آج امت ایک ایسے دوراہے پرکھڑی ہے جہاں راستوں کے نشانات مٹ چکے ہیں،اور قافلے کے رہبرسوئے ہوئے ہیں۔ ہمارے گرد یزیدیت کاحصارتنگ ہورہاہے، ہمارے قبلے کی سمت پربادل چھاگئے ہیں،اورہمارے بچوں کی مسکان،ہماری ماں کی چادر،اور ہمارے بزرگوں کاوقاردشمن کے نشانے پر ہے۔ ہم تاریخ کے اس لمحے پرہیں جہاں ہردل یہ سوال کررہاہے،اورآج میں بھی آپ کے سامنے ایک سوال رکھتا ہوں ایساسوال جوآپ کے دل کی گہرائیوں کوہلادے گا۔کیااس امت میں کوئی ابراہیم باقی ہیں؟ابراہیم جنہوں نے تنِ تنہاباطل کے ایوان ہلادیے۔جنہوں نے تن کے پرخچے ہونے کی پروانہ کی مگرایمان کی شمع بجھنے نہ دی۔
اے کاش!کوئی ہوجوآگ کوگلزار بنا دے، کوئی ہوجومندرکے بت توڑدے،کوئی ہوجو طاغوت کے ایوانوں میں اذانِ حق بلندکردے۔ ابراہیم وہ مردِ حق جوباطل کے ایوانوں میں اکیلا کھڑاہوا۔ابراہیم جن کے سامنے نہ بادشاہ کاجلال رکااورنہ آگ کی تپش کاخوف۔خوداللہ گواہی دے رہاہے کہ’’بیشک ابراہیم خودایک امت تھے‘‘۔
ہماری تاریخ گواہ ہے،جب بھی امت پر اندھیرے چھائے،اللہ نے ایک ابراہیم بھیجاکبھی صلاح الدین کی صورت میں،کبھی محمدبن قاسم کی شکل میں،کبھی عمربن عبدالعزیزکی طرح مگرآج ہمارے شہرجل رہے ہیں،ہمارے بچے قبروں میں سورہے ہیں،ہمارے مصلے خون سے رنگین ہیں اور ہم ابراہیم کوڈھونڈرہے ہیں۔ آج ہمارے آنگن میں خوشیاں نہیں ، بین سنائی دیتے ہیں۔غزہ کی گلیوں میں بچوں کے کھلونے مٹی اورخون میں لت پت پڑے ہیں،اور مائیں،اپنے جگرکے ٹکڑوں کوگودمیں لیے،آسمان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہیں۔غزہ میں مائیں اپنے لخت جگرکے لاشے اٹھائے بیٹھی ہیں،مائیں اپنے جگرکے ٹکڑوں کوگودمیں لیے آسمان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہیں کیاکوئی ہے جوہماری پکارسنے؟
یہ سنوغزہ کے ایک آٹھ سالہ بچے،یوسف،نے اپنے زخمی ہاتھ میں ایک کاغذتھام رکھاتھا۔خون اس کے چہرے پرجمی ہوئی مٹی کے ساتھ مل چکاتھا۔اس کاغذ پر صرف تین الفاظ لکھے تھے ’’ماں میں جنت میں جارہا ہوں‘‘۔ مگر اس کی ماں یہ خط کبھی نہ پڑھ سکی۔ یہ وہ خط تھاجواس نے پہلومیں خون میں لت پت اپنی شہید ماں کولکھا۔
کشمیرمیں بیٹیاں اپنے باپ کاسایہ ترستی ہیں،کشمیرکی وادی میں بہتے چشمے اب صرف پانی نہیں، آنسوبہارہے ہیں،وہاں ایک ماں اپنے بیٹے کے جنازے کے پاس کھڑی تھی۔ آنکھوں میں آنسونہ تھے، کیونکہ روناختم ہوچکاتھا۔وہ صرف ایک جملہ دہرارہی تھی:تو میرے شہیدشوہرکی آخری نشانی تھی،توبھی مجھے چھوڑکراپنے باپ اوراپنے تین بھائیوں کے پاس جابساہے۔ میراپیغام لیتاجاکہ میرا عزم آج بھی ویساہی جوان وتروتازہ ہے جیسے میرے ہاتھ میں تیری تربت پررکھنے والے یہ سرخ گلاب کے پھول اورزمین پربسنے والے ان تمام فراعین کے لئے یہ پیغام ہے کہ ابھی ہم جیسی ماں کی گودبانجھ نہیں ہوئیں کہ ان کی نگاہیں اب بھی کسی ابراہیم کی تلاش میں ہیں۔ اور ایک پیغام ان قائدین کے نام بھی ہے جنہوں نے سینکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کا حکم دینے والاقصاب ، اورکشمیری مسلمانوں کے قاتل مودی کے قدموں میں ڈھیر کردی۔
برمااوراراکان میں مسلمانوں کے گھروں کو آگ لگادی گئی،برماکے ساحل پرلٹے پٹے مہاجر، تپتی ریت پرقدم رکھے،نگاہیں آسمان کی طرف اٹھائے کھڑے ہیں۔افریقاکے قحط میں امت کے بچے مٹھی بھر اناج کوترس رہے ہیں اورغزہ میں تواب باقاعدہ بھوک مٹانے کے لئے گولیوں کے ساتھ ان کوہمیشہ کے لئے ختم کیا جا رہاہے،ایک روٹی کے ٹکڑے کے لئے مسلمان بچے دھوپ میں ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں اوردنیاکی طاقتیں کروڑوں ڈالرکے اسلحے پربدمست ہیں۔جب ان بچوں کوروٹی کی بجائے ہمیشہ کی نیندسلایاجارہا تھا تواس وقت قصر سفیدکافرعون اربوں ڈالرسرمایہ کاری کے نام پراپنے ملک کے خزانے کے نام کررہاتھا جہاں ایک مرتبہ پھران اسلحہ سازی کے کارخانوں کاپہیہ تیزی سے چلناشروع ہوگیاہے جو بعد ازاں انہی مسلمان ملکوں کے پرخچے اڑانے کاکام کریں گے۔ اورہم ؟ہم کبھی تیل کی قیمت پرجھگڑتے ہیں،کبھی سرحدی تنازعات میں وقت ضائع کرتے ہیں،کبھی مسلکی بحث میں الجھ کردشمن کوخوش کرتے ہیں۔قرآن ہمیں جھنجھوڑتاہے’’اور سب مل کراللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لواورتفرقہ نہ ڈالو‘‘ اورہم کانفرنسوں کے ہالوں میں تصویریں کھنچواتے ہیں ، قراردادیں پڑھ کرتالیاں بجاتے ہیں،اوراگلے دن سب بھول جاتے ہیں۔
اے مسلمانو!دشمن متحدہے چاہے وہ اسرائیل ہویابھارت،امریکاہویایورپسب ایک صف میں ہیں۔ دشمن نے اپنی صفیں مضبوط کرلی ہیں۔ اسرائیل سے لیکربھارت تک،نیٹوسے لے کر پیسفک اتحادیوں تک، ایک خفیہ اوراعلانیہ منصوبہ جاری ہے اوراس کاایک ہی ہدف ہے،امتِ مسلمہ کاشیرازہ بکھیردینا۔وہ ہمارے وسائل پر قبضہ کرناچاہتے ہیں،ہماری سرحدوں کے نقشے اور ہمارے ایمان کی بنیادتک کوچیلنج کیا جارہا ہے، ہمارے تعلیمی نصاب میں اپنی فکرداخل کرناچاہتے ہیں،ہماری نوجوان نسل کوخواہشات میں الجھا کر اس کا غیرت مندخون سردکرناچاہتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کے محاذپر،وہ ڈرون سے بم برسا رہے ہیں،مصنوعی ذہانت سے ذہن بدل رہے ہیں اور میڈیاسے ہمارے ہیروکوولن اور ہمارے دشمن کو مسیحا بنا رہے ہیں۔کیاآپ جانتے ہیں؟یہ صدی صرف تلواروں کی نہیں،یہ ابلاغ،معیشت،اور ٹیکنالوجی کی صدی ہے۔ ہمارے دشمن ڈرون سے وارکرتے ہیں ، میڈیاسے ذہن مارتے ہیں،اور معیشت سے امت کوغلام بناتے ہیں۔ یادرکھواگر ہم نے اپنے بچوں کے ذہن اورزمین کی حفاظت نہ کی،تووہ دن دورنہیں جب ہماری تاریخ صرف میوزیم میں قیدہوگی۔اگرامت جاگ جائے تویہ سب ہتھیارکاغذی شیربن جائیں۔۔۔۔۔۔!
یہ وقت محض آنسوبہانے کانہیں،یہ وقت کھڑے ہونے کاہے۔ہمیں اب خواب سے اٹھنا ہوگا۔یہ وقت ہے کہ ہم اپنے مسلک،نسل،زبان کے پردے پھاڑکرایک امت کی صورت اختیارکریں۔اس کے لئے ایک جامع، طاقتور اورفیصلوں سے بھرپور اسلامک سمٹ کانفرنس ناگزیرہے ۔ہمیں ایک ایسی اسلامک سمٹ کانفرنس چاہیے جومحض تصویروں اور بیانات کاڈھیرنہ ہو،یہ کانفرنس محض تقریروں کامیلہ نہ ہو بلکہ امت کے وسائل کوجوڑنے کامنصوبہ ہو۔
مشترکہ دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری کااعلان ہو جس میں امت کااپناڈرون،اپناسٹلائٹ،اپنا سائبر ڈیفنس سسٹم ہو۔یقین کریں کہ اس امت میں ایسے ذہین وفطین افراداور سائنس دان موجودہیں جوآئرن ڈوم سے کہیں بہترڈیفنس سسٹم تیارکرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اقتصادی اتحادکے لئے تیل،گیس، زراعت ، اورٹیکنالوجی میں خودکفالت کے منصوبے ہمارے انتظار میں ہیں،میڈیاوارکا مقابلہ کرنے کے لئے امت کی حکمتِ عملی طے کی جائے۔اپنی فلمیں،اپنے چینل، اپنا بیانیہ،جوامت کی عزت اورتاریخ کوزندہ رکھے۔مظلوم خطوں کے لئے عملی حکمتِ عملی تیارکی جائے۔ فلسطین، کشمیر،برما، اراکان،افریقہ ہرمحاذپر امداداور سفارتکاری کے لئے عملی مددکاخاکہ ہو۔یہ سمٹ ایسی ہونی چاہیے جہاں لیڈران فیصلہ کریں، اور امت عمل دیکھے نہ کہ صرف تقریریں اورجواب میں ایسی تذلیل جس میں ہم ڈوبے ہوئے ہیں۔آج ہمیں تلوارسے زیادہ بصیرت کی ضرورت ہے،جذبے سے زیادہ اتحادکی۔ ہمارے دشمن نے ہمارے خواب چرالیے ہیں،مگروہ ہمارا ایمان نہیں چھین سکتابشرطیکہ ہم اسے تھامنے والے ہاتھ مضبوط کرلیں۔
جب دنیاکی آنکھوں کے سامنے معصوم بچوں کے جسم ملبے تلے دم توڑتے ہیں،جب ماں کے آنچل خون سے ترہوجاتے ہیں اور عبادت گاہیں راکھ میں بدل دی جاتی ہیں،توسوال اٹھتاہے کیا انسانیت صرف کتابوں میں رہ گئی ہے؟پاکستان، جس کے پاس ایمان، تاریخ اورایٹمی قوت کا سہارا ہے،کیاصرف تماشائی بن کر بیٹھا رہ سکتاہے؟یاوہ اپنی آوازکوایسی للکارمیں بدل سکتاہے جوظالم کے کان پھاڑدے اورمظلوم کے دل میں امیدکی کرن جگادے؟یہ لمحہ خاموشی کانہیں،ضمیرکے جاگنے کاہے کیونکہ غزہ کی سڑکوں پربہنے والاخون،صرف فلسطینیوں کانہیں،ہماری غیرت کابھی امتحان ہے۔
آج آئے دن ہرروزیہ سوال کیاجاتاہے کہ حالیہ پاک بھارت جنگ میں نیتن یاہواورمودی نے مل کرپاکستان پرحملہ کیا،یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ خود نیتن یاہوعالمی میڈیاپربارہاپاکستان کے ایٹمی پروگرام کوتباہ کرنے یاختم کرنے کے متعدد بیانات دے چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے اپنے ہاروپ خودکش ڈرونزکے علاوہ دیگرہتھیارہندوستان کو نہ صرف فراہم کئے بلکہ پاکستان پرحملوں کے لئے ہاروپ ڈرونزکے آپریٹرز بھی ہندوستان بھیجے جنہوں نے باقاعدہ ہندوستان میں بیٹھ کرپاکستان پرحملے کئے توپھرکیاوجہ ہے کہ پاکستان نے جس سرعت کے ساتھ ہندوستان کے حملے کاجواب دیاتھاتوپھر اسرائیل کوجواب دینے میں کیارکاوٹ ہے؟(جاری ہے)