وہ قومیں ہمیشہ عروج پاتی ہیں جہاں مساوات کا اصول اپنایا جاتاہے‘ سماجی و عدالتی انصاف ہوتاہے اور احتساب کا نظام بلاتفریق ہر شہری پر یکساں لاگو ہوتاہے۔ برطانیہ اس کی ایک روشن مثال ہے ۔ یہ وہ ملک ہے جہاں ہرشہری کوآگے بڑھنے کے یکساں مواقع دستیاب ہیں۔ ریاست اور معاشرہ اُچھال کی قوت رکھتاہے۔ جس فرد میںٹیلنٹ ہوگا وہ اوپرکو اُبھرے گا اوراپنے شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرے گا۔ سیاست سب سے مشکل شعبہ سمجھا جاتاہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں سیاست سے مقام پانے کیلئے ڈھیر سارا سرمایہ اوربڑا خاندان اور فارغ وقت پیشگی شرائط ہیں‘ شخصی خصوصیات کسی کھاتے میں نہیں آتیں۔ اس کے مقابلے میں برطانیہ میں سیاسی مقام پانے کیلئے کسی فرد کی محنت اورخصوصیات سب سے اہم عنصر شمارکی جاتی ہیں۔ ایک موقع پر برطانیہ سے منتخب ہونے والے یورپی پارلیمنٹ کے رکن سجاد کریم نے راقم الحروف کوبتایاتھاکہ کیسے و ہ برطانیہ کی کنزرویٹو پارٹی کیلئے کام کرناشروع ہوئے اور انہوں نے بتدریج پذیرائی حاصل کی۔ سجاد کریم کس طرح دیگر کئی پاکستانی برطانیہ کی پارلیمنٹ او ر ہائوس آف لارڈز کے ممبر بنے۔ سعیدہ وارثی کنزرویٹو پارٹی کی چیئرپرسن بنی اور وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کی کابینہ میں شامل ہوئیں۔ ان کے والد صفدر حسین پاکستان کے شہرگوجر خان کے ایک گائوں بیول سے مزدورکی حیثیت میں ہجرت کرکے برطانیہ گئے تھے۔ لندن کے میئر صادق خان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہ2016 ء سے لندن کے میئر منتخب ہوتے آرہے ہیں۔ قبل ازیں وہ ٹوٹنگ کے علاقے سے ممبر آف پارلیمنٹ منتخب ہوتے رہے۔ اسی طرح شبانہ محمود کی صور ت میں آج ایک اورروشن مثال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ شبانہ محمود برطانیہ ِکی ہوم سیکرٹری یعنی وزیر داخلہ بن گئی ہیں۔ وہ منتخب رکن پارلیمنٹ ہیں‘ گزشتہ سال ممبر پارلیمنٹ منتخب ہونے کے بعد وہ جسٹس سیکرٹری رہیں اور اس دوران انہوں نے جیلوں میں ریفارمز کیلئے نمایاں کرداراداکیا۔ شبانہ محمود کے والدین پاکستا ن سے تعلق رکھتے ہیں۔ میرپور آزاد کشمیر سے برطانیہ گئی ہوئی اس فیملی کو برطانیہ کے معاشرتی نظام نے عزت اور مرتبہ عطاکیا۔ آج شبانہ محمود برطانیہ کی ہوم سیکرٹری ہے‘ یہ اعزاز شبانہ محمودکیلئے بھی غیرمعمولی ہے اور تمام اہلیان پاکستان کیلئے بھی یقینی طور پر باعث فخر ہے۔ ہم پاکستانیوں سے زیادہ فخر اہل برطانیہ کو ہونا چاہیے جو اپنی سوسائٹی میں رہنے والے ہر فرد کو اچھی زندگی گزارنے اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرتے ہیں۔ گورے اور کالے کی تمیز کرناہماراشعار تھا لیکن انہوں نے یہ فرق ختم کرکے دکھا دیاہے۔ نسل پرستی کے اکا دکا واقعات کے علاوہ برطانوی سوسائٹی نسلی تفاخر او ر تفریق سے بالاتر ہوچکی ہے قطع نظر کہ کون کہاں سے آیا ہے اور اس کے والدین کون ہیں اور اس کا رنگ اورنسل کیاہے معاشرہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ فرد کااپنا کریکٹر کیاہے اورکسی کام کونبھانے کیلئے اس میں کیا خاص خوبیاں پائی جاتی ہیں۔
برطانیہ میں احتساب کا بھی بڑا تگڑا نظام ہے۔ یہ ہمارے ہاں کے روایتی نام نہاد احتساب بیورو سے زیادہ خوداحتسابی پرمبنی نظام ہے جہاں عوام پہرا دیتے ہیں اورعوامی نمائندوںکوعوامی تنقیدکے آگے سرتسلیم خم کرنا پڑتاہے۔ ہم نے بیرونس سعدیہ وارثی کی مثال پیش کی تھی کہ کیسے وہ آگے بڑھیں اور انہوں نے پارٹی کی اعلیٰ ترین پوزیشن حاصل کی۔ یہی سعیدہ وارثی تھیں جنہوںنے کرایہ کی آمدنی لارڈ رجسٹر آف انٹرسٹ میں ظاہر نہ کرنے پرمعافی مانگی۔2012 ء میں سعیدہ پر پارلیمانی اخراجات کے کلیم پر تنقید ہوئی۔ ان کی طرف سے2000 پونڈ کاکرایہ کلیم سامنے آیا جبکہ یہ معلوم ہوا کہ وہ ایک کنزرویٹو وافق مصطفی کے لندن گھر میں بغیرکرایہ کے رہ رہی تھیں‘ برطانیہ میں اس طرح کی حرکت ناقابل قبول ہے۔ سعیدہ کو اس پر معافی مانگنی پڑی۔ پاکستان میں اس طر ح کی معمولی خلاف ورزیوں کو نہ کوئی اہمیت دیتاہے اور نہ ہی اس کا نوٹس لیا جاتاہے جبکہ برطانیہ میں ایسی حرکتوںپرمعافی بھی مانگی جاتی ہے‘ ہرجانہ بھی دینا پڑتاہے اور استعفیٰ دینے کی نوبت بھی آجاتی ہے۔ ابھی حال ہی میں ڈپٹی پرائم منسٹر انجیلارینر کو اس لئے استعفیٰ دینا پڑا کیونکہ انہوں نے اپنے فلیٹ کی اشٹام ڈیوٹی مکمل ادا نہ کرکے وزارتی کوڈ کی خلاف ورزی کی تھی۔ انجیلانے وزیراعظم کے نام اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ انہیں اس بات کا افسوس ہے کہ وہ وزیرکی حیثیت سے اعلیٰ ترین سٹینڈرڈز قائم رکھنے میں ناکام رہیں۔ انجیلا استعفیٰ نہ بھی دیتیں تو ان کی مرضی تھی کیونکہ وزارتی کوڈ کی خلاف ورزی پر ان سے استعفیٰ مانگا نہیں گیاتھا اور نہ اس پر عوامی تقاضاتھا لیکن انہوں نے اپنے آپ کو اوراپنی فیملی کو شرمندگی سے بچانے کیلئے استعفیٰ ضروری سمجھا۔ برطانیہ میں اراکین پارلیمنٹ اپنی ساکھ کاکتناخیال رکھتے ہیں یہ اس کی ایک مثال ہے ۔
2009 ء میں وزیراعظم گورڈن برائون‘ اپوزیشن لیڈر ڈیوڈ کیمرون اورپارلیمنٹ کے اکثر اراکین کو اس وقت شدید عوامی تنقید کاسامنا کرنا پڑا جب ان کی جانب سے اپنی رہائش گاہوں کی باغبانی اور صفائی وغیرہ کی مد میں زیادہ کلیم کیاگیا۔ واضح رہے کہ برطانیہ میں ایساکوئی قانون موجود نہ تھا جو اراکین پارلیمنٹ کے لئے باغبانی اور صفائی کی مد میں ہونے والے اخراجات کی حد مقرر کرتاہو‘ عوامی شور و غوغا اس تناظر میں ہواکہ اراکین پارلیمنٹ نے جو اخراجات کلیم کیے ہیں وہ عام روٹین سے ہٹ کر ہیں۔اس پر ایک آڈیٹر کاتقرر کیا گیا جس نے ایک حد سے زیادہ ہونے والے اخراجات کو عوامی خزانے پر بوجھ قراردیا اور اسے جمع کروانے کیلئے کہا۔ اراکین پارلیمنٹ میں سے کچھ نے اس پر سوال اٹھایا کہ یہ ’’آڈیٹر‘‘ تو پارلیمنٹ کے اختیارات استعمال کر رہاہے۔ وزیراعظم گورڈن برائون نے اس موقع پر کہاکہ آج مسئلہ یہ نہیں ہے کہ یہ شخص (آڈیٹر) نئی قانون سازی کررہاہے ‘ آج مسئلہ پارلیمنٹ کی ساکھ کاہے جسے ہمیں ہر صورت بچانا ہوگا۔ گورڈن برائون نے سب سے پہلے اپنے ذمہ بننے والی واجب الادا رقم خزانے میں جمع کروائی‘ اپوزیشن لیڈر ڈیوڈ کیمرون نے ان کی پیروی کی اس کے بعد تمام ممبران پارلیمنٹ نے اپنے آپ کو ا س الزام سے آزاد کروایا کہ انہوںنے برطانوی شہریوں کے معمول سے زیادہ اخراجات باغبانی اور صفائی کی مد میں کئے ہیں۔ یہ ہوتی ہیں قومیںجوعروج پاتی ہیں۔ جہاں عوام کے منتخب نمائندے اعلیٰ ترین سٹینڈرڈز کی پاسداری کرتے ہیں اور باقی قوم کیلئے مثال بنتے ہیں۔