گزشتہ کالم جو پاکستان سعودی عرب دفاعی معاہدہ کے حوالے سے لکھا گیا تھا جس میں مسلمان ممالک کے اتحاد کے حوالے سے میں نے لکھا تھا کہ جب تک تمام مسلمان ممالک کا اتحاد نہیں ہوتا وہ اس ’’ضروری قوت‘‘ سے محروم رہیں گے جس کی انہیں اشد ضرورت ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوا کہ آخر یہ ’’ضروری قوت‘‘ کیا ہے۔ اس کا ایک آسان جواب یہ ہے کہ مسلمان ممالک کے لئے ضروری قوت ایک ایسی معاشی و دفاعی طاقت کا حصول ہے جو دفاعی لحاظ سے انہیں ناقابل تسخیر بنا دے اور معاشی لحاظ سے انہیں خودکفیل بنا دے۔ کوئی اکیلا مسلمان ملک اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو ان دو حوالوں سے مکمل سمجھ سکے۔ کوئی ملک دفاعی لحاظ سے کمزور ہے اور کوئی معاشی لحاظ سے‘ ہر مسلمان ملک کے لئے الگ الگ چیلنجز کھڑے کر دئیے گئے ہیں جن سے نبرد آزما ہونا اکیلے ملک کی بات نہیں ہے۔ جب ہم مسلمان ممالک کے اتحاد کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت ہمارے سامنے وہ تمام چیلنجز ہیں جن کا مسلمان دنیا کو سامنا ہے۔ ان چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان ممالک معاشی لحاظ سے اس قابل ہو جائیں کہ انہیں اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے کسی دوسرے ملک کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ اسی طرح دفاعی اعتبار سے مسلمان ممالک اتنے مضبوط ہوں کہ کوئی دوسرا ملک ان پر حملہ آور نہ ہوسکے۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ معاشی‘ دفاعی لحاظ سے مسلمان ممالک اس وقت کہاں کھڑے ہیں اور ’’ضروری قوت‘‘ کے حصول کے لئے انہیں کیا کرنے پڑے گا۔
مسلمان ممالک میں دنیا کی 23فیصد آبادی رہتی ہے لیکن معاشی لحاظ سے ان ممالک کی گراس ڈومیسٹک پراڈاکٹ اکیلے ’’امریکہ‘‘ سے بھی کم ہے۔ مسلمان ممالک کی جی ڈی پی 2024 کے اعدادوشمار کے مطابق 24کھرب ڈالر ہے جبکہ امریکہ کی جی ڈی پی 29کھرب ڈالر سے زیادہ ہے۔ مسلمان ممالک کی آمدنی کا دنیا کی آمدنی سے کوئی مقابلہ نہیں ‘ ہماری افرادی قوت اور زمینی رقبہ بالترتیب 23فیصد اور 24.3 فیصد ہے لیکن آمدنی کے لحاظ سے ہم دنیا کی آمدنی کا صرف 6 فیصد کما رہے ہیں۔ دنیا کی تجارت میں بھی ہمارا حصہ ایک یا دو فیصد ہے۔ یوں معاشی لحاظ سے ہم دنیا کے مقابلے میں بہت پیچھے ہیں۔ اپنے آپ کو دنیا کے معاشی مقابلے میں لانے کے لئے مسلمان ممالک کو آپس میں معاشی اتحاد کرنا ہوگا جس طرح یورپی اقوام نے آپس میں یورپی یونین بنا کر کیا۔یورپی ممالک نے وسیع تر معاشی سرگرمیوں کے لئے اور یورپی عوام کی وسیع تر نقل و حرکت کے لئے اپنے بارڈز کھول دئیے ہیں‘ مسلمان ممالک کو بھی ایک دوسرے پر معاشی انحصار بڑھانے کے لئے بتدریج اپنی سرحدیں کھولنی ہونگی۔
اسلامی مشترکہ مارکیٹ کے قیام سے ایک ایسی معیشت کی بنیاد رکھنی ہوگی جو ایک دوسرے مسلمان ممالک پر انحصار کرنے والی ہو۔ مشترکہ ٹریڈ پالیسی کی بدولت مسلمان ممالک ایک جیسی مصنوعات کی پیداوار کی بجائے مختلف النوع پراڈاکٹس کی تیاری کریں جو آپس میں مقابلہ والی نہ ہوں بلکہ کمپلیمنٹری پراڈاکٹس ہوں۔ اس وقت مسلمان ممالک کے درمیان تجارت اس لئے نچلی سطح پر ہے کیونکہ مسلمان ممالک ایک جیسی پراڈاکٹس پیدا کر رہے ہیں‘ جس کا دوہرا نقصان ہو رہا ہے۔ تجارت میں کمی ہے اور دوسرا مسلمان ممالک کے درمیان مقابلے کی فضا ہے۔ مسلمان ممالک کی زیادہ تر پیداوار زراعت اور خام تیل کے ساتھ منسلک ہے۔ تیل پر انحصار کرنے والی ریاستوں کو اپنی معاشی بنیاد تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس طرح کہ سعودی عرب نے کی ہے۔
مسلمان ممالک کے اتحاد سے جہاں مسلمان ملکوں کے اکنامکس بیس کو وسعت ملے گی وہیں بین الاقوامی تجارت کے لئے محفوظ تجارتی راستہ کھل جائے گا۔ مغرب اور مشرق کے مابین تجارت کی قدیم گزرگاہ مسلمان ممالک کی سرزمین رہی ہے۔ سمندری تجارت کا فروغ سلطان محمد فاتح کی قسطنطنیہ فتح کے بعد ہوا قبل ازیں مغرب کی تجارتی گزرگاہ براستہ ترکی‘ ایران ‘پاکستان اور وسطیٰ ایشیاء چین تک جاتی تھی۔
مغربی ممالک اس روٹ کو استعمال نہ بھی کرنا چاہیں تو چین اس تجارتی گزرگاہ کو لازمی استعمال کرتا رہے گا۔ چین کو اپنی بندرگاہ سے مشرق وسطیٰ پہنچنے کے لئے تقریباً 12ہزار کلو میٹر کا سمندری راستہ طے کرنا پڑتا ہے جبکہ کاشغر گوادر موٹروے کی تعمیر کے بعد یہ فاصلہ محض 2 ہزار کلو میٹر رہ جائے گا۔ چین کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ابھی زمینی راستے کی اشد ضرورت ہے۔ امریکہ اور جاپان کے بعد چین سب سے زیادہ تیل امپورٹ کرنے والا ملک ہے۔ مسلمان سرزمین کے ساتھ دوسری بڑی منڈی ہندوستان کی ہے۔ مسلمان دنیا میں استحکام نہ صرف مسلمان ممالک کی باہمی تجارت میں فروغ کا باعث بنے گا بلکہ عالمی تجارت میں مسلمان ممالک کا کلیدی کردار ہوگا۔
جس طرح مسلمان ممالک کے پاس خام تیل اور گیس ایک بڑی معاشی طاقت جو سیاسی لیوریج کا باعث بن سکتی ہے اسی طرح مسلمان ممالک کا اتحاد بین الاقوامی سمندری تجارت کو کنٹرول کرکے اپنے رسوخ کو بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔ مسلمان ممالک سمندری تجارت کے حوالے سے چار انتہائی اہم میری ٹائم پوزیشنوں پر اپنی گرفت مضبوط کرسکتے ہیں۔ بین الاقوامی تجارت کی یہ اہم تزویراتی پوزیشنز جبرالٹر‘ نہرسویز‘ باب المندب اور آبنائے ہرمز ہیں۔
وقت آگیا ہے کہ مسلمان ممالک ان خطوط پر سوچیں اور بلاتاخیر عملی اقدامات اٹھائیں۔ مسلمان ممالک معاشی و سیاسی طور پر متحد ہوگئے تو دنیا میں دیرپا امن قائم ہوگا۔ مسلمان ممالک اپنی خودمختاری قائم رکھتے ہوئے ’’لیگ آف نیشنز‘‘ کی طرز پر سیاسی اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔ یہ اتحاد انہیں وہ ’’ضروری قوت‘‘ فراہم کرنے کا باعث بنے گا جو معاشی لحاظ سے انہیں خودکفیل‘سیاسی لحاظ سے مستحکم اور دفاعی لحاظ سے انہیں ناقابل تسخیر بنا دے گا۔