میں آج بہت خوش ہوں۔ میری خوشی کا اظہار شائد الفاظ میں ممکن نہ ہو لیکن میں آج بہت خوش ہوں۔ اس لئے بھی کہ میں ان لوگوں میں شامل ہوں جنہوں نے مسلمان امت کے اتحاد کا خواب دیکھا ہے‘ اس کے بارے میں لکھا ہے اور اس حوالے سے ہمیشہ دعا گو رہتا ہوں اور اس لئے بھی کہ سعودی ولی عہد نے میری توقعات کے عین مطابق سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک کو درپیش چیلنج کے لئے تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ میں نے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ موجودہ حالات میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو مسلم دنیا کی قیادت سنبھالنی ہوگی۔ میں خوش ہوں کہ انہوں نے امت مسلمہ کے دفاع کے لئے پاکستان کا انتخاب کیا ہے۔
پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کا مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک انتہائی پیش رفت ہے جس کے اثرات عرب خطے سمیت پوری مسلم دنیا پر پڑیں گے۔ اس دفاعی معاہدہ کے تحت پاکستان و سعودی عرب ایک دوسرے کے دفاع کے ذمہ دار بن گئے ہیں‘ ایک ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا لہٰذا سعودی عرب کی طرف بڑھنے والے ناپاک قدموں کو پاکستان اپنی پوری قوت کے ساتھ روکے گا اور پاک سرزمین پاکستان کی طرف میلی آنکھوں سے دیکھنے والے کسی ناپاک ملک کی آنکھیں سعودی عرب پھوڑے گا۔ یہ محض ایک معاہدہ نہیں ایک ایسے مقدس سفر کی شروعات ہے جو مسلم دنیا کو معاشی اور دفاعی لحاظ سے ایک ایسی لڑی میں پرونے کا سبب بنے گا جس کا خواب مسلمان امت ایک عرصے سے دیکھ رہی ہے۔ سعودی حکمرانوں کی بصیرت ہر دور میں قابل رشک رہی ہے وہ وقت اور حالات کے مطابق بہترین فیصلہ کرنے میں ماہر ہیں۔ عرب بہار میں انہوں نے بروقت ایسے اقدامات اٹھائے جن کی وجہ سے سعودی عرب اس انتشار اور بدامنی سے بچ گیا جو دیگر عرب ممالک کا مقدر بنیں۔ یمن جنگ کا آغاز تو موجودہ حکمران خاندان کے عہد میں ہوا۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی عرب کو بیرونی و اندرونی خلفشار سے بچایا۔ مسلمانوں اور اسلام کی دشمن قوتیں سعودی عرب کو بھی اس حشر سے دوچار کرنا چاہتی تھیں جس کا مظاہرہ مصر‘ لیبیا‘ شام اور یمن میں دیکھنے میں آیا۔ یمن جنگ میں پاکستان نے اگرچہ سعودی عرب کا ساتھ نہ دیا لیکن سعودی عرب 10عرب ممالک کی حمایت کے ساتھ یمن پر حملہ آور ہوگیا اور اس سازش کا قلع قمع کیا جس کا مقصد سعودی عرب کو غیر مستحکم کرنا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں سردمہری دیکھنے میں آئی۔ نواز شریف کا سعودی حکمران خاندان سے ہمیشہ اچھا تعلق رہا لیکن نجانے کیوں وہ اس اہم موڑ پر سعودی عرب کا ساتھ دینے کی بجائے معاملہ پارلیمنٹ میں لے گئے اور فوج کو سعودی عرب نہ بھجوانے کا جواز پیدا کیا۔
راقم الحروف ان لکھنے والوں میں شامل تھا جنہوں نے اس وقت بھی اپنے کالموں کے ذریعے سعودی عرب میں فوج بھیجنے کی حمایت کی تھی۔ پاکستان اور سعودی عرب اول دن سے ہی اخوت کے مضبوط رشتے میں بندھے ہوئے ہیں‘ ہر نازک وقت میں سعودی عرب نے پاکستان کی مدد کی ہے اور کبھی ہمیں مایوس نہیں کیا ہے۔ پاکستانی بھی سعودی عرب سے بے پناہ محبت کرتے ہیں اور سعودی عرب کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ ان تعلقات کا مضبوط سے مضبوط تر ہونا نہ صرف پاکستان اور سعودی عرب کے مفاد میں ہے بلکہ یہ امت مسلمہ کی طاقت کا باعث بھی ہے۔
آج سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ کرکے وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اپنے بھائی نواز شریف کی غلطی کا کفارہ ادا کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قطر میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں اکٹھے شرکت کرنا ایک غیر معمولی سرگرمی کے طور پر دیکھا جارہا تھا‘ یقینی طور پر قطر میں بھی پس پردہ وعدے و عید ہوئے ہوں گے جو آنے والے دنوں میں آشکار ہوں گے اور اندازہ ہوگا کہ عرب ممالک کے دفاع میں پاکستان کا کردار کتنی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے لیکن بات صرف یہاں تک رکنی نہیں چاہیے۔ تمام خلیجی ممالک ترکی اور ایران کو دوسرے مرحلے میں اس دفاعی معاہدے کا حصہ بنایا جانا چاہیے جبکہ تیسرے مرحلے میں تمام مسلمان ممالک کو نیٹو کی طرز پر مشترکہ دفاعی معاہدہ کرنا چاہیے۔ تمام مسلمان ممالک کے اتحاد سے اس ’’ضروری قوت‘‘ کا حصول ممکن ہوسکے گا جو پائیدار امن کی ضامن بنے گی۔ مسلمان ممالک کو جس بیرونی خطرے کا سامنا ہے۔ اس کی طاقت کا حجم بہت زیادہ ہے چنانچہ ایک دو ممالک کے اتحاد سے کام نہیں چلے گا۔ مسلم دنیا کو اپنا مستقبل محفوظ بنانا ہے‘ اپنے بچوں اور بوڑھوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے اور مسلمان دنیا میں بربریت اور قتل و غارت گری روکنی ہے تو انہیں وسیع تر اتحاد قائم کرنا ہوگا۔ اس وسیع تر اتحاد کی صورت گری اور او آئی سی یا عرب لیگ کی طرز پر نہیں بلکہ یورپی یونین کی طرز پر ہوگی تو مطلوبہ نتائج حاصل ہوں گے۔ مجھے یقین ہے کہ سعودی قیادت اس حوالے سے غور و فکر کرے گی کیونکہ مسلمان ممالک کو درپیش مسائل کا مستقل اور دیرپا حل یہی ہے۔ پاک سعودی عرب دفاعی معاہدہ خدا کرے کہ مسلمان دنیا کے وسیع تر دفاعی اور معاشی اتحاد کی بنیاد ثابت ہو۔ اللہ تعالیٰ پاکستان اور سعودی عرب کا حامی و ناصر ہو(آمین)