Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

ایڈہاک ازم کی شکار تحریک انصاف

ایک سیاسی جماعت کسی معرکہ آرائی کے قابل اس وقت ہوتی ہے جب وہ اوپر سے لے کر نچلی سطح تک منظم ہو‘ تحریک انصاف کا المیہ یہ ہے کہ اس کا لیڈر عمران خان پاکستان کا مقبول ترین سیاسی رہنما ہے لیکن لمحہ موجود میں یہ جماعت انتہائی غیر منظم ہے۔ تحریک انصاف کو گراس روٹ لیول تک منظم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش اس وقت ہوئی جب سیف اللہ خان نیازی کو تحریک انصاف کا چیف آرگنائزر بنایا گیا۔ 2019ء میں تنظیم سازی شروع ہوئی جو 2020ء کے وسط تک جاری رہی۔ اس دوران تحریک انصاف کی مدر باڈی کے علاوہ 16ونگز کی تشکیل بھی کی گئی۔ اس تنظیم سازی کے نتیجے میں تحریک انصاف کی ہر شہر اور ہر ضلع کے گلیوں محلوں تک چین آف کمانڈ موجود تھی۔ تنظیم کی قوت کا پہلا عملی مظاہرہ مینار پاکستان گرائونڈ میں دیکھنے میں آیا‘ عمران خان کی عدم موجودگی میں یہ تحریک انصاف کا وہ اجتماع تھا جس میں وسطیٰ پنجاب کے کم و بیش 20 ہزار عہدیداران نے حلف اٹھانے کی تقریب میں شرکت کی تھی۔ بعدازاں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں شمالی پنجاب کے عہدیداران کا ایسا اجتماع ہوا کہ لیاقت باغ بھر گیا۔ یہ وہ دن تھے جب تجزیہ نگار تحریک انصاف کی عدم مقبولیت کی باتیں کر رہے تھے لیکن ان بڑے اجتماعات نے تبصرہ نگاروں کو ششدر کر دیا‘ خاص طور پر مینار پاکستان کے حیران کن اجتماع پر کئی ٹی وی پروگرام ہوئے اور کالم نگاروں نے اس غیر معمولی تنظیمی سرگرمی کو اپنے کالم کا موضوع بنایا۔ عمران خان نے دسمبر 2021ء میں یہ تنظیمیں توڑ دیں۔ بہتر ہوتا کہ وہ اس کے فوری بعد الیکشن کرواتے لیکن باوجودہ انہوں نے اس سے گریز کیا۔ حالانکہ یہ تحریک انصاف کے آئین کا تقاضا بھی تھا۔ اگر اس موقع پر تحریک انصاف کے الیکشن ہو جاتے تو اگلے تین سالوں کے لئے تحریک انصاف کی ایک ایسی تنظیم وجود میں آتی جو ہر سرد وگرم کے لئے تیار ہوتی۔
پارٹی کو منتخب قیادت دینے کی بجائے وقتی طور پر نامزدگیوں سے کام چلایا گیا‘ بعدازاں تحریک انصاف کے آئین میں ترمیم کرکے نیشنل کونسل کے ذریعے ویسا الیکشن کروایا گیا جیسا کہ ساری دوسری جماعتیں خانہ پری کے لئے کرواتی ہیں لیکن اس سے کام نہ بن سکا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ تحریک انصاف کے انتخابات کو الیکشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیا اور پارٹی بدترین انتشار کا شکار ہے۔ عمران خان کی قیادت سبھی تسلیم کرتے ہیں اور ان کا کہا مانتے ہیں لیکن ایک شخصیت خواہ وہ کتنی ہی طاقتور اور مقبول کیوں نہ ہو۔ ’’جماعت‘‘ کا نعم البدل کیسے ہوسکتی ہے۔ عمران خان تحریک انصاف کو ہمیشہ ادارہ بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے آئے ہیں۔ یہ خواہش اس سوچ کے تابع ہے کہ شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں جبکہ ادارے قائم رہتے ہیں اور خود کار میکنزم کے تحت اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس سوچ کا توانا ہونا چاہیے تھا مگر طاقتور ہونے کی بجائے یہ کمزور تری ہوتی گئی ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ تحریک انصاف میں ’’ڈنگ ٹپائو پالیسی‘‘ یعنی ایڈہاک ازم کے تحت کام چلایا جارہا ہے۔ پارٹی آئین کو رہنما حیثیت دینے کی بجائے اس کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔
موجودہ سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اس کی واضح ہیں۔ عمر ایوب نے بطور سیکرٹری جنرل استعفیٰ دیا تو بانی تحریک انصاف کی جانب سے سلمان اکرم راججہ کو سیکرٹری جنرل تعینات کر دیا گیا۔ یہ ایک عارضی تعیناتی ہوسکتی تھی جس کو باضابطہ پراسس کے تحت مستقل کیا جاتا لیکن اس کی ضرورت محسوس نہ کی گئی۔ سلمان اکرم راجہ ایک نامور قانون دان ہیں انہوں نے لیکن اپنی تعیناتی کے قانونی آئینی پہلوئوں کا احاطہ کرنے کی تکلیف گوارا نہ کی۔ پاکستان تحریک انصاف کا آئین سیکرٹری جنرل کے استعفی کی صورت میں ایڈیشنل سیکرٹری جنرل کو اختیارات تفویض کرتا ہے۔ اس اعتبار سے فردوس شمیم نقوی وقتی طور پر پارٹی امور کی باگ دوڑ سنبھالتے اور اس دوران سلمان اکرم راجہ ایک آئینی پراسس کو مکمل کرتے ہوئے الیکشن کے ذریعے پارتی کے سیکرٹری جنرل بن جاتے۔ یہ الیکشن بھی تو نہیں ہونا تھا وہ بانی تحریک انصاف کے نامزد کردہ تھے لہٰذا وہ بلامقابلہ ہی سیکرٹری جنرل بن جاتے لیکن سلمان اکرم راجہ نامور قانون دان ہوتے ہوئے بھی اس قانونی و آئینی تکلف میں نہیں پڑے۔
یہ پہلو انتہائی افسوس ناک ہے۔ اسی طرح پنجاب میں عالیہ حمزہ کو چیف آرگنائزر بنا دیا گیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد پنجاب کی بلامقابلہ منتخب ہونے والی صدر ہیں۔ ان کی غیر موجودگی میں حماد اظہر بحیثیت جنرل سیکرٹری کام چلا رہے تھے۔ حماد اظہر مستعفی ہوئے تو اس کے بعد عالیہ حمزہ کو چیف آرگنائزر بنا دیا گیا‘ اس تقرری کی بھی پارٹی آئین 2019 میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایسی تعیناتیاں سٹاپ گیپ اور مینجمنٹ کے لحاظ سے بھی مناسب اس لئے نہیں ہیں کیونکہ پارٹی آئین اس کا خود سے حل بتاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ صدر کی غیر موجودگی میں سینئر نائب صدر اور جنرل سیکرٹری کی غیر موجودگی میں ایڈیشنل جنرل سیکرٹری فرائض سنبھالے گا۔ عالیہ حمزہ آئینی پراسس سے گزر کر پنجاب کی صدر بن سکتی تھیں کیونکہ وہ بانی چیئرمین کی نامزد کردہ تھیں‘ ان کا بلامقابلہ انتخاب بھی یقینی تھا لیکن پارٹی لیڈر شپ نامور جو قانون دانوں پر مشتمل ہے اس بار بھی پارٹی امور میں قانونی تقاضے پورے کرنے سے قاصر رہی۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف کا 2019ء میں جو آئین بنا وہی آئین الیکشن کمیشن آف پاکستان میں منظور شدہ آئین ہے لہٰذا قانونی اعتبار سے اس آئین کو نافذ کرنا پارٹی پر لازم ہے۔
ان ایڈہاک تعیناتیوں جو ماورا آئین بھی ہیں نے جماعتی صفوں میں بدنظمی اور بے ترتیبی پھیلائی ہوئی ہے۔ پارٹی کے اندر متوازی تنظیمیں وجود میں آچکی ہیں جس سے پارٹی کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچ رہا ہے۔ اصولی طور پر تحریک انصاف کا منتخب شدہ عہدیدار ہی پارٹی کو لیڈ کرنے کا ذمہ دار ہے لیکن دیکھنے میں آرہا ہے کہ ان عہدیداران کے اوپر یا متوازی ایسی تعیناتیاں کی جارہی ہیں جو پارٹی کی طاقت میں اضافہ کرنے کی بجائے پارٹی عہدیداران کو متنفر کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ نچلی سطح یعنی اضلاع کی سطح پر ہو رہا ہے‘ مرکزی سطح پر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی جسے پارٹی کے تنظیمی امور میں برتر حیثیت حاصل ہے اپنا وجود کھو چکی ہے۔ کبھی کورکمیٹی اس پر حاوی تھی‘ آج کل پولٹیکل کمیٹی نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ واضح رہے کہ یہ سیاسی کمیٹی نامزد کردہ لوگوں پر مشتمل ہے جبکہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی پارٹی کے منتخب عہدیداران کا فورم ہے۔ دریں حالات فیصلہ سازی کا عالم اور معیار کیا ہوگا؟ ایڈہاک ازم کا جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہاں بھی ظاہر ہو رہا ہے۔ پارٹی امور جیسے تیسے چلائے جارہے ہیں۔ پارٹی کو منظم کرنے کی ذمہ داری جن کے ہاتھ میں ہے المیہ یہ ہے کہ ان کے ہاتھ میں کچھ بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں