اس سے قبل کہ الیکشن ٹریبونلز کے حوالے سے فافین کی رپورٹ میں آپ کے سامنے رکھوں کچھ باتیں مجھے بے چین کئے ہوئے ہیں وہ مجھے آپ کے گوش گزار کرنی ہیں۔
کسی ملک میں انتخابات کا انعقاد کیوں ہوتا ہے اس لئے کہ عوام اپنے نمائندے چنیں اور عوام کے ذریعے عوام کی اپنی حکومت قائم ہوسکے۔ اس سیٹ اپ کا نام جمہوریت ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ انتخابات کو دھاندلی کے ذریعے چرا لیا گیا ہے اور عوام کے وہ نمائندے نہیں آسکے جنہیں عوام نے ووٹ دیا تھا۔ مہذب ممالک میں شاید ایسی چوری نہ ہوتی ہو یا وسیع پیمانے پر ایسی دھاندلی نہ ہوتی ہوگی لیکن اکادکا واقعات وہاں بھی رپورٹ ہوتے ہوں گے جن کے سدباب کے لئے ہر ملک میں ایسا بندوبست کیا جاتا ہے تاکہ چور کا راستہ روکا جاسکا اور حق دار کو اس کا حق مل سکے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں جمہوریت ابھی پروان نہیں چڑھ سکی۔ انتخابات کا صاف شفاف انعقاد ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔ یہاں منظم دھاندلی کی منصوبہ بندی ہوتی ہے اور دھاندلی کرنے والوں کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ کہنے کو تو ہمارے نظام میں بھی انتخابی دھاندلی کے خلاف الیکشن ٹریبونلز بنائے جاتے ہیں لیکن ان ٹریبونلز نے نہ تو آج تک اپنا کام وقت پر مکمل کیا ہے اور نہ ہی یہاں انصاف ہوتا دکھائی دیا ہے۔
دیکھا جائے تو الیکشن ٹریبونلز کا قیام انصاف کی فراہمی کے لئے ہے جس میں تاخیر ہونا انصاف فراہم نہ کرنے کے مترادف ہے۔ یہ اسی طرح انصاف کا قتل ہے جس طرح کسی عام عدالت سے مظلوم کی دادرسی نہ ہو اور وہ انصاف کے لئے دربدر دھکے کھاتا پھرے۔ مستزاد یہ کہ الیکشن ٹریبونلز کے فیصلوں میں تاخیر کے بعد عدالت عظمیٰ میں اپیل کا پراسس بھی اپنے وقت میں مکمل نہیں ہوتا اور یہ سارا ریاستی بندوبست انتخابات میں دھاندلی کی شکایت رجسٹرڈ کرانے والے سائلین کا منہ چڑاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے منصوبہ ساز اول سے آخر تک تمام پہلوئوں کا احاطہ کرتے ہیں اور اس ضمن میں کئے جانے والے ’’ریاستی بندوبست‘‘ کا اپنے لحاظ سے ’’بندوبست‘‘ کرتے ہیں۔ یہ خفیہ طاقت آئین، قانون، ضابطوں اور قاعدوں پر حاوی ہو جاتی ہے۔
اب آئیے فافین رپورٹ کی طرف چلتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ خفیہ ہاتھوں نے الیکشن ٹریبونلز کی کارکردگی کا کیا بیڑہ غرق کیا ہے اور اس سارے ریاستی بندوبست کو کیسے مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔
8 فروری 2024ء کو عام انتخابات کا انعقاد ہوا۔ الیکشن ٹریبونلز کا قیام اور ان کا کام ستمبر 2024ء تک کھٹائی میں پڑا رہا تاآنکہ عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو اختیار دیا کہ وہ الیکشن ٹریبونلز کے لئے ججوں کی تقرری کرے۔ اس دوران وفاقی حکومت نے چالاکی دکھائی، الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 140 میں ایک ترمیم کی گئی اور ریٹائرڈ ججوں کی الیکشن ٹریبونلز میں تقرری کی راہ ہموار کی گئی۔ یہ ترمیم جون 2024ء میں ہوئی قبل ازیں وفاقی حکومت ایک آرڈیننس کے ذریعے مئی 2024ء میں الیکشن کمیشن کو ریٹائرڈ ججوں کی الیکشن ٹریبونلز میں تقرری کا اختیار دے چکی تھی۔ یوں الیکشن کے انعقاد کے بعد کے آٹھ ماہ یہ آنکھ مچولی چلتی رہی جس کا نقصان یہ ہوا کہ فافین رپورٹ کے مطابق نومبر 2024ء تک صرف 17فیصد انتخابی عذر داریوں کے فیصلے ہوسکے۔ حالانکہ آئین اور قانون کی رو سے 6ماہ کے اندر الیکشن ٹریبونلز نے انتخابی عذر داریوں کو نمٹانا ہوتا ہے۔ یہ 180دنوں کی مدت بھی اوریجنل الیکشن ایکٹ 2017 میں نہیں دی گئی تھی، ایکٹ بناتے وقت یہ مدت 120 دن تھی یعنی 4 ماہ میں الیکشن ٹریبونلز نے پٹیشنز پر فیصلے کرنے تھے جوکہ الیکشن فراڈ اور دھاندلی کے سدباب کے لئے مناسب وقت تھا لیکن مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت نے جاتے ہوئے اگست 2023ء میں الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کی اور الیکشن ٹریبونلز کے فیصلے کی مدت 120دن سے 180دن تک بڑھا دی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2024ء کے انتخابات کے لئے پہلے سے منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔
فافین رپورٹ کے مطابق تادم تحریر 23الیکشن ٹریبونلز نے 377 الیکشن پٹیشنز میں سے 171 کا فیصلہ سنایا ہے۔ یہ کل تعداد کا 45فیصد بنتا ہے۔ یعنی ڈیڑھ سال گزر جانے کے بعد بھی الیکشن ٹریبونلز نہ صرف اپنا کام مکمل نہیں کر پائے بلکہ ان کی کارکردگی 50فیصد سے بھی کم ہے۔ قومی اسمبلی کے حلقوں کی صورتحال اور بھی دگرگوں ہے۔ قومی اسمبلی کی انتخابی عذر داریاں 124تھیں جن میں صرف 47 کا ابھی تک فیصلہ ہوا ہے، یہ تعداد 38فیصد بنتی ہے۔ اس لحاظ سے 62فیصد یعنی دوتہائی انتخابی عذر داریوں کا فیصلہ ابھی ہونا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جن 171الیکشن پٹیشنز کا فیصلہ سنایا گیا ہے اس میں 168 پٹیشنز کو ڈس مس کر دیا گیا ہے۔ الیکشن ٹریبونلز کی اس کارکردگی نے بہت سے سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ انتخابی دھاندلی اور فراڈ کے سدباب کے لئے ریاست نے آئین کے آرٹیکل 225 کے تحت جو بندوبست کیا ہے کیا وہ محض آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ہے؟ اگر یہی مقصد ہے تو پھر ریاست کے وسائل اور لوگوں کا وقت برباد کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
الیکشن ٹریبونلز کی موجودہ کارکردگی کو سامنے رکھیں تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ 377 پٹیشنز نمٹانے میں انہیں مزید ڈیڑھ سے 2 سال کا وقت درکار ہوگا۔ ان ٹریبونلز کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر ہونی ہیں۔ ان اپیلوں کا فیصلہ بھی 6ماہ کے وقت میں دیا جانا ہے، یہ قانونی تقاضا ہے لیکن اس میں تاخیر بھی ہوسکتی ہے جیسا کہ ٹریبونلز کے فیصلوں میں ہوئی ہے۔ اس لحاظ سے انتخابی عذر داریوں کو نمٹانے میں ساڑھے تین سال سے 4 سال کا وقت لگے گا۔ اس وقت تک نئے انتخابات کی گونج سنائی دینے لگی گی اور یہ ساری ایکسرسائز بیکار ہو جائے گی۔ اس اعتبار سے انتخابی دھاندلی کے خلاف قائم کردہ یہ ریاستی بندوبست ایک فضول قسم کی چیز لگتی ہے جس کا واحد مقصد اپنے حریف کو الجھا کر رکھنے کے علاوہ کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔
فافین رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ انتخابی عذر داریاں تحریک انصاف کے آزاد امیدواروں کی جانب سے دائر کی گئیں تھیں۔ ایک اندازے کے مطابق 46 فیصد انتخابی عذر داریاں تحریک انصاف کے امیدواروں کی تھیں کیونکہ تحریک انصاف کو فارم 47 کی دھاندلی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اگر انصاف کا نظام بروئے کار آتا اور الیکشن ٹریبونلز بروقت الیکشن پٹیشنز کو نمٹا دیتے تو تحریک انصاف آج سڑکوں پر احتجاج نہ کر رہی ہوتی۔ محض الیکشن پٹیشنز کو نمٹانا بھی مقصد نہیں ہے انصاف پر مبنی فیصلے ہونے چاہئیں جوکہ نہیں ہو رہے۔ جون 2024ء میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کرکے ریٹائرڈ ججوں کی الیکشن ٹریبونلز میں تقرری کی راہ ہموار کرکے جو مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی گئی وہ اب آہستہ آہستہ واضح ہو رہے ہیں۔