اس حقیقت کا اشتراک راقم اس سے قبل بھی اپنے قارئین کے ساتھ کرچکا ہے کہ الفاظ کو قلم کے ذریعہ سے کاغذ کے سپر د کرنے کے عمل میں راقم کا ارادہ یا کوئی ’’منصوبہ بندی‘‘ شامل نہیں ہوتی بلکہ جب بھی مشاہدہ میں کوئی ایسی بات آجائے جو دل کے دروازہ پر احساس کی دستک محسوس ہو سپرد قلم کر دی جاتی ہے … اس سوچ اور رویہ کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ پیشہ وارانہ مصروفیات کی وجہ سے مشاہدہ کرنے کا موقع اور وقت بہت کم ملتا ہے جس کا نتیجہ تحریر میں ایک طویل وقفہ کی صورت میں سامنے آتا ہے اور ایسے میں دوستوں کی مسلسل یاددہانی بھی کسی کام نہیں آتی … بہرحال آج الصباح سوچ ہی رہا تھا کہ کس موضوع پر اپنے قارئین سے مخاطب ہونے کا شرف حاصل کرو کہ اچانک عارفہ زہرہ کی ایک انتہائی دلکش اور روح کو چھو جانے والی گفتگو سننے کو ملی جس نے راقم کو اچانک آپ سے مخاطب ہونے کے لئے متحرک کر دیا۔
وہ کہہ رہی تھیں کہ ’’ہمیں زندگی سے خفا ہونے کے بجائے یا زندگی کو راز بناکر جینے کے بجائے یا اپنے خیال میں کم تر ہونے کے بجائے اعتبار سے جی سکیں‘ زندگی کا سب سے اچھا رویہ اعتبار کا رویہ ہے‘ آپ اتنا اعتبار کرسکیں ‘ ایک دوسرے پر کہ اپنا دل اس کے سامنے کھول کر رکھ سکیں‘ جب دل کے دروازے کھلتے ہیں تو رویوں کا زنگ مٹ جاتا ہے‘ روئیے خود بخود دوسروں تک پہنچنے کا راستہ بناتے ہیں یہ جو زندگی میں شرکت ہے‘ ہم نے یہ سوچا ہے پتہ نہیں ہم کمزور ہو جائیں گے ‘ نہیں ہم طاقتور ہوتے ہیں‘ بات اتنی ہے کہ ہمارے اندر کتنی دردمندی ہے‘ ہم کس قدر دوسروں کے قریب جاسکتے ہیں اور ہم کس قدر ان کا دل جیت سکتے ہیں کہ وہ ہم سے بیٹھیں اور بات کریں اس کے لئے ایک مشکل سا لفظ بولتی رہتی ہوں کہ اس معاشرہ سے مکالمہ ختم ہوگیا۔ ہم اپنی بات کہنے کو ترستے ہیں ‘ اکیلے ہوگئے ہیں اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرے میں سے جو مسائل ہیں وہ کم ہوسکیں تو ہمیں ایک دوسرے کے قریب آکر ایک دوسرے سے بات کرنا ہے ‘ بات کرنے سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ رویئے بدلے جاسکیں۔
قارئین کرام! راقم نے مذکورہ بالا گفتگو کو لفظ بہ لفظ اس لئے تحریر کیا ہے کیونکہ شاہد راقم کا انداز بیان ان جملوں اور الفاظ کی اصل روح اور تاثیر آپ تک نہ پہنچا سکے … راقم یہ سمجھتا ہے کہ آج ہم اجتماعی طور پر جن مسائل اور انفرادی طور پر جن مصائب کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی بنیادی وجہ کی نشاندہی مذکورہ بالا الفاظ میں کر دی گئی ہے۔
ہمارے ہاں بچپن سے لڑکپن اور پھر سن شعور تک پہنچنے تک یہ تربیت اور نصیحت کی جاتی ہے کہ دل کی بات کسی کو مت بتائیں… کسی پر اعتبار نہ کریں… ہر ایک کو اپنے معاملات میں شریک نہ بنائیں‘ ہم نے اپنی نوجوان نسل کو اس قدر خوف زدہ کر دیا ہے کہ معاشرے کا ہر فرد دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھتا ہے اور مسلسل اس عمل سے نہ صرف ہمیں ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے بلکہ یہ دوریاں نفرتوں میں تبدیل ہوچکی ہیں۔ جس نے ہمارے سماجی ڈھانچہ کو پارہ پارہ کرکے رکھ دیا ہے۔ ہمارے ریاستی نظام پر ان نفرتوں نے اس قدر منفی اثرات چھوڑے ہیں کہ اس نے عملی طور پر ریاست کے فلاحی کردار کو منقود بلکہ مفلوج کرکے رکھ دیا ہے۔ شک‘ بے اعتباری‘ انتہائی خودغرضی میں لپٹے ان رویوں ہی کا شاخسانہ ہے کہ آج معاشرے کا ہر فرد ذہنی اور نفسیاتی مریض بن چکا ہے۔ وہم اور بدگمانی ہمارے خون میں سرائیت کرچکی ہے ان الفاظ کا استعمال اور اس منفی اظہار خیال کا مقصد محض مرض کی تشخیص ہے جسے مایوسی اور ناامیدی جیسے موذی مرض سے ہمیں دور رکھ کر اپنی اصلاح کرنی ہے۔ اپنی ذات کی صفات میں وسیع القلبی ‘ ذہنی کشادگی اور اعتبار کرنے اور شک نہ کرنے والی سوچ کو شامل کرنا ہے۔ معاشرے کے ہر فرد نے اعتبار او ر محبت کا وہ لازوال رشتہ قائم کرنا ہے جس کے نتیجے میں ہم ایک مہذب‘ روشن دماغ‘ ترقی پسند اور اخلاقی قدروں سے بھرپور معاشرہ کے طور پر جانے جائیں ۔
اس رویئے اور سوچ کو اپنانے سے ہمارے ریاستی نظام کے فلاحی پہلو پر لگا زنگ اتر جائے گا‘ اور ہم مفاد اور اناپرستی‘ لوٹ مار‘ ہوس اور اقتدار کی حجت سے نکل کر ریاستی سطح پر ایسی قیادت لانے اور ان کے ہاتھ میں اپنی نسلوں کے مستقبل کو سونپے کے قابل ہو جائیں گے جو ہر شہری کو اس کے بنیادی حقوق دلاکر ایک ایسے معاشرہ کی تشکیل کرسکے جو ہمارے لئے باعث شرمندگی نہ ہو ۔ بظاہر تو راقم کا یہ نقطہ نظر شائد میرے قارئین کیلئے اتنا پرکشش نظر نہ دکھائی دے رہا ہو اور اسے کسی خواہشات پر مبنی سوچ سے تعبیر کریں مگر راقم کا احساس اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اگر میں اور آپ اپنی شخصیت کی خصوصیات کو بدلنا چاہئیں تو ہم اپنی سوچ اور رویوں پر نظرثانی سے ایسا کرسکتے ہیں … راقم کی یہ سوچی سمجھی رائے ہے کہ آج ہم جن مسائل کا شکار ہیں خصوصاً سماجی اور ریاستی امور کے حوالے سے‘ ان سب میں سے نکلنے اور ان سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا واحد ذریعہ یہی ہے کہ ہم اپنے ذاتی رویوں کا احتساب کریں۔ آج کے جدید ترقی یافتہ معاشروں اور ریاستوں کی کامیابی کا راز محض یہی رہا ہے کہ وہ اپنے مثبت رویوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہے‘ جب انتشار ہو تو پھر معاشرہ بگھر جاتا ہے تو وہ پھر پسماندگی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔
راقم کا اس کے علاوہ کوئی بھی مطمع نظر نہیں ہے کہ میں اور آپ اپنی اپنی کوتائیوں پر نظر ڈالیں اپنے طرز عمل اور سوچ پر نظرثانی کریں اور پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم اپنی سمت کو درست کرلیں۔ یہی راہ نجات ہے اس دنیا میں اور آنے والی زندگی میں بھی۔