کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی نے مطالبات کی جو فہرست دی ہے اس میں کیا بات ایسی تھی جو یوں جنگ و جدل کا ماحول بنا دیا گیا ہے۔ حکمران اشرافیہ کی مراعات کا خاتمہ ‘ موبائل کمپنیوں کی لوٹ مار ‘ فری یکساں تعلیم‘ انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا قیام‘ لکڑی سمگلنگ کی روک تھام‘ پینے کے صاف پانی کی فراہمی‘ آزاد جموں کشمیر ایکسپریس وے کا قیام اور آزاد جموں کشمیر بینک کو شیڈول بینک کا درجہ دینے جیسے مطالبات کیا غلط مطالبات قرار دیئے جاسکتے ہیں‘ غلط کجا ان سے اختلافات کرنا بھی عجیب لگتا ہے۔ یہ جائز مطالبات ہیں البتہ مہاجرین کی اسمبلی نشستوں کا خاتمہ اور ملازمتوں میں مہاجرین مقیم پاکستان کے کوٹہ کا خاتمہ وغیر ہ جیسے مطالبات قابل بحث ہیں اور ان کا کوئی حل ڈھونڈا جاسکتا ہے۔ عرصہ دراز سے مہاجرین کی اسمبلی نشستوں پر عوامی تحفظات رہے ہیں‘ ان نشستوں پر ہونے والے انتخابات ہمیشہ متنازع رہے کیونکہ پاکستان کی حکومتیں ان پر بری طرح اثر انداز رہی ہیں۔ اگر آزاد کشمیر کے اندر اس انتخابی گڑبڑ کے خلاف عوامی غم و غصہ شدید صورت اختیار کرگیا ہے تو اس کا تسلی بخش حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ناکہ تشدد کا راستہ اختیار کرکے حالات بگاڑ دیئے جائیں۔
پاکستانی حکمرانوں کا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ انہوں نے کبھی کسی مسئلے کی سنگینی کا ادراک نہیں کیا جب تک کہ لوگ احتجاج کیلئے سڑکوں پر نہ نکل آئیں۔ احتجاج کو بھی پہلے ہاتھ دبانے کی کوشش کی جاتی ہے اور تشدد کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ جب معاملہ زیادہ بگڑ جاتا ہے تو پھر مصالحت یا کمپرومائز کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کشمیر میں گزشتہ سال بجلی کے بلوں کے خلاف ریاست بھر میں جس طرح کی تحریک برپا ہوئی اس کے نتیجے میں بجلی کی قیمت3 روپے فی یونٹ مقرر ہوئی‘ یہاں پاکستان میں لوگ چیختے چلاتے رہ گئے لیکن عوام کو 300 یونٹ تک ریلیف مہیا نہ کیا گیا ۔ اس سے تاثر پیدا ہوا جس کا اظہار سوشل میڈیا پر سامنے بھی آیا کہ یہ حکومت فریاد نہیں سنتی۔ گزشتہ تین سالوں میں پاکستان کے اندرونی حالات بہت بگڑے ہیں جس کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں ڈالی جاسکتی‘ موجودہ حکومت کے کارپردازان جو گزشتہ تین سالوں سے اقتدار پر قابض ہیں اس بگاڑ کے برابر ذمہ دار ہیں۔
دشمن قوتوں نے چار اطراف سے پاکستان کو گھیر رکھا ہے اور ہم مسئلے کی سنگینی سمجھنے سے قاصر ہیں۔ طاقت کا استعمال تمام مسائل کا حل نہیں ہوتا‘ طاقت وہاں استعمال کی جانی چاہیے جہاں اس کا استعمال ناگزیر ہو جائے۔ قومی اتفاق رائے کی صورت میں اور یہ اتفاق رائے پیدا ہوتے ہم نے دیکھا ہے جب طالبان سوات تک چڑھ آئے اور جب آرمی پبلک سکول کے معصوم طلبہ پر بربریت کا بازار گرم کیا گیا۔ قوم متحد ہوئی اور اس ناسور کا خاتمہ ممکن ہوسکا۔ آج بھی جہاں ضرورت ہے وہاں قومی اتفاق رائے پیدا کرکے طاقت استعمال کی جائے لیکن ہر مسئلے کو طاقت کے زور پر حل کرنے کی پالیسی فی الفور ترک کی جائے۔ وہ بلوچستان کا مسئلہ ہو یا خیبرپختونخواہ کے قبائلی علاقوں میں تیزی سے پھیلتی ہوئی بدامنی کا معاملہ ہو ‘ حد درجہ احتیاط اور فہم و فراست کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ کشمیر میں ابھرتی ہوئی آوازوں پر بھی حوصلے اور سنجیدگی کے ساتھ کان دھرنے کی ضرورت ہے۔ یہ بے چینی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بھی ہوسکتی ہے۔ کشمیر میں اس طرح کی صورتحال پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔ گزشتہ تین سالوں میں دیگر پاکستان کی طرح یہاں بھی عوامی مینڈیٹ کاخون ہوا ہے جس کی وجہ سے عوام او ریاستی حکمرانوں کے درمیان بااعتمادی اور بدگمانی اس درجہ بڑھ چکی ہے کہ کشمیر کی حکومت موجودہ بحران سے شائد ازخودنبرد آزما نہ ہوسکے۔
دریں حالات پاکستانی حکومت کو آگے بڑھ کر مسائل کو حل کرنے کی تدبیر کرنی چاہیے۔ فور ی طور پر ابتداء بھلے کشمیر سے ہو لیکن بتدریج پاکستان کے اپنے داخلی ایشوز خاص طور پر سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کیلئے تحریک انصاف کے ساتھ گفت و شنید اور بلوچستان اور کے پی کی بدامنی کے خاتمے کیلئے قومی اتفاق رائے سے ایک لائحہ عمل کی تشکیل ایسے ضروری اقدامات ہیں جن پر بلاتاخیر کام ہونا چاہیے ورنہ پاکستان کی سلامتی کو درپیش خطرات ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے چلے جائیں گے۔