ کے بی جے پی رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ نے کھلے عام مساجد کو مسمار کرنے کا مطالبہ کیا۔ اعلیٰ سیاسی رہنمائوں کی اس طرح کی نفرت سے بھری زبان نے اقلیتوں کے خلاف تشدد کو معمول بنا دیا ہے اور سماجی تقسیم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔مودی حکومت میں صرف اور صر ف اونچی ذات کے ہندوؤں کیلئے تحفظ اور وقار برقرار ہے ۔ دلتوں کے ساتھ ہمیشہ دوسرے درجے کے شہریوںجیسا سلوک روا رکھا گیا ہے ۔ اتر پردیش کے علاقے سنبھل میں2 دلت نوجوانوں کوجو کانور یاترا دیکھنے گئے تھے، ہندو ہجوم نے کھمبے سے باندھ کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ان پر چوری کا الزام لگایا گیا، ان پر تشدد کے ذریعے پوری دلت برادری کو پیغام دیا گیا کہ وہ ہندوؤں کے برابر شہری نہیں اور انکا بھارت میں کوئی مقام نہیں ہے۔حال ہی میںتامل ناڈو میں ایک نوجوان دلت سافٹ ویئر انجینئر کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، اس کا واحد جرم یہ تھا کہ وہ اپنی ذات سے باہر کسی سے محبت کرنا تھا۔گزشتہ برس پیش آنے والے نفرت انگیز جرائم کے اعداد و شمار نے انسانی حقوق کے اداروں کوششدرکر دیا ہے۔ صرف عیسائی برادری کے خلاف 161 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 47 صرف چھتیس گڑھ میں پیش آئے ۔ان واقعات میں گرجا گھروں پر حملے، دعائیہ اجتماعات میں رکاوٹ، جسمانی تشدد، ہراسانی اور تبدیلی مذہب جیسے جھوٹے الزامات شامل ہیں۔رواں برس7 مئی کو ”آپریشن سندور“کے دوران بٹھنڈہ کے علاقے اکالیا کلاں میں ایک فوجی طیارہ گر کر تباہ ہوا جس میں ایک دلت مزدور جان بحق ہوا جو اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔ مودی حکومت نے اب تک متاثرہ خاندان کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جو دلتوں سے اسکی نفرت کا عکاس ہے۔بھارت میں ایس سی، ایس ٹی، اور او بی سی افراد ملک کی آبادی کا تقریباً 75 حصہ ہیں لیکن اہم عہدوں سے ان کی غیر موجودگی واضح ہے۔عدلیہ میں 80 فیصد جج اعلیٰ ذات سے ہیں۔آئی اے ایس (2018–2022) میں درج فہرست ذات کو صرف 7.6%، او بی سی کو 15.9فیصد نمائندگی ملی جو کوٹہ سے کہیں کم ہے۔مرکزی جامعیات میں مختلف شعبوں کے مخصوص عہدے خالی پڑے ہیں۔پروفیسرز کی سطح پر: ایس ٹی: 83فیصد، او بی سی: 80فیصد ، ایس سی: 64% نشستیں خالی ہیں۔ایسوسی ایٹ پروفیسرز کی سطح پر: ایس ٹی: 65فیصد، او بی سی: 69فیصد، ایس سی: 51فیصد نشستیں خالی ہیں۔ان نشستوں کا خالی ہونا محض اتفاق یا غفلت نہیں ہے بلکہ یہ ایک منظم سازش ہے،جس کا مقصد نچلی ذات کے لوگوںکو اداروں میں ان کے حق سے محروم رکھنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں