Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

بیت المقدس کا مقدمہ

جب انبیاء کی سرزمین،جوالوہیت کے پیغام کی امین تھی،سازشوں کے پنجے میں آجائے، جب قبل اول کی دیواریں خون سے رنگین ہوں، جب اذانوں کی صدابموں کی گونج میں دب جائے، تو پھرتاریخ محض کاغذی داستان نہیں رہتی بلکہ وہ ایک طویل نوحہ بن جاتی ہے۔یہودیوں کی ریاست ایک ایساخنجرہے جومشرقِ وسطی کے قلب میں پیوست کیاگیاتاکہ ہردھڑکن غلامی میں ڈھل جائے اورہر سانس سامراجی جبرکی زنجیرسے جکڑدی جائے۔ اسرائیل کاقیام امتِ مسلمہ کی تاریخ میں ایک ایساناسورہے جوہرلمحہ لہورِستارہتا ہے، ہرآن امت کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑتا ہے۔ یہ تحریرایک تاریخی بیانیہ نہیں،ایک بیداری کی پکار ہے‘ ایک صدائے احتجاج ہے جس میں کربلا کے دردکی جھلک بھی ہے اورصلاح الدین ایوبی کی تلوارکی جھنکار بھی۔
یہودیوں کیلئے فلسطین کی مقدس سرزمین پرقومی وطن کے قیام کی حمایت کااعلان دراصل برطانوی سامراج کی اس پالیسی کا مظہرہے جس میں مقامی باشندوں کی زمین پربیرونی عناصر کو بسانا کوئی اخلاقی سوال نہ تھا،بلکہ سیاسی چالاکی تھی۔یہ اعلان نہ صرف مقامی عرب مسلمانوں بلکہ پوری اسلامی دنیاکیلئے ایک کھلاپیغام تھاکہ اب سامراجی طاقتیں آپ کی روحانی وتاریخی سرزمین پرسیاسی تجربے کریں گی،اوراس کیلئے وہ کسی شرم یا نون کی پابندنہ ہوں گی۔جب استعمارانسانیت کے نام پر انسانوں کی آزادی چھیننے لگے تواس طرزِ فکر کو فکری دیوالیہ اورتہذیبی استبدادکہتے ہیں۔ایسے افرادکے بارے میں قرآن تنبیہ کرتاہے:
اورظالموں کی طرف ذرابھی جھکانہ کرو، ورنہ تمہیں آگ چھولے گی۔(ہود:۱۱۳)
اسرائیل کاقیام محض زمین کی حدبندی کا معاملہ نہ تھا،یہ تہذیبوں کے تصادم،مذہبی نفسیات، سامراجی عزائم اورسیاسی مفادات کا ایک ایسافسان عبرت ہے جسے تاریخ نے خوںچکاں الفاظ میں قلم بندکیا۔اسرائیل کاقیام ایک سوچے سمجھے منصوبے کاحصہ تھا، جس کے پسِ پردہ صدیوں پرمحیط منصوبہ بندی،سامراجی سازشیں اورمذہبی تعصبات پنہاں تھے۔ 1948ء میں اسرائیل کاقیام کسی اچانک انکشاف کانتیجہ نہ تھابلکہ اس کے پیچھے برسوں کی خفیہ تدبیریں،استعماری وعدے،اورنسلی برتری کے زعم کی تاریخ پوشیدہ ہے۔یہ قیام محض سیاسی مفاد نہیں، بلکہ اسلامی امت کے قلب میں ایک خنجر پیوست کرنے کے مترادف تھا۔فلسطین ، جوہمیشہ انبیا کی جائے پناہ رہا،صیہونی استعمارکے رحم وکرم پرکردیاگیا۔
وہ38الفاظ کی مختصر مگر زہرآلود سحر انگیز تحریر’’اعلانِ بالفور‘‘ جس نے خطے میں قوموں کی تقدیر بدل کررکھ دی۔ایک پوری قوم کوان کے گھروں سے بے دخل کردیا۔برطانوی وزیر ِخارجہ آرتھربالفورکایہ وعدہ درحقیقت ایک سامراجی منصوبہ تھاجوخلافتِ عثمانیہ کے زوال کے بعدعالمِ اسلام کومزیدتقسیم درتقسیم میں ڈالنے کی سازش تھی۔اس خط نے دین کے نام پرظلم کی تائیداور تاریخ میں نفاق کاایسابیج بودیاجوآج ظلم وستم اور درندگی کاایک ایسا مسلم کش تناوردرخت بن گیا ہے جس کی جڑوں میں اب تک لاکھوں افراد کا خونِ ناحق شامل ہو چکاہے لیکن اب تک اس کی انتہائی مکاری اورمنافقت کے ساتھ آبیاری کی جارہی ہے۔
2نومبر1917ء کوبرطانیہ کے وزیر ِخارجہ آرتھر جیمزبالفورنے روتھشیلڈخاندان کو لکھا گیا ایک مختصرخط،جسے ’’اعلانِ بالفور‘‘کہا جاتا ہے، عالمی سیاست میں ایک زلزلہ لے آیا۔ اس خط کامکمل متن آج بھی محفوظ ہے جس میں کہاگیا:
2نومبر1917، وزارتِ خارجہ،برطانیہ
بخدمت عالی جناب لارڈروتھشائلڈ،
(نمائندہ برطانوی یہودی برادری)
محترم!مجھے یہ امرمسرت سے لبریزہے کہ میں آپ کے توسط سے یہ مکتوب آپ کی خدمت میں پیش کروں جوحکومتِ برطانیہ کی جانب سے یہودی صیہونی تمنائوں سے ہمدردی کامظہرہے۔ یہ وہ بیان ہے جسے کابینہ نے باقاعدہ منظوری دے کر آپ کے سامنے رکھنے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔
اس عظیم الشان سلطنت(برطانیہ)کی حکومت فلسطین میں یہودی قوم کیلئے ایک قومی وطن کے قیام کیلئے مخلصانہ رغبت رکھتی ہے، اور اس مقصدکے حصول کیلئے ہرممکن کوشش کرے گی۔ البتہ یہ امرواضح طورپرمدنظررہے گاکہ فلسطین میں موجود غیر یہودی باشندوں (یعنی عربوں) کے شہری ومذہبی حقوق میں کوئی ایسی مداخلت نہیں کی جائے گی جوانہیں نقصان پہنچائے۔ اسی طرح دیگرممالک میں آبادیہودیوں کے شہری وسیاسی حقوق پربھی کوئی اثرنہ پڑے۔ میں تہِ دل سے امیدکرتاہوں کہ آپ اس اعلامیہ کو صیہونی فیڈریشن تک پہنچا دیں گے تاکہ وہ اس پیغام کی روشنی میں اپنی آئندہ راہ متعین کریں۔
خیر اندیش،آرتھرجیمزبالفور
(وزیرِخارجہ،حکومتِ برطانیہ)
2 نومبر1917ء کوبرطانوی وزیرِخارجہ لارڈ آرتھرجیمزبالفورکایہ مختصرسا مکتوب عالمی سیاست کے نقشے پروہ لکیرکھینچ گیا جس نے نہ صرف مشرقِ وسطی کی تاریخ کوبلکہ امتِ مسلمہ کی وحدت کوبھی دہلاکررکھ دیا۔یہ محض ایک خط نہ تھا بلکہ تہذیبوں کی تقدیر،اقوام کی خودمختاری، اور عدل وانصاف کی روح کے خلاف سامراجی استبداد کا علامتی آغازتھا۔اس اعلان کواگرمحض تاریخی دستاویز کے طورپرپڑھاجائے توشایداس کے زہرکو سمجھناممکن نہ ہولیکن اگراسے مسلم دنیاکے دل سے گزرتے ہوئے محسوس کیاجائے تویہ ایک ایسا خنجر ہے جو صدیوں بعدبھی تازہ زخم دیتاہے۔
بالفورکے ان38الفاظ کوپڑھ کردل تاریخ کے آہوں بھرے دفترمیں داخل ہوجاتاہے جہاں الفاظ،تلواروں سے زیادہ تیزاورفیصلوں سے زیادہ کاری ہوتے ہیں۔یہ محض ہمدردی کااعلان نہیں، بلکہ ایک پوری ملت کیلئے جغرافیائی بے وطنی کا پروانہ تھا۔برطانیہ،جوخود کومہذب دنیاکاامام گردانتا تھا،نے ایک ایسی سرزمین جونہ اس کی ملکیت تھی نہ اس پرقانونی دعویٰ لیکن کیسے قومِ یہود کیلئے وطن قائم کرنے کاعندیہ دے دیا۔یہ ایساہی ہے جیسے کوئی بغیرمالک سے مشورہ کیے قفل کی چابی کسی کوہدیہ کردے۔
یہ اعلان دراصل مغربی سامراج کامذہب کی آڑمیں مفادات کاسوداگربننے کاآغازتھا۔اس اعلان نے عالمی سیاست کومذہبی ولسانی بنیادوں پر بانٹ کرتہذیبی تصادم کی بنیادرکھ دی ۔یہ مکتوب، دراصل ایک تہذیبی بددیانتی کاابتدائی باب تھا،جہاں اپنے ظالمانہ مفادات کیلئے ایک قوم کی تمنائوں کاخون کسی اورقوم کے خون سے کیا گیا۔ یہ خط بظاہرخیرسگالی کاپیغام تھالیکن درحقیقت یہ ایک ملت کے وجودکومٹانے کی سنداوردوسری ملت کے سامراجی خوابوں کی تکمیل کی دستاویز تھی۔برطانوی سامراج نے عثمانی خلافت کے زوال کے بعدفلسطین کواپنے زیرِاثرلاکرصیہونی منصوبوں کی آبیاری شروع کی۔
یہ خط دراصل برطانیہ کی سامراجی سیاست، صہیونی تحریک کی سرگرم لابی اورپہلی جنگِ عظیم میں اتحادیوں کی پوزیشن سے جڑا ہوا ہے۔تاریخی پس منظریہ ہے کہ اس وقت عثمانی سلطنت زوال پذیرتھی،اوربرطانیہ مستقبل میں مشرقِ وسطی کواپنی کالونیوں میں تبدیل کرنے کے منصوبے پرعمل پیرا تھا۔برطانیہ چاہتاتھاکہ یہودیوں کی حمایت حاصل کرے، خاص طورپر امریکامیں موجود بااثریہودی حلقوں کی،تاکہ جنگ میں حمایت مضبوط ہو۔
اس خط کی یہ سطریں بظاہراخلاقیات سے معمور ہیں، لیکن درحقیقت منافقت کی دبیز چادر ہیں جوسامراجی عریانی کوچھپانے میں ناکام ہیں۔ برطانیہ کی اس گارنٹی کووقت نے کھوکھلے الفاظ کا ملبہ ثابت کردیا۔نہ توفلسطینیوں کے حقوق محفوظ رہے، نہ ان کاوقار، نہ ان کاوطن۔یہ ضمانت سیاسی تسلی کے سواکچھ نہ تھی تاکہ عالمی ضمیرکوکچھ دیر کیلئے سلا دیا جائے۔ہم یوں کہہ سکتے ہیں یہ ایک ایسی اخلاقی تدبیرتھی جوچالاکی سے فتنہ باطن کو تقدس کے پردے میں چھپاکرپیش کرتی ہے؛ یہودکیلئے وطن اوراہلِ فلسطین کیلئے صبر، قناعت، اورگمنامی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وعدے کی روشنی میں جوبھی سیاسی روشنی نکلی،اس نے صرف یہودکی راہوں کو روشن کیااوراہلِ عرب کی بستیوں کوتاریک ترکردیا۔
فلسطین کے مقامی باشندوں کے مذہبی وشہری حقوق کی مشروط گارنٹی کے اس اعلان میں جن ’’غیریہودی باشندوں‘‘کاذکرہے،وہی فلسطین کے اصل وارث ہیں لیکن ان کے حقوق کاذکربھی ایک ’’مشروط‘‘ سانچے میں پیش کیاگیا، گویا وہ اصل فریق ہی نہ ہوں، بلکہ محض سائے ہوں جنہیں دھوپ سے بچانے کی فرضی یقین دہانی کردی گئی ہو۔ یہ جملہ ایک ایسے منافقانہ طرزِفکرکاآئینہ دار ہے جس میں طاقتورکی مرضی قانون،انصاف اور اخلاقیات سے بالاسمجھی جاتی ہے۔یہ کہاجاسکتاہے کہ یہ عدل نہیں بلکہ مکرہے۔یہ تحفظ نہیں بلکہ دھوکہ ہے ۔ اگرزمین کسی قوم کی ہے تواس کے مستقبل پرفیصلے کاحق بھی اسی کوہوناچاہیے،نہ کہ کسی سامراجی ثالث کو۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں