Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

یہ وردی… ہمارا مان

دنیا یوں ہی افواج پاکستان کی شجاعت اور جذبہ حب الوطنی کی معترف نہیں ہے۔ اس کا ایک ایک جوان دفاع وطن پر جانیں نچھاور کرنے کے لئے ہمیشہ سر پرکفن باندھے رکھتا ہے۔ اس کا مطمع نظر صرف اور صرف شہادت کے منصب پر فائز ہونا ہوتا ہے۔ شائد ہی کوئی ایسا دن جاتاہو جس میں شہادتوں کا تسلسل برقرار نہ رہا ہو۔ ابھی وطن عزیز میں کیپٹن تیمورحسن شہید کی شہادت زبان زد عام تھی کہ گزشتہ دنوں میجر عدنان اسلم شہید کی حیرت انگیز شہادت نے دیکھنے اور سننے والوں کو حیران جبکہ ہندوستان کی افواج اور عوام کو معرکہ المرصوص کے بعد ایک بار پھر ایک انجانے خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ میجر عدنان اسلم شہید ایس ایس جی کے کمانڈو تھے۔ ان کی شہادت نے ملک کی دفاعی تاریخ میں ایک انمٹ اور صدیوں یاد رکھے جانے والے باب کا اضافہ کر دیا ہے۔ پاک فوج کا ایک افسر اپنے ساتھی جوان کی جان بچاتے ہوئے اپنی جان پر کھیل گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو نے پچیس کروڑ پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ میجر عدنان اسلم شہید کی شہادت نے ملک و قوم کو یہ پیغام دیا ہے کہ یہ جان تو آنی جانی ہے اور اگر یہ وطن کی سلامتی کی راہ پرچلتے ہوئےچلی جائے تو اس سے بڑااعزاز اورکیاہوگا۔ شہادت کے رتبے پرفائز ہونے والے سپوت تاریخ اور دلوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتے ہیں۔ افواج پاکستان کی لازوال اور ناقابل فراموش قربانیاں تاریخ کاحصہ ہیں اب تک کون سا ایسا معرکہ ہے جس میں پاک فوج نے دشمن اور خارجیوں کو ناکوں چنے نہ چبوائے ہوں۔ ہندوستان ابھی تک معرکہ المرصوص کے زخم چاٹ رہا ہے اور انشاء اللہ ہمیشہ چاٹتا رہے گا۔ میجر عدنان اسلم شہید نے جس طرح اپنے ساتھی جوان سے لپٹ کر اس کی جان بچانے کی کوشش کی ہے اس نے وڈیو دیکھنے والوں کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ بدبخت اور جہنمی خارجی میجر عدنان اسلم شہید پر اندھا دھند گولیاں برسا رہاہے اور شہید میجر ہر زاویے سے اپنے ساتھی کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کررہے ہیں اور کیا مجال ہے کہ کسی کو یہ احساس ہوا ہو کہ میجر عدنان اسلم شہید کا جذبہ ایمانی ایک لمحے کے لئے بھی متزلزل ہوا ہو۔ افواج پاکستان کے ایک جوان سے لے کر سپہ سالار اعلیٰ تک کی ایک ہی سوچ ہے۔ شہادت‘ شہادت اور صرف شہادت ۔ جو بشر دنیا میں آیا ہے اس نے اپنی باری آنے پر اسے الوداع بھی کہنا ہے اور اگر یہ … وداعی… شہادت میں بدل جائے تو پھر اس سے بڑی خوش بختی اور کیا ہوگی۔دنیا بھی حاصل ہوگئی اور آخرت بھی سنور گئی۔ اہل وفا کی داستانوں میں نام یوں ہی تو نہیں آجاتے۔ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ملک و قوم سے کیا گیا عہد حقیقی معنوں میں افواج پاکستان ہی نبھاتی ہیں۔ جو اپنے سینوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کھا کر انپے ملت کی پاسداری کرتی ہیں۔ سرد ترین راتوں میں‘ تپتی دوپہروں اور گلیشئر کی خون منجمد کر دینے والی یخ بستہ ہوائوں میں بھوک پیاس سے بے نیاز‘حصول مقصد‘وطن کی سرحدوں کا دفاع۔ شجات اور قربانیوں کی داستانیں لکھتےلکھتے شائد قلم کی سیاہی خشک ہو جائے‘ ہاتھ شل ہو جائیں‘صفحہ قرطاس ختم ہوجائےلیکن یہ داستان ختم نہ ہو۔ پاک فوج کی یونیفارم کا رنگ بھی شائد اس لئےخاکی رکھاگیاہے کہ جس جسم پر یہ سجائی گئی ہے اس نے ایک دن شہید ہوکرخاک نشین ہونا ہے۔ شہادت حاصل کرنے والے خوش بخت جنت مکین ہو جاتے ہیں لیکن ان کے والدین‘ بہن بھائیوں اور عزیز و اقارب کا حوصلہ اور صبرانسان کو حیرت زدہ کردیتا ہے۔ کڑیل جوان بیٹےکی موت کا صدقہ برداشت کرنے کے لئے سیر کلیجہ چاہیے۔ یہ دکھ دلوں کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔ میجر عدنان اسلم شہید کے والدین محترم نے صحت کی خرابی کے باوجود واکر کے سہارے چلتے ہوئے جس حوصلے کے ساتھ سوگواران میں شامل ہوکر اپنے جذبات کا اظہار کیا اس نے سوگواران کی آنکھیں اشک بار کر دیں۔ فضا پاکستان زندہ باد‘ پاک فوج زندہ باد کےگرجدار نعروں سے گونج اٹھی‘میجر عدنان اسلم شہید کا مرقد پھولوں سے ڈھکا ہوا ہے۔ گردونواح میں بھی بھینی بھینی سی خوشبو پھیلی ہوئی ہے۔
میجرعدنان اسلم شہید کے والد محترم تعزیت کے لئے آنے والوں سے گزارش کررہے ہیں کہ ان سے اظہار تعزیت کرنےکےبجائے مبارکباد دیں۔ شہید میجر کا ایک پیغام بھی سوشل میڈیا پر گردش کررہا ہےجس میں وہ اپنے ساتھی جوان کی خیریت دریافت کررہے ہیں۔ میجر عدنان اسلم شہید نے اپنے اعلیٰ فوجی حکام سے یہ التجا بھی کی ہے کہ جب تک دہشت گردی کا مکمل خاتمہ اور ایک ایک خارجی جہنم واصل نہ ہو جائے یہ جنگ جاری رکھی جائے۔
یہ پاک فوج کے جوانوں کی قربانیوں کا ہی ثمر ہے کہ گزشتہ روز تحصیل باجوڑ کے علاقے کو دہشت گردوں کے ناپاک وفود سے مکمل پاک کر دیا گیا ہے اور علاقہ مکین سجدہ ریز ہوکر اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں‘ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ۔
ملے گا سب کچھ
پر ہم نہ ملیں گے

یہ بھی پڑھیں